شیخ احمد صاحب اپنی ذات میں ممبئی کے اردو ڈرامے کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے، مضمون میں انہیں خراج عقیدت پیش کیا گیا ہے۔
مضمون نگار اور مشہور ڈراما نگار مجیب خان (مائیک پر ) شیخ احمد (مرحوم ) کے ساتھ ایک ڈرامے کے دوران
ہمیں یاد نہیں کہ اُس وقت ہماری عمر کیا رہی ہوگی، البتہ اتنا ضرور یاد ہے کہ وہ تھیٹر بھارتیہ ودیا بھون تھا، جہاں امتیاز علی تاج کا شہرۂ آفاق ڈرامہ ’’انارکلی‘‘ پیش کیا گیا تھا۔ اس کے ہدایت کار قادر خان صاحب تھے۔ افسوس کہ اس ڈرامے کی اُس کے بعد دوبارہ کبھی پیش کش نہ ہو سکی۔
ہمارے بڑے بھائی مومن خان صاحب، قادر خان صاحب کے رفیقِ کار تھے۔ اُن کے ڈرامے ممبئی میں مسلسل پیش کئے جاتے تھے اور ہماری پوری فیملی تقریباً ہر پیشکش میں شریک ہوتی تھی۔ یوں ہمارا بچپن قادر خان صاحب کے ڈرامے دیکھتے ہوئے گزرا۔ بعد ازاں جب صابو صدیق اسکول میں داخلہ لیا تو قادر خان صاحب کی ہدایت میں کام کرنے کا شرف بھی حاصل ہوا۔
اُس زمانے میں فصیح احمد صدیقی اردو ڈرامے کا ایک نہایت معتبر نام تھے۔ وہ صوفیہ کالج میں تدریسی خدمات انجام دیتے تھے اور اُن کے
ڈراموں کے کئی مجموعے بھی شائع ہو چکے تھے۔ ایک دو مرتبہ اُن سے ملاقات ہوئی، مگر انہوں نے ہمیں بچہ سمجھ کر زیادہ اہمیت نہ دی، اور ہم بھی انہیں ایک بزرگ ادیب اور متعدد کتابوں کے مصنف کی حیثیت سے اس قدر احترام کی نگاہ سے دیکھتے تھے کہ لب کشائی کی جسارت نہ کر سکے۔اُس دور کے بیشتر بزرگ اپنے وسیع تجربے، علم اور پُررعب شخصیت کے باعث ایسا اثر قائم رکھتے تھے کہ کم ہی لوگ اُن کے سامنے بے تکلف ہو پاتے تھے۔ انہی دنوں عبدالعلیم صاحب کا نام بھی سنا، جو اردو ڈرامے کی دنیا کی ایک اہم شخصیت تھے۔ غالباً وہ بھنڈی بازار میں باٹا اسٹور کے اوپر رہتے تھے، لیکن اُن سے ملاقات کا اتفاق نہ ہو سکا۔
پھر استادِ محترم شیخ احمد صاحب سے ملاقات ہوئی تو یوں محسوس ہوا جیسے اردو ڈرامے کے کئی ادوار کا ایک ساتھ مشاہدہ کر لیا ہو۔ شیخ صاحب اپنی ذات میں ممبئی کے اردو ڈرامے کا چلتا پھرتا انسائیکلوپیڈیا تھے۔ وہ اردو اسٹیج کے ایسے ایسے واقعات اور حکایات سناتے کہ محسوس ہوتا، گویا ہم بھی اُن داستانوں کے کردار ہیں۔انہی کی زبانی پہلی مرتبہ سعادت حسن منٹو کے ڈرامے ’’اس منجدھار میں‘‘ کے بارے میں معلوم ہوا۔ علیق پدمسی، شوکت کیفی، سراج برما والا، سراج تھانہ والا اور اردو کے ممتاز ڈرامہ نگار رفعت شمیم سے بھی گویا اُن کی گفتگو کے ذریعے غائبانہ ملاقات ہوئی۔ کلثوم ٹیرس (علیق پدمسی کے آبائی مکان) میں ہونے والی ریہرسل کی روداد سنی، اپٹا کے ڈراموں، عوامی ادارے کی سرگرمیوں، ساحر لدھیانوی، مجروح سلطانپوری، کیفی اعظمی اور علی سردار جعفری کے یادگار مشاعروں کا احوال اُن کے منفرد اندازِ بیان میں سننے کا موقع ملا۔ مدن پورہ کے شب و روز سے بھی اُنہی کی بدولت آشنائی ہوئی۔
شیخ صاحب ہمارے جوش و جذبے کے بڑے معترف تھے۔ وہ ہر موقع پر بڑے بھائی کی طرح ہماری حوصلہ افزائی کرتے اور بے حد شفقت سے پیش آتے۔ جب بھی اُن سے ملاقات ہوتی، وہ اس تپاک سے ملتے جیسے مدت سے ہمارا انتظار کر رہے ہوں۔اُن سے آخری ملاقات آئیڈیا کے سلور جوبلی بین المدارس ڈرامائی مقابلے میں ہوئی تھی۔ اسٹیج پر عالیہ کا ذکر کرتے ہوئے اُن کی آنکھیں نم ہو گئیں۔ وہ عالیہ کو اپنی بیٹی کہا کرتے تھے اور ہمارے بچوں سے فرماتے تھے: ’’مجھے نانا کہا کرو۔‘‘پھر ایک دن اُن کے صاحبزادے تنویر کا فون آیا:’’ابا اس دنیا میں نہیں رہے۔‘‘
یہ خبر سن کر یوں محسوس ہوا جیسے اردو ڈرامے کا ایک عظیم سائبان اچانک ہمارے سروں سے اٹھ گیا ہو۔بعد ازاں ایک اور مشفق بڑے بھائی کی صورت میں مشتاق مرچنٹ صاحب سے ڈرامے کے رموز و نکات سیکھنے کا موقع ملا۔ اسی طرح شفیع انعامدار کا ذکر بھی نہایت ضروری ہے، جنہوں نے ہمیشہ بھائیوں جیسی محبت اور شفقت عطا کی۔ اُن کے متعدد اردو ڈرامے دیکھنے کا شرف حاصل ہوا، بلکہ بعض ڈراموں میں اُن کی معاونت کرنے کا موقع بھی ملا۔رفعت شمیم صاحب سے بھی متعدد خوشگوار ملاقاتیں رہیں۔ آج بھی کبھی کبھار اُن سے ٹیلی فون پر گفتگو ہو جاتی ہے۔ اللہ سبحانہ و تعالیٰ انہیں صحت و عافیت کے ساتھ دراز عمر عطا فرمائے۔ آمین۔
ہمارے بزرگوں کے مطابق ۱۹۵۵ء سے ۱۹۸۰ء تک کا زمانہ اردو ڈرامے کا سنہرا عہد تھا۔ اس دور کے آخری چند برس دیکھنے کی سعادت ہمیں بھی نصیب ہوئی۔ اردو ڈرامے کا ہر طالب علم جانتا ہے کہ واجد علی شاہ اردو کے اولین ڈرامہ نگاروں میں شمار ہوتے ہیں۔ اُن کے بعد امانت لکھنوی، آغا حشر کشمیری، امتیاز علی تاج اور اُن کے
معاصرین نے اردو ڈرامے کو بے شمار شاہکار عطا کئے۔ممبئی میں پارسی تھیٹر، آغا حشر کشمیری اور اُن کے ڈراموں کے متعلق خاصی معلومات مختلف ذرائع، خصوصاً گوگل پر دستیاب ہیں لیکن جن واقعات، شخصیات اور یادوں کا ہم نے یہاں ذکر کیا ہے وہ اس تفصیل کے ساتھ کہیں محفوظ نہیں ملتیں۔ہم نے بارہا شیخ احمد صاحب سے درخواست کی کہ آپ بولتے جائیں، ہم آپ کی گفتگو محفوظ کرتے جائیں گے تاکہ ان قیمتی یادداشتوں کو کتابی صورت میں آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ کیا جا سکے۔ مگر وہ ہمیشہ یہی فرماتے رہے: ’’میں خود لکھوں گا۔‘‘لیکن افسوس، صد افسوس! یہ خواہش تشنۂ تکمیل ہی رہی۔اردو ڈرامہ جن بے شمار آزمائشوں سے گزرا، اُن میں ایک بڑی محرومی یہ بھی ہے کہ ہمارے بہت سے بزرگ اپنے مشاہدات، تجربات اور یادداشتیں قلم بند کیے بغیر اس دنیا سے رخصت ہو گئے۔ نتیجتاً نئی نسل اردو ڈرامے کے اس درخشاں ماضی اور اُن عظیم اساتذہ سے پوری طرح واقف نہ ہو سکی۔
اب بھی اردو ڈرامے کے چند آخری چراغ موجود ہیں۔ ہم اُن سے مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ اُن کے تجربات، مشاہدات اور یادیں محفوظ کر کے آنے والی نسلوں تک منتقل کی جا سکیں۔آئیڈیا (ممبئی) اپنی استطاعت کے مطابق بزرگوں کی اس قیمتی ادبی اور ثقافتی میراث کو محفوظ رکھنے کی حتی المقدور کوشش کر رہا ہے۔
تجربات اپنے بیاں کر دیے سارے میں نے
ہم سفر جس کو بھی اب چاہو بنا لو اپنا