• Sat, 31 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جانشین کیلئے اتنی عجلت کیوں ؟

Updated: January 31, 2026, 1:55 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

جیت پوار کی حادثاتی موت کو تین دن گزرے ہیں مگر دوسرے ہی دن سے اُن کے جانشین کے بارے میں قیاس آرائیاں بالکل ٹھیک نہیں ہیں ۔ اس سلسلے میں ہم شیو سینا (اُدھو) کے لیڈر سنجے راؤت سے پوری طرح متفق ہیں جنہوں نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا ہے کہ اتنی جلدی اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار کا نام جانشین کے طور پر لینا غیر اخلاقی ہے۔

INN
آئی این این
  اجیت پوار کی حادثاتی موت کو تین دن گزرے ہیں  مگر دوسرے ہی دن سے اُن کے جانشین کے بارے میں  قیاس آرائیاں  بالکل ٹھیک نہیں  ہیں ۔ اس سلسلے میں  ہم شیو سینا (اُدھو) کے لیڈر سنجے راؤت سے پوری طرح متفق ہیں  جنہوں  نے یہ کہتے ہوئے اعتراض کیا ہے کہ اتنی جلدی اجیت پوار کی بیوہ سونیترا پوار کا نام جانشین کے طور پر لینا غیر اخلاقی ہے۔ ہم تو اسے غیر انسانی بھی سمجھتے ہیں  کیونکہ شوہر کی ناگہانی موت کا غم ایسا نہیں  ہوتا کہ اس سے چند روز یا چند ہفتوں  میں  اُبھرنا ممکن ہو۔ یہ خلاء کبھی پُر نہیں  ہوتا اور اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی طاقت اتنی جلدی پیدا نہیں  ہوتی۔ سونیترا پوار پر تب کیا گزری ہوگی جب اُنہیں  طیارہ حادثہ کی خبر ملی ہوگی اور اب کیا گزر رہی ہوگی جب کہ شوہر کو کھو دینے کی حقیقت اُن کیلئے کسی ڈراؤنے خواب جیسی ہوگی، یہ سمجھنا ممکن نہ ہونے کی حد تک مشکل ہے۔ کیا ہی اچھا ہو کہ اجیت پوار کے خاندان کے لوگ اُن تمام قیاس آرائیوں  پر اس دوٹوک بیان کے ذریعہ وقفہ لگا دیں  کہ سونیترا ابھی ذہنی طور پر تیار نہیں  ہیں ۔ 
اگر اُن کی جانب سے کوئی بات نہیں  آئی، جیساکہ ممکن ہے کیونکہ سب ہی غمزدہ ہیں ، تو ضروری ہے کہ مہاراشٹر کے ارباب اقتدار اس میں  عجلت کا مظاہرہ نہ کریں ۔ سونیترا پوار راجیہ سبھا کی رکن ہیں ۔ وہ خود اپنے مستقبل کے بارے میں  کیا سوچتی ہیں  اُس پر غوروخوض کیلئے اُنہیں  وقت دیا جانا چاہئے۔ اس کیلئے اہل خانہ سے مشورہ بھی درکار ہوگا۔ کیا وہ راجیہ سبھا کی اپنی رُکنیت کو برقرار رکھنا چاہیں  گی یا ریاست کی ڈپٹی سی ایم بننے کو ترجیح دیں  گی یہ اُن کا فیصلہ ہے۔ جب تک یہ فیصلہ نہیں  ہوجاتا تب تک وزیر اعلیٰ فرنویس اور نائب وزیر اعلیٰ شندے یہ بھی طے کریں  کہ کیا اجیت پوار کی طرح اُن کے جانشین کو بھی نائب وزارت اعلیٰ کے ساتھ ساتھ وزارت ِ مالیات دی جائیگی کیونکہ اجیت پوار دونوں  وزارتیں  سنبھال رہے تھے۔
اہل اقتدار کی عجلت کا ممکنہ سبب سمجھ میں  آتا ہے۔ وہ یہ کہ آئندہ ماہ ریاست کا بجٹ پیش کیا جانا ہے۔ یقیناً اس کیلئے کسی کو ذمہ داری دینی ہوگی جو بجٹ کے مضمرات کو اچھی طرح سمجھنے کے بعد بجٹ پیش کرے۔ اس نقطۂ نظر سے بھی جلد بازی کا مظاہرہ درست نہیں ۔ سونیترا پوار کے غم کے آگے یہ نقطۂ نظر زیادہ دیر نہیں  ٹھہر سکتا۔ بجٹ پیش کرنے کی ذمہ داری وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس خود ادا کرسکتے ہیں  جو ماضی میں   وزارت مالیات بھی سنبھال چکےہیں ۔ اگر وہ نہیں  تو وزیر مملکت برائے مالیات اشیش جیسوال کو ذمہ داری سونپی جاسکتی ہے۔ جو بھی ہو،   ہم اسی خیال کے حامل ہیں  کہ سونیترا پوار کو ابھی کچھ عرصہ تک ڈسٹرب نہ کیا جائے۔ پارتھ اور جے پوار کے ناموں  پر بھی غور کیا جانا چاہئے کہ یہ اُن کا حق ہے۔ 
جہاں  تک دونوں  این سی پی کے انضمام کا تعلق ہے، اس کیلئے دونوں  جانب کے لیڈران بیٹھ کر تبادلۂ خیال کریں  اور انضمام کو یقینی بنانے پر توجہ مرکوز کریں ۔ یہ آنجہانی لیڈر کو سچا خراج عقیدت ہوگا۔ سچا خراج عقیدت یہ بھی ہوگا کہ تمام پارٹی لیڈران اجیت پوار کے سیکولر نظریات کو ہمہ وقت ملحوظ رکھیں ۔ آنجہانی لیڈر نے سیاست میں  سمجھوتہ کیا مگر اپنے سیکولر نظریات کو بالائے طاق رکھ کر نہیں  کیا۔ وہ مہایوتی میں  رہ کر بھی سیکولر رہے۔ دونوں  این سی پی کا انضمام اس لئے ہوکہ شیو سینا اور این سی پی کے انتشار کے بعد سے مہاراشٹر کی سیاست ہی منتشر ہوکر رہ گئی ہے۔ 
ajit pawar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK