اب، دنیا کو بچانے سے پہلے، خود کو بچانا ضروری ہے۔ ہمارا طرز زندگی مکمل طور پر مشینوں پر منحصر ہو چکا ہے۔ ہر مشین کو زنگ لگ جاتا ہے، اسی طرح ہمارے جسم کو بھی۔
آلودگی اضافہ۔ تصویر:آئی این این
ماحولیات کے حوالے سے اب ہم چاہے جتنی قومی یا بین الاقومی کانفرنسیں منعقد کرلیں ، ہم اس بڑے نقصان سے نہیںبچ سکتے جوہمیںپہنچ چکا ہے یا مستقبل میں پہنچنے والا ہے۔ ہماری روزمرہ کی سرگرمیاں ماحولیاتی نظام کو تباہ کر رہی ہیں۔ اس کے پیچھے صرف ایک وجہ ہے: ضرورت سے زیادہ توانائی کا غلط استعمال۔ یہ سمجھنے کا وقت آگیا ہے کہ ہم صبح سے شام تک توانائی کس طرح ضائع کر رہے ہیں۔ آج فی کس بجلی کی کھپت۱۳۹۵؍کلو واٹ سالانہ ہے۔ اس کھپت سے جتنی توانائی کاربن میں تبدیل ہوتی ہے اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اگر ہر کلو واٹ استعمال پر۰ء۹؍ کلوگرام کاربن کا اخراج ہورہا ہے تو ہر شخص سالانہ ۱۲۹۵ء۵۵؍کلوگرام کاربن کے اخراج کا ذمہ دار ہوگا۔ ہم کس حد تک بجلی کا غلط استعمال کر رہے ہیں یہ ہم پر عیاں ہے۔ شہروں میں صبح۷؍بجے تک اسٹریٹ لائٹس جلتی رہتی ہیں یا گھروں میں دن کے وقت بھی بلب جلتے رہتے ہیں۔ بجلی کے استعمال کے ساتھ ساتھ ہم بڑی مقدار میں کاربن ڈائی آکسائیڈ جیسے زہریلے مواد کو ہوا میں چھوڑ رہے ہیں۔
آج، بہت سے گھریلو آلات مارکیٹ میں دستیاب ہیں جن کے استعمال سے نہ صرف ہماری جسمانی سرگرمیاں محدود ہوجاتی ہیںبلکہ ان سےبجلی کی کھپت بھی کافی بڑھ جاتی ہے۔ تنہا ایک کک ٹاپ(الیکٹرک چولہا) ایک ہزارواٹ بجلی استعمال کرتا ہے۔ کوئلے اور لکڑی کے چولہے کی جگہ ایل پی جی اور الیکٹرک انڈکشن نے لے لی ہے۔ ہمارا ان دنوں ریفریجریٹر کے بغیر بھی گزارہ نہیں ہے۔جبکہ ایک ریفریجریٹر سالانہ تقریباً۲۰۰؍ سے ۳۰۰؍کلوگرام کاربن فٹ پرنٹ تیار کرتا ہے۔ یہ بھی قابل غور ہے کہ ہم ڈیجیٹل دنیا میں رہتے ہیں۔ ای میل، ایس ایم ایس اور کالز ہمارے روز مرہ کے معمولات کا اٹوٹ حصہ بن چکے ہیں(جو ڈیٹا پر چلتے ہیں) ۔ ڈیٹا کو ذخیرہ کرنے کیلئے لاکھوں لیٹر پانی کی ضرورت ہوتی ہے، کیونکہ ڈیٹا سینٹرز انتہائی گرم ہو جاتے ہیں اور انہیں ٹھنڈا رکھنے کیلئے پانی درکار ہوتا ہے۔
یہ ڈیجیٹل دنیا بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا ایک بڑا ذریعہ بھی بن چکی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ ہم جو بھی ای میل بھیجتے ہیں وہ تقریباً ۴؍ گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا میں چھوڑتا ہے۔ اگر اس ای میل کے ساتھ کوئی منسلکہ(اٹیچمنٹ) بھیجا جائے تو یہ اخراج تقریباً۲۰؍ سے۵۰؍ گرام تک بڑھ سکتا ہے۔ مزید برآں، ہمارے موبائل فونز پر جنک میل سالانہ تقریباً۰ء۳؍گرام کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اضافہ کرتے ہیں۔ ایک ٹیلی ویژن اپنی پوری زندگی کے دوران ماحول میںتقریباً۱۰۰؍ سے۳۰۰؍کلوگرام کاربن فٹ پرنٹ کا حصہ ڈالتا ہے۔ ایک وائی فائی راؤٹر اپنی پوری زندگی کے دوران ماحول میں تقریباً۵۰؍سے۱۰۰؍کلوگرام کاربن فٹ پرنٹ جاری کرتا ہے۔ ڈیسک ٹاپ کمپیوٹر کے استعمال سے تقریباً۳۰۰؍ سے۶۰۰؍ کلوگرام کاربن ڈائی آکسائیڈ فضا کا حصہ بنتی ہے۔
ڈبلیو ایم او نے بھی کہا ہے کہ کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کی وجہ سےدرجہ حرارت اور زمین کا موسمی نظام شدید متاثر ہورہا ہے ۔یہی وجہ ہےکہ موسم کا مزاج تیزی سے بدلنے کانیا رجحان سامنے آرہا ہے ۔ اسی کے پیش نظر گرین ہاؤس گیسوں کے اخراج میں کمی صرف موسمی حالات کے لیے ہی نہیں بلکہ معیشت اور معاشرتی فلاح کے لیے بھی ضروری قراردی جارہی ہے۔
اگر ٹریفک مینجمنٹ بہتر نہ ہو تو ٹریفک جام میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں بھی کاربن ڈائی آکسائیڈ کے اخراج میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔ یہاں تک کہ جب گاڑیاں کھڑی رہتی ہیں اور ان کے انجن بند نہ ہوں تب بھی وہ کاربن ڈائی آکسائیڈ کا اخراج جاری رکھتی ہیں۔ یہ گلوبل وارمنگ کی ایک بڑی وجہ ہے۔ اگر ہم اپنے طرز زندگی کے دیگر پہلوؤں، خاص طور پر صنعتوں اور ان کی مصنوعات پر غور کریں تو ان میں سے ہر ایک کا اپنا کاربن فوٹ پرنٹ ہے۔ ہماری روزمرہ کی ضروریات سے متعلق مختلف صنعتیں کاربن فوٹ پرنٹ میں تقریباً ۲۹ء۴؍فیصد حصہ ڈالتی ہیں۔ مینوفیکچرنگ کا حصہ تقریباً۲۱ء۶؍ فیصد، ٹرانسپورٹ۱۵ء۹؍ فیصد اور زراعت کا حصہ۱۱ء۷؍ فیصد ہے۔
ایک اور سنگین مسئلہ بلیک کاربن سے متعلق ہے۔ جب پہاڑی علاقوں میں گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگتی ہیں تو یہ سیاہ کاربن گلیشیرز پر جمع ہو تا ہے جس سے ان کی کارکردگی خراب ہو جاتی ہے۔ اس کی وجہ سے ہوتا یہ ہےکہ برف سورج کی روشنی کو منعکس کرنے کے بجائے جذب کر لیتی ہے، جس سے بلندی پر بھی گلوبل وارمنگ کے اثرات بڑھ جاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آرکٹک اور انٹارکٹک جیسے خطوں میں جہاں پہلے زندگی کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا تھا، اب زندگی کے آثار نظر آ رہے ہیں۔ یہ ہمارے لئے ایک ویک اپ کال ہے۔
دنیا کے ہر فرد کے کاربن فٹ پرنٹ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ جتنا بڑا ملک اتنا ہی بڑا کاربن فٹ پرنٹ۔ اگر ہم بجلی کی کھپت کی بنیاد پر امریکہ، چین اور ہندوستان کا موازنہ کریں تو امریکہ سرفہرست ہے، چین دوسرے نمبر پر ہے اور ہندوستان بھی پیچھے نہیں ہے۔ ہندوستان کی جی ڈی پی تیزی سے بڑھ رہی ہے لیکن یہ سبھی سمجھنا ضروری ہےکہ اس ترقی کیلئے ہم کیا قیمت ادا کررہے ہیں۔ ہمارا طرز زندگی جورخ اختیار کر رہا ہے اس سے مکمل طور پر چھٹکارا حاصل کرنا آسان نہیں ہے۔لیکن اگر ہم بجلی کے استعمال کو کم کریں، اسے محدود کرنا سیکھیں اور اسے بچانے کی فکر اور مشق کریں تو شاید ہم وقت پر خود کو بچا سکیں۔ اب، دنیا کو بچانے سے پہلے، خود کو بچانا ضروری ہے۔ ہمارا طرز زندگی مکمل طور پر مشینوں پر منحصر ہو چکا ہے۔ ہر مشین کو زنگ لگ جاتا ہے، اسی طرح ہمارے جسم کو بھی ۔ جس طرح ہر کھانے پینے کی چیزوںپر کیلوریز کی مقدار لکھی جاتی ہے اسی طرح اگر ہر پروڈکٹ پر یہ درج ہو کہ اس کے استعمال سے کتنا کاربن خارج ہوتا ہے تو شایدتبدیلی کی شروعات ہوسکتی ہے۔ قدرت کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا ہے اور اس نے اپنا رویہ بدلنا شروع کر دیا ہے۔ اگر ہم اب بھی نہ سمجھیں توبعید نہیںکہ ہمیں بھاری قیمت چکانی پڑے۔