ہمارے ملک میں ایسے لوگ تو ہیں ہی جن کی آواز سنی نہیں جاتی مگر ایسے بھی ہیں جن کی آواز دَب جاتی ہے یا دبا دی جاتی ہے۔ کوئی اُس آواز کو دور تک جانے ہی نہیں دیتا۔ کون سی آواز سنی جائے گی، کون سی نہیں سنی جائیگی اور کون سی دبا دی جائیگی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آواز کس کی ہے۔
ہمارے ملک میں ایسے لوگ تو ہیں ہی جن کی آواز سنی نہیں جاتی مگر ایسے بھی ہیں جن کی آواز دَب جاتی ہے یا دبا دی جاتی ہے۔ کوئی اُس آواز کو دور تک جانے ہی نہیں دیتا۔ کون سی آواز سنی جائے گی، کون سی نہیں سنی جائیگی اور کون سی دبا دی جائیگی اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آواز کس کی ہے۔ اگر ایسے طبقے کی ہے جو کمزور ہے، حاشئے پر ہے، جس کی سیاسی طاقت نہیں ہے یا طاقت ہے مگر منتشر ہے تو اس کی آواز کا دور تک کیا، قریب تک پہنچنا بھی مشکل ہے۔ یہی آج کے دور کی حقیقی کہانی ہے۔ اب وہ دور نہیں جب اہل اقتدار ایک ایک شہری کو خوش اور مطمئن دیکھنے کی خاطر ہر ایک کی آواز سننا چاہتے تھے اور ضروری فیصلے کرتے تھے۔
چھتیس گڑھ کے نیا رائےپور کے ایک دھرنا استھل پر پچھلے پچاس سے زائد دنوں سے وہ خواتین دھرنا دے رہی ہیں جو بڑی محنت سے مڈڈے میل تیار کرتی ہیں اور محنتانہ کے طور پر اُنہیں یومیہ چھیاسٹھ اور ماہانہ دو ہزار روپے ملتے ہیں ۔ یہ خواتین چھتیس گڑھ اسکول مدھین بھوجن (مڈڈے) رسوئیا سنیکت سنگھ کے بینر تلے دھرنا دے رہی ہیں جس سے ریاست کی کم و بیش ۸۷؍ ہزار خواتین وابستہ ہیں ۔ ان کا مطالبہ ہے کہ اُن کا یومیہ محنتانہ جو صرف ۶۶؍ روپے ہے، ۳۵۰؍ تا ۴۰۰؍ روپے کردیا جائے، جو ملازمین جزوقتی ہیں اُنہیں کل وقتی کیا جائے اور اگر اسکولوں میں طلبہ کم ہیں (اور کھانا کم پکتاہے) تو رسوئیوں کو نوکری سے برخاست نہ کیا جائے۔ کیا یہ مطالبات جائز نہیں ۔ مگر ان سطروں کے ضبط تحریر میں لانے تک ۵۵؍ دن گزر گئے اور کسی نے اُن کی فریاد سننے کی طرف توجہ نہیں دی۔ ۱۳؍ فروری کو ’’دی ہندو‘‘ میں چھپی اس خبر کے مطابق دھرنا استھل پر بیٹھی خواتین میں سے ۲؍ کی موت ہوچکی ہے کیونکہ جنوری میں سخت سردی کے باوجود اُنہوں نے ہمت نہیں ہاری اور دھرنا چھوڑ کر گھر نہیں گئیں ۔ اُن کا کہنا تھا کہ ایسے بھی مرنا ہے اور ویسے بھی مرنا ہے، پھر کیوں دھرنا ترک کردیں ۔
یہ وہ خواتین ہیں جن کے گھروں میں اخراجات ہیں ۔ بچے پڑھ رہے ہیں ۔ اُن کے، تعلیم اور صحت سے متعلق اُمور کیلئے پیسوں کی ضرورت ہوتی ہے اور اگر اتنی کم رقم محنتانے کے طور پر ملے گی جو کہ اقل ترین اُجرت سے بھی کم ہے، تو اُن کا گزارا کیسے چلے گا۔ ہم تو کہتے ہیں کہ گزارے سے زیادہ اہم ہے انصاف کے تقاضے کا پورا کیا جانا۔ کیا چھتیس گڑھ سرکار یہ سمجھتی ہے کہ اتنی محنت کرنے والی خواتین کو صرف ۶۶؍ روپے یومیہ ملنا چاہئے؟ سرکاری محکموں میں کتنے کارکنان ایسے ہوتے ہیں جو نہ تو کام کرتے ہیں نہ اُن سے جواب طلب کیا جاتا ہے اس کے باوجود اُنہیں موٹی رقم ہر ماہ بطور تنخواہ ملتی ہے۔ سرکاری محکموں ہی کی خبریں آئے دن منظر عام پر آتی ہیں کہ ایسے ملازمین پائے گئے ہیں جن کا حاضری رجسٹر میں دستخط تو ہے مگر وہ حاضری نہیں دیتے۔ یہ خواتین کام نہ کریں تو اسکولی طالب علموں کو کھانا نہ ملے اور بھوکا ہی رہنا پڑے۔ تب وہ سلسلۂ تعلیم منقطع کرلیں گے۔ اس اسکیم کے سبب بہت سے بچے اسکول میں حاضر ہوتے ہیں ورنہ اُن کی گنتی ڈراپ آؤٹس میں ہو اور وہ بچہ مزدوری کرتے دکھائی دیں ۔ اس اسکیم کی وجہ سے دیہی اسکولوں میں حاضری خاطرخواہ رہتی ہے۔ حکومت، ان خواتین کو روٹی بیلنے والا سمجھ رہی ہے جبکہ یہ سماج کی محسن ہیں ۔ چھتیس گڑھ سرکار کو ان کی سننی ہی چاہئے۔