Inquilab Logo Happiest Places to Work

لکھنؤ کی تاریخی کسمنڈی مسجد و مقبرہ پر پاسی سماج کا دعویٰ، بھگوا عناصرکی شر انگیزی

Updated: May 27, 2026, 12:08 PM IST | Mohammad Aamir Nadvi | Lucknow

دور دراز سے پہنچنے والے شرپسندوں نے زبردستی ہنومان چالیساپڑھنے کی کوشش کی، پولیس نے روکا، مسلمانوں نے فی الحال نماز نہ پڑھنے کافیصلہ کیا۔

Police Deployed Around Kasmandi Mosque And Tomb.Photo:INN
کسمنڈی مسجد و مقبرہ کے آس پاس پولیس تعینات ہے۔ تصویر:آئی این این
اتر پردیش کے دارالحکومت لکھنؤ کی  ملیح آباد تحصیل  کے تحت کسمنڈی کلاں میں  واقع مقبرہ  ومسجد شرپسندوں کا نیا نشانہ بنی ہے۔ پاسی سماج نے دعویٰ کیا ہے کہ یہ مہاپرتاپی راجا کنس پاسی کا قلعہ اور قدیم شیو مندر تھا۔ یہ دعویٰ کرنےوالے مقامی افراد نہیں ہیں بلکہ  دور دراز کے شرپسندہیںجنہوں  نے منگل کو پھر موقع پر پہنچ کر ہنگامہ آرائی کی ۔ واضح رہے کہ اس تاریخی مسجد  میں پابندی سے نماز نہیں ہوتی تھی، آس پاس کچھ مسلمانوں کے گھر ہیں جو یہاں جمعہ کی نماز اد اکرتے تھے،تاہم ۲۳؍ مئی  سے بھگوا عناصر کی شرانگیزی کے بعد مقامی مسلمانوں نے یہاں  فی الحال نماز نہ پڑھنے کافیصلہ کیا ہے۔ 
  منگل کومتعدد ہندو تنظیموںکی جانب سے مسجد میں  ہنومان چالیسا پڑھنے کا اعلان کیا گیا تھا۔اس کے پیش نظر کچھ لوگوں کو نظر بند بھی کیاگیا مگر بڑی بھیڑ پوجا کیلئے پہنچے جو بیرکیڈنگ کو عبور کر کے مسجد میں  داخل ہوگئی ۔ بعد میں پولیس کے ذریعہ روکے جانے پر انہوں نے مسجد کے باہر ہنومان چالیسا پڑھا۔ پولیس نے مقبرہ و مسجد کی جانب جانے والے راستے کو بند کر دیا ہے ۔ 
 
 
بھگوا عناصر نے وزیراعلیٰ کیلئےمیمورنڈم بھی پولیس افسران کو سونپا، جس میں مقبرہ و مسجد کی جانچ اے ایس آئی سے کرانے کا مطالبہ  ہے۔ ہندوتو لیڈران نے انتباہ دیا کہ یہاں نماز شروع کرنے والوں پر کارروائی کی جائے ،ورنہ بڑے پیمانے پر تحریک چلائیںگے ۔ 
 
 
دوسری جانب، مقامی باشندے لقمان علی نے بتایاکہ مسجد و مقبرہ بہت قدیم  ہے ، یہاں کبھی کوئی تنازع نہیں رہاہے ۔ ریونیو ریکارڈ میں گاٹا نمبر ۱۰۱۶؍پرمسجد و مقبرہ درج ہے ۔ نقشہ پر بھی مسجد و مقبرہ موجود ہے ، مقامی لوگوں کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ باہر سے آکر لوگ ماحول خراب کررہے ہیں۔ انہوں نے بتایاکہ پیر کو مقامی لوگوں کے ساتھ پولیس افسران نے میٹنگ کی تھی  جس میں  ہندوؤ ں نے کہاتھا کہ مقبرہ و مسجد سے انہیں کوئی اعتراض نہیں ہے ۔ کم لوگ آنے کے سبب پولیس نے منگل کو دوبارہ میٹنگ طلب کی تھی ، لیکن دوپہر سے ہی یہاں ہنگامہ شروع ہوگیا۔

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK