Inquilab Logo Happiest Places to Work

جوہری معاہدہ میں پیش رفت کیلئے سعودی کو اسرائیل سے تعلقات بحال کرنے ہونگے: ٹرمپ

Updated: July 23, 2026, 8:09 PM IST | Washington

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری تعاون کا معاہدہ اس وقت ہی آگے بڑھے گا جب سعودی عرب معاہدۂ ابراہیمی میں شامل ہو کر اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے گا۔ دوسری جانب اسرائیلی اپوزیشن نے اس پیش رفت کو وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کی سفارتی ناکامی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن نے ریاض کے ساتھ اہم معاہدہ کر لیا، جبکہ اسرائیل کو اس کے بدلے کوئی نمایاں سفارتی کامیابی حاصل نہیں ہوئی۔

US President Donald Trump. Photo: PTI
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ۔ تصویر: پی ٹی آئی

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان سول جوہری تعاون کا معاہدہ سعودی عرب کے معاہدۂ ابراہیمی میں شامل ہونے اور اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے سے مشروط ہوگا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ریاض اسرائیل کے ساتھ سفارتی تعلقات قائم کرنے پر آمادہ ہوتا ہے تو ہی معاہدہ آگے بڑھایا جائے گا۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان طویل المدتی جوہری تعاون کے معاہدے پر پیش رفت جاری ہے۔ ٹرمپ کا یہ بیان امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے اس اعلان کے بعد آیا، جس میں انہوں نے کہا تھا کہ سعودی عرب کے ساتھ طے پانے والا سول نیوکلیئر معاہدہ امریکی کانگریس کی منظوری کے لیے پیش کیا جائے گا۔ معاہدے کے تحت سعودی عرب میں امریکی تعاون سے پرامن مقاصد کے لیے جوہری توانائی کے منصوبے قائم کیے جائیں گے، تاہم اس پر حتمی عمل درآمد کے لیے کانگریس کی منظوری ضروری ہوگی۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ-ایران جنگ ۱۲ ویں دن میں داخل: ایران کا کویت اور اردن میں امریکی اڈوں پر حملہ، اموات میں اضافہ

اسرائیلی اپوزیشن نے نیتن یاہو کو ناکام قرار دیا
ادھر اسرائیل میں اس پیش رفت پر سخت سیاسی ردِعمل سامنے آیا ہے۔ اسرائیلی اپوزیشن کے لیڈروں نے امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان ہونے والے معاہدے کو وزیرِ اعظم بنجامن نیتن یاہو کی ’’تباہ کن سفارتی ناکامی‘‘ قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نیتن یاہو برسوں سے سعودی عرب کے ساتھ تعلقات معمول پر لانے کو اپنی بڑی خارجہ پالیسی کامیابی قرار دیتے رہے، لیکن اب امریکہ نے ریاض کے ساتھ اہم معاہدہ کر لیا جبکہ اسرائیل کو کوئی واضح سفارتی فائدہ حاصل نہیں ہوا۔ اپوزیشن لیڈروں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ اگر سعودی عرب کو سول جوہری پروگرام کی اجازت ملتی ہے جبکہ اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر نہیں آتے، تو یہ اسرائیل کی علاقائی سفارتی حکمتِ عملی کے لیے ایک بڑا دھچکا ہوگا۔ ان کے مطابق اس سے مشرقِ وسطیٰ میں طاقت کے توازن اور اسرائیل کی سلامتی سے متعلق نئے سوالات پیدا ہو سکتے ہیں۔ یہ بیانات اسرائیلی اپوزیشن کا مؤقف ہیں۔ 

یہ بھی پڑھئے: امریکہ میں ۱۵ء۱؍ٹریلین ڈالر مالیت کا دفاعی بجٹ منظور

دوسری جانب سعودی عرب کا سرکاری مؤقف بدستور یہی ہے کہ اسرائیل کے ساتھ مکمل سفارتی تعلقات قائم کرنے کا انحصار فلسطینی ریاست کے قیام کی جانب ٹھوس پیش رفت پر ہے۔ ریاض اس سے قبل بھی متعدد مواقع پر کہہ چکا ہے کہ فلسطینی مسئلے کا قابلِ قبول حل نکالے بغیر اسرائیل کے ساتھ مکمل تعلقات معمول پر لانا ممکن نہیں ہوگا۔  معاہدہ ابراہیمی ۲۰۲۰ء میں امریکہ کی ثالثی میں طے پائے تھے، جن کے تحت متحدہ عرب امارات، بحرین، مراکش اور سوڈان نے اسرائیل کے ساتھ تعلقات معمول پر لائے تھے۔ امریکہ طویل عرصے سے سعودی عرب کو بھی اس عمل میں شامل کرنے کی کوشش کر رہا ہے، تاہم غزہ جنگ اور فلسطینی مسئلے کے باعث اس سمت میں پیش رفت پیچیدہ بنی ہوئی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK