Updated: April 08, 2026, 1:09 PM IST
| Mumbai
ریزروبینک آف انڈیا(آر بی آئی) نے بدھ کو مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ءکے لیے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح ۶ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ ربیع فصل کی اچھی پیداوار سے غذائی سپلائی بہتر ہونے کی امید ہے، جس سے بین الاقوامی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود کچھ راحت مل سکتی ہے۔
ریزروبینک آف انڈیا(آر بی آئی) نے بدھ کو مالی سال۲۷۔۲۰۲۶ءکے لیے صارف قیمت اشاریہ (سی پی آئی) پر مبنی مہنگائی کی شرح ۶ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ ظاہر کیا ہے۔ ربیع فصل کی اچھی پیداوار سے غذائی سپلائی بہتر ہونے کی امید ہے، جس سے بین الاقوامی بازار میں تیل کی بڑھتی قیمتوں کے باوجود کچھ راحت مل سکتی ہے۔
آر بی آئی کے گورنرسنجے ملہوترا نے کہاکہ ’’عالمی توانائی قیمتوں میں اضافے کا اثر پریمیم پیٹرول، ایل پی جی اور صنعتی استعمال کے ڈیزل جیسے ایندھن پر دیکھا گیا ہے۔ وہیں اچھی ربیع فصل سے قریبی مستقبل میں غذائی سپلائی بہتر رہنے کی امید ہے، جس سے کچھ راحت ملے گی۔‘‘ انہوں نے بتایا کہ مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء کے لیے سی پی آئی مہنگائی کا اندازہ ۶ء۴؍ فیصد ہے، جس میں پہلی سہ ماہی میں۰ء۴؍ فیصد، دوسری میں ۴ء۴؍ فیصد، تیسری میں ۲ء۵؍فیصد اور چوتھی سہ ماہی میں ۷ء۴؍ فیصد رہنے کا امکان ہے۔ تاہم، مغربی ایشیا میں جاری تنازع کے باعث توانائی کی قیمتوں میں مسلسل اضافہ اور ممکنہ ایل نینو جیسے موسمی حالات مہنگائی کو بڑھانے کا خطرہ پیدا کر سکتے ہیں۔
ملہوترا نے کہا کہ کور مہنگائی (جس میں خوراک اور ایندھن شامل نہیں ہوتے) مالی سال ۲۷۔۲۰۲۶ء میں ۴ء۴؍ فیصد رہنے کا اندازہ ہے۔ قیمتی دھاتوں کو چھوڑ کر یہ اور بھی کم ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اندرونی مہنگائی دباؤ فی الحال قابو میں رہ سکتا ہے۔
انہوں نے یہ بھی کہا کہ پچھلی مانیٹری پالیسی میٹنگ کے بعد جیو پولیٹیکل غیر یقینی صورتحال کافی بڑھ گئی ہے۔ فی الحال مجموعی مہنگائی کی شرح ہدف سے نیچے ہے، لیکن توانائی کی قیمتوں اور موسمی خطرات کے باعث آگے مہنگائی بڑھ سکتی ہے۔ اگرچہ کور مہنگائی کا دباؤ ابھی کم ہے، لیکن سپلائی چین میں رکاوٹیں اور دوسرے مرحلے کے اثرات مستقبل کی مہنگائی کو غیر یقینی بنا سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:اسلام آباد میں جمعہ کوامریکہ کے ساتھ ایران مذاکرات کا آغاز کرے گا
آر بی آئی گورنر نے کہا کہ فروری ۲۰۲۶ء تک کے ہائی فریکوئنسی اشاروں سے معلوم ہوتا ہے کہ معیشت میں مضبوط رفتار برقرار ہے۔ نجی کھپت اور سرمایہ کاری کی مانگ سے ترقی کو سہارا مل رہا ہے۔لیکن مغربی ایشیا کا تنازع اقتصادی ترقی پر اثر ڈال سکتا ہے۔ توانائی قیمتوں میں اضافہ، بین الاقوامی مال برداری اور انشورنس لاگت میں اضافہ، اور سپلائی چین میں رکاوٹیں کئی صنعتوں کے لیے ضروری خام مال کی دستیابی کو متاثر کر سکتی ہیں۔ حکومت نے برآمدات کو سہارا دینے اور سپلائی چین کو محفوظ رکھنے کے لیے کئی اقدامات کیے ہیں، جس سے اس بحران کے اثر کو کسی حد تک کم کیا جا سکتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے:ایران جنگ کے اثرات: امریکہ کے میزائل ذخائر میں کمی سنگین چیلنج
ملہوترا نے کہا کہ مانیٹری پالیسی کمیٹی (ایم پی سی) نے مانا ہے کہ مغربی ایشیا میں تنازع کی شدت اور مدت، اور توانائی و دیگر انفراسٹرکچر کو پہنچنے والے نقصان سے مہنگائی اور ترقی دونوں پر خطرہ بڑھ گیا ہے۔تاہم، ہندوستانی معیشت کے بنیادی پہلو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، جس سے یہ جھٹکوں کو برداشت کرنے میں زیادہ قابل ہے۔