Inquilab Logo Happiest Places to Work

اب تک کے ۳۸؍ دن میں کون جیتا؟

Updated: April 08, 2026, 11:38 AM IST | Inquilab News Network

کیا ایران جنگ جلد ختم ہوگی؟ اس کا جواب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تو نہیں ملتا البتہ ایران کے سرکاری بیانات سے یہ مفہوم برآمد ہوتا ہے کہ اس کا ارادہ جلد ختم کرنے کا نہیں ہے۔ تہران کا بہت صاف اور واضح موقف یہ ہے کہ امریکہ اُس کی شرطیں مان لے ورنہ طویل عرصے تک جنگ لڑنے کیلئے تیار رہے۔

Iran And America.Photo:INN
ایران اور امریکہ۔ تصویر:آئی این این
کیا ایران جنگ جلد ختم ہوگی؟ اس کا جواب امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے تو نہیں ملتا البتہ ایران کے سرکاری بیانات سے یہ مفہوم برآمد ہوتا ہے کہ اس کا ارادہ جلد ختم کرنے کا نہیں ہے۔ تہران کا بہت صاف اور واضح موقف یہ ہے کہ امریکہ اُس کی شرطیں مان لے ورنہ طویل عرصے تک جنگ لڑنے کیلئے تیار رہے۔ طویل عرصہ جنگ جاری رہی تو بلاشبہ ایران نقصان اُٹھائے گا مگر امریکہ اور اسرائیل کو تگنی کا ناچ نچاکر رہے گا۔ جنگ کو بھی ۳۵۔۴۰؍ دن ہوئے ہیں اور امریکی صدر گالم گلوج پر اُتر آئے ہیں۔ اس سے اندازہ کرنا مشکل نہیں کہ امریکی صدر انتشارِ ذہنی میں مبتلا ہیں، اُن کیلئے جنگ بندی کا یکطرفہ اعلان بھی ممکن نہیں ہے کہ بُری طرح ناک کٹ جائیگی اور طویل عرصہ تک جاری رکھنا بھی ممکن نہیں ہے کہ امریکہ سمیت پوری دُنیا کی معیشت نئے خطرات سے دوچار ہوگی اور آبنائے ہرمز کے بند رہنے سے بالخصوص ایندھن کی قلت ناگفتہ بہ حالات پیدا کردے گی ۔
 
 
اب تک کی جنگ میں ایران نے خود تو کافی کچھ سہا ہے مگر امریکہ اور اسرائیل کو بھی خاصا نقصان پہنچایا ہے۔ امریکہ درمیان میں نہ ہوتا تو اسرائیل کا وجود خطرہ میں آچکا ہوتا۔ یہاں یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ اسرائیل اور امریکہ یہ دو ملک مل کر ایران سے لڑ رہے ہیں۔ اس کا معنی یہ ہے کہ ایران بیک وقت دو ملکوں کیلئے چیلنج بنا ہوا ہے۔ اگر اس میں قطر، سعودی، کویت اور بحرین کو بھی شامل کرلیا جائے تو ایران کے حوصلے کی داد دیئے بغیر نہیں رہا جاسکتا کہ تہران اتنے ملکوں سے تنہا لوہا لے رہا ہے اور شجاعت کی تاریخ لکھنے کیلئے ہنوز کمربستہ ہے۔ بعض ماہرین نے ۲۷؍ مارچ کی رائٹرس کی ایک خبر کے حوالے سےلکھا ہے کہ امریکی انٹلی جنس کے پانچ ذرائع بیک وقت یہ انکشاف کرچکے ہیں کہ ایران کا میزائل کا صرف ایک تہائی ذخیرہ اب تک تباہ ہوا ہے یعنی دو تہائی ابھی محفوظ ہے جو اُسے جنگ کو طویل دینے کی ہمت اور حوصلہ دے گا۔ 
 
 
ہمارے پاس یہ اطلاع نہیں ہے کہ ایران یومیہ کتنا خرچ اُٹھا رہا ہے مگر اسرائیل اور امریکہ کے جنگی اخراجات کی خبر کئی حوالوں سے منظر عام پر آچکی ہے۔ اسرائیل ۹۶؍ ملین ڈالر یومیہ خرچ کرنے پر مجبور ہے جبکہ امریکہ ایک ارب ڈالر روزانہ خرچ کرنے پر۔ جنگی اخراجات پر نگاہ رکھنے والوں کا کہنا ہے کہ گزشہ ۳۷؍ دن میں امریکہ کو ۴۰؍ ارب ڈالر جیسی خطیر رقم کی چپت لگ چکی ہے۔ شاید اسی لئے مسٹر ٹرمپ اتنے بوکھلائے ہوئے ہیں کہ اُن کی زبان سے گالیاں نکل رہی ہیں۔ جب گالیاں نہیں نکلتیں تب وہ یا تو مضحکہ خیز حرکتیں کرتے ہیں یا پرانی دھمکیوں کو عمل میں لانے کی جرأت کئے بغیر نئی دھمکیوں پر اُتر آتے ہیں۔اُن کی بے بسی کا اندازہ اُس اقدام سے بھی ہوا جس کے تحت اُن کے وزیر دفاع نے ایسے وقت میں، جب جنگ شدید کارروائی اور جوابی کارروائی کے دور میں ہے، تین اہم فوجی (رینڈی جارج، ولیم گرین اور ڈیوڈ روڈنی) عہدیداروں کو برطرف کیا جن میں اول الذکر چیف آف آرمی تھے۔ اس طرح، ایران کیلئے یہ قابل ستائش ہے کہ اگر آج جائزہ لیا جائے کہ جنگ میں کون کہاں کھڑا ہے تو بآسانی کہا جاسکتا ہے کہ اب تک کا فاتح تہران ہے اور اسرائیل و امریکہ مفتوح۔ تیس سال کی تیاری کے ساتھ ایران آخر تک غیر مفتوح رہے گا اس امکان سے کسی کو اختلاف نہیں ہوسکتا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK