یہ مسئلہ اسلئے بھی فکرمند کرتا ہے کہ بنگال کا لیفٹ آئیڈیالوجی کی جانب فطری جھکاؤ تھا مگر حالات تیزی سے بدلے اور اب یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ کیا بنگال ویسا رہ جائیگا جیسا تھا؟
EPAPER
Updated: May 13, 2026, 11:46 AM IST | Parvez Hafeez | Mumbai
یہ مسئلہ اسلئے بھی فکرمند کرتا ہے کہ بنگال کا لیفٹ آئیڈیالوجی کی جانب فطری جھکاؤ تھا مگر حالات تیزی سے بدلے اور اب یہ سوچنا پڑ رہا ہے کہ کیا بنگال ویسا رہ جائیگا جیسا تھا؟
۴؍مئی کو اسمبلی الیکشن کے نتائج کے اعلان کے بعدپچھلے چند روز میں مغربی بنگال میں جس طرح کی ڈرامائی تبدیلیاں نظر آرہی ہیں ان کو دیکھ کربرطانوی وزیر اعظم ہیرالڈ ولسن کا یہ قول یاد آرہاہے:’’ سیاست میں ایک ہفتہ ایک طویل عرصہ ہوتا ہے۔‘‘الیکشن میں ترنمول کانگریس کی شرمناک شکست، ممتا بنرجی کی سلطنت کا زوال، بھارتیہ جنتا پارٹی کا راج سنگھاسن پر قبضہ، پچھلے پیر سے جس دن نتائج کا اعلان ہوا تھا اس پیر تک جب میں یہ کالم لکھ رہا ہوں، بنگال کا سیاسی منظرنامہ اتنی تیزی سے بدلاہے کہ یہ یقین کرنا مشکل ہورہا ہے کہ ابھی چند روز قبل تک یہاں ترنمول کانگریس برسر اقتدار تھی اور ممتا بنرجی نریندر مودی اور امیت شاہ کو للکار رہی تھیں۔
انتخابی نتائج بلاشبہ چونکانے والے تھے۔ اپنی فتحیابی کا دیدی کواس قدر یقین کامل تھا کہ وہ اپنی شکست سے پوری طرح سکتے میں رہ گئیں۔ مروجہ پارلیمانی روایت کے برخلاف ممتا نے وزیر اعلیٰ کے عہدے سے یہ کہہ کر استعفیٰ دینے سے انکار کردیا کہ وہ اپنی شکست تسلیم نہیں کرتی ہیں۔ ان کے اس اقدام سے عوام میں یہ پیغام گیا کہ وہ ایک bad loser ہیں۔عبرت ناک شکست کے بعددیدی دراصل "denial mode" میں چلی گئیں۔ اگر کوئی شخص کسی غیر متوقع ناکامی یا گہرے صدمہ سے دوچار ہوتا ہے تواس کی اَنا اور وقار کواس ناکامی کے دردسے محفوظ رکھنے میں ’’انکار کی یہ کیفیت‘‘ نفسیاتی ڈھال کا کام کرتی ہے۔ ترنمول کانگریس کی اقتدار سے محرومی کا درد یقیناًکچھ کم ہوتا اگر ممتا خود اپنی بھوانی پور سیٹ نہیں ہارتیں۔مجھے لگتا ہے کہ ممتا کو یہ غم تاعمر ستائے گا کہ جس شوبھیندو ادھیکاری کو انگلی پکڑ کر انہوں نے سیاست کی زمین پر چلنا سکھایا تھا اسی کے ہاتھوں انہیں دو دوبار شکست کا سامنا کرنا پڑا۔
شوبھیندوایک ذہین اورچالاک چیلا تھے جنہوں نے اپنی سیاسی گرو سے وہ تمام داؤ پیچ سیکھ لئے جن کو استعمال کرکے ممتا نے بایاں محاذ جیسے طاقتوردشمن کو دھول چٹائی تھی۔ ممتا بنرجی کی طرح شوبھیندو کو بھی firebrand اورstreet-fighter جیسے القابات سے نوازا جاسکتا ہے کیونکہ وہ بھی ذراذرا سی بات میں طیش میں آکر لڑنے بھڑنے کے لئے تیار ہوجاتے ہیں۔
ممتا بنرجی کے تسلیم نہ کرنے سے یہ سچائی نہیں بدل سکتی ہے کہ بنگال کی باگ ڈور اب بی جے پی کے ہاتھوں میں جاچکی ہے۔اس الیکشن میں مودی جی اور امیت شاہ کا یہ سیاسی بیانیہ کہ اگرممتا کو نہیں ہٹایا تو بنگال میں بنگلہ دیشی اور روہنگیائی گھس پیٹھیوں کا سیلاب امڈ پڑے گا،پوری طرح کام کرگیا۔ممتا بی جے پی کو باہری لوگوں کی پارٹی قرار دے کر اسے بنگال کی تہذیب و تمدن اور زبان و ادب سے ناآشنا ہونے کا طعنہ دیتی رہیں اور ووٹرز لاکھوں کی تعداد میں انتخابی ریلیوں میں انہی بی جے پی لیڈروں کے بھاشن سننے کیلئے آتے رہے۔ ممتا نے مودی جی کے جھال موڑی کھانے کو سیاسی ناٹک کہا لیکن بنگالی عوام وزیر اعظم کی اس ادا پر فریفتہ ہوگئے۔ ممتا نے لوگوں کو یہ کہ کر ڈرایا کہ بی جے پی آئی تو گوشت مچھلی کھانے پر پابندی لگادیگی جواب میں بی جے پی لیڈر سڑکوں پر بیٹھ کر ماچھ بھات کھانے لگے۔بی جے پی کے تمام حربے کامیاب رہے اورترنمول کی تمام حکمت عملی ناکام۔
نصف صدی کے بعد بنگال اور مرکز میں ایک ہی پارٹی کی حکومت ہے یعنی مودی جی کے الفاظ میں ڈبل انجن والی سرکار ہے۔ پہلی بار بنگال میں ایسی حکومت قائم ہوئی ہے جس میں صوبہ کے ۲۸؍ فیصد آبادی والے گروپ کی نمائندگی کرنے والا کوئی نہیں ہے کیونکہ بی جے پی کے ۲۰۷؍ منتخب اراکین اسمبلی میں سے ایک بھی مسلم نہیں ہے۔ترنمول کانگریس کے ۸۰؍ ایم ایل اے میں سے۳۲؍ مسلم ہیں۔ دلچسپ لیکن تشویش کی بات یہ ہے کہ کانگریس کے دو، ہمایوں کبیر کی نومولود مسلم پارٹی کے دو، بایاں محاذ کا ایک اور انڈین سیکولرفرنٹ کا ایک ایم ایل اے بھی سب کے سب مسلم ہیں۔ بی جے پی کی بنگال کو مذہب کی بنیاد پر تقسیم کرنے کی چال کامیاب ہوگئی۔
بنگال اس وقت پوری طرح زعفرانی رنگ میں شرابور نظر آرہا ہے اوریہ ایک بالکل انوکھا نظارہ ہے۔ کمیونسٹ پارٹیوں کے طویل دور اقتدار میں کئی دہائیوں تک پورے صوبے میں ہر طرف سرخ رنگ کے پرچم اور بینرلہراتے تھے۔ سی پی آئی (ایم) سے اپنی طویل محاذآرائی کی وجہ سے ممتا سرخ رنگ کو خطرے کی علامت سمجھتی تھیں اسی لئے ۲۰۱۱ء میں ترنمول کانگریس کے اقتدار میں آتے ہی سارے بنگال کو دیدی کے پسندیدہ نیلے اور سفید رنگ میں ملبوس کردیا گیا۔ پچھلے ہفتے بی جے پی نے جیسے ہی بنگال فتح کیا کلکتہ شہر زعفرانی رنگ میں نہاگیا۔
بنگال میں پچھلے ہفتے صرف اقتدار کی منتقلی اور حکومت کی تبدیلی نہیں ہوئی ہے۔ بنگال کے لوگوں کے ذریعہ بی جے پی کا انتخاب صرف ان کی سیاسی پسندمیں آئی تبدیلی کی عکاسی ہی نہیں کرتا بلکہ یہ ان کے نظریاتی رویوں میں آئی تبدیلی کا بھی مظہر ہے۔میرے لئے سب سے زیادہ فکر مندی کی بات یہ ہے کہ بنگال جو لفٹ آئیڈیالوجی کی جانب اجتماعی جھکاؤ اور کشادہ دلی، روشن خیالی اوررواداری کے اپنے مخصوص اقدار کی وجہ سے شمالی ہند کے صوبوں سے منفرد تھا اب اپنی دیرینہ شناخت برقرار رکھ سکے گایا نہیں۔
ییہ بھی پڑھئے:انیس بزمی کی بغیر عنوان کی کامیڈی فلم۴؍ دسمبر۲۰۲۶ء کو ریلیز ہوگی
بنگال کی سیاست کا ایک خاص پہلو یہ ہے کہ کسی پارٹی کی حکومت اگر ایک بار ختم ہوجاتی ہے تو اس کی دوبارہ اقتدار میں واپسی تقریباً ناممکن ہوتی ہے۔ سی پی آئی(ایم) اور اس کی اتحادی جماعتوں کے محاذ کے ہاتھوں ۱۹۷۷ء میں سدھارتھ شنکر رائے کی قیادت والی کانگریس حکومت کے خاتمے کے بعد پچھلی نصف صدی سے کانگریس بنگال میں دوبارہ اپنے قدم نہیں جماسکی۔ ۲۰۱۱ء میں ممتا کے ہاتھوں بدھا دیب بھٹاچاریہ کی حکومت اکھاڑ پھینکے جانے کے بعد بایاں محاذ ۱۵؍ برسوں سے لگاتار اپنی بقا کی جنگ لڑرہا ہے۔ دیکھنا یہ ہے کہ کیا ترنمول کانگریس کی انتخابی شکست پارٹی کی شکست و ریخت میں تبدیل ہو جاتی ہے اور ممتا بنرجی سیاسی بن باس لے لیتی ہیں یاوہ بنگال کی سیاسی روایت سے انحراف کرکے ایک بار پھر کمر باندھ کر اپنی کھوئی ہوئی زمین واپس پانے کیلئے بی جے پی کیساتھ ایک نئی جنگ کا آغاز کرتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:آبنائے ہرمز کی بندش کے سبب ۴۵؍ ملین افراد کا غذائی تحفظ خطرے میں: اقوام متحدہ
پس نوشت: بیس سال پرانی فلم ’’اوم شانتی اوم‘‘کا یہ مکالمہ آج بھی کافی مقبول ہے :’’اگر کسی چیزکو شدت سے چاہو تو پوری کائنات اسے تم سے ملانے کی کوشش میں لگ جاتی ہے۔‘‘ مودی جی اور امیت شاہ کے دلوں میں طویل عرصے سے بنگال پر راج کرنے کی شدید چاہت تھی۔ اب اس میں شک و شبہ کی گنجائش نہیں رہی کہ اگر بی جے پی کسی صوبہ کو شدت سے چاہتی ہے تو پوری حکومتی مشنری، الیکشن کمیشن، آئینی ادارے اور مرکزی فورسیزاس صوبہ کو بی جے پی کی جھولی میں ڈالنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں۔