Inquilab Logo Happiest Places to Work

انڈیا اتحاد کس کی ضرورت؟

Updated: May 27, 2026, 12:27 PM IST | Inquilab News Network | Mumbai

’’انڈیا‘‘ اتحاد میں دوبارہ جان پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کا الیکشن ہارنے کے فوراً بعد جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہی تھی کہ ’’اب مَیں آزاد ہوں اور جو چاہوں کرسکتی ہوں۔‘‘

Mamata Banerjee.Photo:INN
ممتا بنرجی ۔ تصویر:آئی این این
’’انڈیا‘‘ اتحاد میں دوبارہ جان پڑتی دکھائی دے رہی ہے۔ ممتا بنرجی نے مغربی بنگال کا الیکشن ہارنے کے فوراً بعد جو باتیں کہیں اُن میں سے ایک یہی تھی کہ ’’اب مَیں آزاد ہوں اور جو چاہوں کرسکتی ہوں۔‘‘ اس میں شک نہیں کہ ممتا جارح سیاست کا بھرپور علامتی چہرا ہیں مگر ریاستی اقتدار سے بے دخلی کے بعد اُن کی شخصیت میں اُتنا وزن نہیں رہ گیا ہے جتنا کہ ۴؍ مئی سے پہلے تھا۔ اسی لئے اُن کی زبان سے ’’انڈیا‘‘ اتحاد کو ازسرنو تشکیل دینے کی بات میں بھی اُتنا وزن نہیں ہے جتنا اُس دور میں ہوتا جب یہ اتحاد تشکیلی دور میں تھا، یا، ملک کے عوام اس سے اُمیدیں وابستہ کئے ہوئے تھے۔ اس کی مدت ۴؍ مئی سے پہلے تک تھی۔ اب آپ اتحاد کے تانے بانے بُنیں یا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھے رہیں کوئی بڑا فرق نہیں پڑتا اس لئے کہ جو ہونا تھا ہو چکا ہے۔ 
 
 
مغربی بنگال کی ہار نے صرف ٹی ایم سی کو حاشئے پر نہیں لا دیا ہے بلکہ قومی سیاست میں اپوزیشن کی ساکھ بھی بُری طرح مجروح ہوئی ہے۔ اگر تمل ناڈو اور کیرالا کا نتیجہ ویسا نہ آتا جیسا کہ آیا ہے تو اپوزیشن کو منہ چھپانے کی جگہ نہ ملتی۔ یاد کیجئے ’’ایکلا چلو رے‘‘ کا نعرہ کس کا تھا؟۲۰۲۴ء کے لوک سبھا الیکشن کیلئے کانگریس بنگال میں ۱۰؍ سے ۱۲؍ سیٹیں چاہتی تھی۔ بعد میں اس نے ۶؍ سیٹوں پر سمجھوتہ کرنا چاہا مگر ممتا نے صرف دو سیٹوں (برہم پور اور مالدہ جنوبی) کی پیشکش کی۔ حقیقت یہی ہے کہ ممتا کی قیادت میں ٹی ایم سی بنگال میں کسی کو بھی موقع نہیں دینا چاہتی تھی۔ حالیہ اسمبلی الیکشن کیلئے بھی اسے اپنی سیاسی طاقت کا زعم تھا۔ یہ زعم غلط نہیں تھا۔ غلط یہ ہوا کہ ممتا ’’مخالف طاقت‘‘ کو سمجھنے میں چوک گئیں۔ اگر انہوں نے انڈیا اتحاد کی پروا تب کی ہوتی اور بی جے پی کا مقابلہ تنہا نہ کیا ہوتا بلکہ متحد ہوکر مقابلہ کرنے کی ضرورت محسوس کی جاتی جس میں ٹی ایم سی کے ساتھ لیفٹ پارٹیاں بھی ہوتیں اور کانگریس بھی تو بات دو سری ہوتی۔ہم یہ نہیں کہتے کہ ایسا ہوتا تو بی جے پی ہزیمت سے دوچار ہوتی۔ الیکشن کمیشن نے الگ ہی بساط بچھائی اور بی جے پی نے ہر ممکن حربہ آزمانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی مگر مل کر لڑنے سے ملک بھر کے عوام کے سامنے متحدہ اپوزیشن کی نہ صرف تصویر اُبھرتی بلکہ جو کام ممتا اب کرنے جارہی ہیں، اس کی داغ بیل پہلے ہی پڑ چکی ہوتی۔ 
 
 
اس ضمن میں ایک سوال بار بار سر اُبھارتا ہے کہ انڈیا اتحاد کس کی ضرورت ہے؟ ہمارے خیال میں یہ اس ملک کی اور اس کے عوام کی ضرورت ہے مگر اس میں شامل سیاسی جماعتیں اپنی محدود اور مفاد پرستانہ حکمت عملی سے باہر نہیں آنا چاہتیں۔ وہ اسے خاص موقعوں پر پہنا جانے والا ایسا لباس سمجھتی ہیں جسے چند گھنٹوں کیلئے پہن کر اُتار دیا جاتا ہے۔ہر پارٹی، اس اتحاد کے ذریعہ اپنے امکانات تلاش کرتی ہے جس سے اندرونی رسہ کشی اور انتشار پیدا ہوتا ہے اور اتحاد مذاق بن جاتا ہے۔ ۲۰۱۴ء کے بعد سے اب تک چاہے وہ ماقبل کا غیر منظم اتحاد ہو یا انڈیا اتحاد کے قیام کے بعد کا منظم اتحاد،غیر بی جے پی پارٹیاں مل جل کر بی جےپی سے لوہا لینے کے بجائے ایک دوسرے کو زیر کرنے پر دھیان دیا۔ اس مفاد پرستانہ اقدام سے کسی کو فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان اس حد تک بڑھاکہ علاقائی پارٹیوں کیلئے بقا کا مسئلہ پیدا ہوگیا۔ مہاراشٹر میں شیو سینا (اُدھو) اور این سی پی (اجیت)، بہار میں آر جے ڈی، دہلی میں عام آدمی پارٹی، بنگال میں ٹی ایم سی اور کئی ریاستوں میں لیفٹ کی مثال فوری طور پر ذہن میں آتی ہے۔ ایک دوسرے سے بدکنے والی پارٹیوں کو اب ایک دوسرے ہی کا سہارا ہے مگر کون سمجھائے!

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK