جمعیۃ علمائے ہند نے کامیاب پیروی کی، سیشن کورٹ میں ہی اے ٹی ایس کو منہ کی کھانی پڑی، ثبوت پیش نہیں کرسکی۔
مولانا عبدالرحمٰن کٹکی کی بے گناہی ثابت ہوگئی ہے۔تصویر:آئی این این
دہشت گرد تنظیم ’القاعدہ ‘ سے وابستہ ہونے اور بر صغیر ہندو پاک میں اس کی سرگرمیوں کو توسیع دینےجیسے انتہائی سنگین الزامات عائد کرکے گرفتار کئے گئے مشہور عالم دین مولانا عبدالرحمٰن کٹکی کو خصوصی سیشن کورٹ نے بری کردیا ہے۔ تفتیشی ایجنسی نے مولانا کی گرفتاری کے بعد پریس کانفرنس میں انہیں خونخوار دہشت گرد بنا کر پیش کیا اور خوب سرخیاں بٹوریں مگر عدالت میں ثبوت پیش نہیں کرسکی۔اس البتہ مولانا کو ۱۰؍ سال بغیرضمانت ملے ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹنی پڑی۔
گزشتہ ماہ سپریم کورٹ نے مولانا عبدالرحمٰن کٹکی کی ضمانت کی عرضی کی سرکاری وکیل کی مخالفت پر ضمانت تو نہیں دی مگر سیشن کورٹ کو مقدمہ کی شنوائی دو ماہ میں مکمل کرنے کی سخت ہدایت دی تھی۔ اس کے بعدسیشن کورٹ نے گواہوں کے بیان درج کرنے شروع کئے اور فیصلہ محفوظ کرلیا تھا۔ مولانا عبدالرحمن کٹکی کے مقدمہ کی پیروی جمعیۃ علماء مہاراشٹرقانونی امداد کمیٹی نے سیشن عدالت سے لے کر سپریم کورٹ تک کی۔ القاعدہ سے مبینہ تعلق کے الزامات میں مولانا پر دہلی، جمشید پور اور کٹک میں تین علاحدہ مقدمات درج کئے گئے تھے۔ سپریم کورٹ کی ہدایت پر تیز رفتار شنوائی کے بعد مقدمہ کی سماعت میں تیزی آئی اور منگل کو عدالت نے فیصلہ صادر کرتے ہوئے انہیں بری کردیا۔ جمعیۃعلماء ہند کے صدرمولانا ارشدمدنی نے کہا ہے کہ اس فیصلے سے ایک بار پھر یہ ثابت ہوگیاکہ کسی ثبوت کے بغیر دہشت گردی کے الزام میں گرفتار کرکے مسلم نوجوانوں کی زندگیو ں کو تباہ کیا جا رہا ہے ۔