Inquilab Logo Happiest Places to Work

فٹ بال کوچ کے نام

Updated: July 13, 2026, 1:03 PM IST | Muhammad Rafi Ansari | Mumbai

صاحبِ آگہی و عرفان،جی داروں کا ارمان،مردِ معقول و مردِ میدان،یقین کیجئے، فٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے میں اُس وقت کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتا ہوں جب کیمرہ بے خیالی میں آپ کی طرف چلا جاتا ہے۔

Football Coach.Photo:INN
فٹبال کوچ۔ تصویر:آئی این این
صاحبِ آگہی و عرفان،جی داروں کا ارمان،مردِ معقول و مردِ میدان،یقین کیجئے، فٹ بال کا میچ دیکھتے ہوئے میں اُس وقت کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتا ہوں جب کیمرہ بے خیالی میں آپ کی طرف چلا جاتا ہے۔آپ کا رنگ ڈھنگ ،نشست و برخاست ، اُٹھنا ،بیٹھنا، ٹہلنا،دانت پیسنا،مٹھی بھینچنا،ہوا میں مکا گھمانا،کوسنا،ٹوکنا،آبدیدہ ہونا،بغلیں جھانکنا، مسکرانا،   سر اُٹھانا،سر جھکانا،آنکھیں دکھانا، منہ پھرلینا،سب کا سب بڑا معنی خیز اور اثر آفریںہوتا ہے۔آپ کی مخصوص نشست کے آس پاس اُس وقت بڑا سناٹا چھا جاتا ہے جب آپ کی ٹیم زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا ہوتی ہے۔ وہ تو اچھّا ہے کہ اس وقت آپ کے پاس ’ریوالور‘ قسم کی کوئی چیز نہیں ہوتی۔لا محالہ آپ کا غصّہ خود اپنی ہی ذات پر اُترتا ہے،قہر درویش بر جانِ درویش۔جناب!مجھے آپ کی شخصیت اس لئے بھی متاثر کرتی ہے کہ آپ کا حلیہ درویشوں سے بہت ملتا جلتا ہے۔ویسے آپ کا کام بھی قریب قریب فقیرانہ ہی ہے۔ آپ کو ہر آن اپنی چٹائی لپیٹنے اور اپنا حقہ پانی بند ہونے کادھڑکالگا رہتا ہے۔لیکن یہ اندیشہ آپ کے حوصلوں کو کم کرنے کے بجائے بڑھاتا ہے۔آپ زخم کھا کر بھی مسکراتے ہیں۔اپنی ٹیم کی شکست کو اپنی مات سمجھ کر آپ آخری بار کھلاڑیوں سے گلے ملتے ہیں اور یہ کہہ کر محفل سے اُٹھ جاتے ہیں ؎
فقیرانہ  آئے  صدا کر چلے میاں خوش رہو ہم دعا کر چلے
اپنی ٹیم کی ہار کو ’ہار‘ بناکر خود اپنے گلے میں ڈال لینا ، کُوچ (روانگی)کے حکم کا انتظار کرنا اور پھر اِس حکم پر سرِ تسلیم خم کرنا سراسر درویشانہ عمل ہی تو ہے۔بخدا کھیلوں کی تاریخ میںبے نیاز اور  بے نیل و مرام فٹ بال کوچوں ‘ کی خدماتِ جلیلہ کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکے گا۔
مجھے فٹ بال کا وہ ورلڈ کپ ابھی تک یاد ہے ، جس کے بیشتر کھلاڑی لمبی زلفوں والے واقع ہوئے تھے۔فٹ بالروں کے رسّی جیسے بال دور سے افعی کی طرح بل کھاتے نظر آتے تو حریف ٹیم کے مدّاحوں پر لرزہ سا طاری ہوجاتا،۔ جب یہ گیسو دراز اپنے سر پر گیند کو(سر بلند)  ہوکر روکتے تھے تو اسٹیڈیم میں بیٹھے ہوئے شائقین اپنی اپنی نشستوں سے ایسے اچھلتے تھے جیسے کک لگنے پر فٹبال اچھلتا ہے ۔میں نے اپنے ایک شناسا سے پوچھا بھی تھا کہ آخر ان کی بے ہنگم لٹوں کا کیا راز ہے؟ انہوں نے فرمایا تھا کہ اس کا جواب تو وہی ’ کوچ ‘ دے سکتا ہے ،جو ظاہر و باطن میں برگد کے سمان ہو۔ 
آج جسے دیکھو وہ بدن پر بیل بوٹے ، چھاپ اور ٹھپا لگا کر نقش ہوجانے کی کوشش میں مبتلا دکھائی دیتا ہے۔ناکارہ سے ناکارہ کھلاڑی بھی نقش و نگار اپنے جسم پر سجائے اتراتا پھر رہاہے ، اب بھلا کون ان کو سمجھائے کہ’ ’نقش ہیں سب ناتمام خونِ جگر کے بغیر‘‘
کوچ صاحب! آپ کے افعال کے ساتھ ساتھ آپ کے اقوال کی حیثیت بھی مسلّم ہے۔’کوچ‘ کے مقولے دیدہ وروں ، دانش وروں ، مفکّروں اور حکمرانوں کے اقوالِ زرّیں سے کسی طرح کم نہیں ہوتے،چھا جائیں گے، بجلی بن کر گریں گے،آسمان سر پر اٹھائیں گے،زمین ہلا دیں گے‘ وغیرہ،اس قسم کے اعلانات خبروں کی سرخیاں بن کر لہو میں گرمی پیدا کرتے ہیں۔کوچ صاحب !ہمارے یہاں رعیت کرکٹ کے بخار میں مبتلا رہنے کی عادی رہی ہے۔مگر کچھ بالغ نظروں کا یہ بھی خیال ہے کہ کرکٹ اگر چراغ ہے، تو فٹ بال آندھی ہے۔ کرکٹ کے کھلاڑی ’فٹ نس ‘ برقرار رکھنے کے لئے ’فٹ بال ‘ کے قدم بہ قدم چلنا پسند کرتے ہیں۔اپنے ’بُرے دنوں‘ میں ’اچھے دنوں‘کی جستجو میں فٹ بال کو وسیلۂ ظفر بنانا کرکٹروں کا طرۂ امتیاز رہاہے۔فٹ بال دنیا کا اکلوتا عام آدمی کا کھیل مانا جاتا ہے ۔ ہمارے یہاں مشکل یہ ہے کہ بعض سیاسی وجوہات کی بناپر عام آدمی نے خاص آدمی کے کھیل کو اپنا کر اپنی خودی کو کھو دیا ہے۔نتیجہ یہ ہوا  ہے کہ فٹ بال کی درجہ بندی میں ہمارا ملک ۱۳۹؍ویں مقام پر آن پہنچا ہے ۔اطمینان کی بات اس کے سوا اور کوئی نہیں کہ ہاکی کا ہمارا روایتی حریف( یعنی ہمارا پڑوسی) ۲۰۲؍ویں منزل پر ہے۔ 
آج مجھے رہ رہ کرمصر کی فٹ بال ٹیم کے ہیڈ کوچ کی یاد آرہی ہے۔ ان کا نام حسام حسن ہے۔ آسٹریلیا کو شکست دینے کے بعد انہوں نے جرأت رندانہ کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ کارنامہ انجام دیا جو بڑے بڑوں سے نہ ہو سکا۔انھوں نے میدان میں فلسطینی پرچم لہراکر اہلِ فلسطین سے اظہارِ یک جہتی کرتے ہوئے فرمایا کہ ’’میرا دل اورمیری روح اہلِ فلسطین کے ساتھ ہے۔اللہ ا ن کے شہیدوں پر رحمت نازل کرے۔‘‘خدا حسام حسن کا مقام بلند کرے، آمین ۔ اگر آپ کے ساتھ ایسا کوئی معاملہ ہو تو حسام کی تقلید کرنے کی سعی کرنا۔میری نیک تمنائیں آپ کے ساتھ ہیں۔                                                            
دعاؤں میں یاد رکھئے، آپ کا ایک خیر خواہ

 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK