اجیت پوار، جنہیں پورا مہاراشٹر ’’دادا‘‘ کے نام سے جانتا تھا، ایسے خطرناک حادثے کا شکار ہوئے کہ جس نے سنا اُسے یقین نہیں آیا جب تک کہ حکام کی جانب سے اس کی توثیق نہیں ہوگئی۔
EPAPER
Updated: January 29, 2026, 6:22 PM IST | Mumbai
اجیت پوار، جنہیں پورا مہاراشٹر ’’دادا‘‘ کے نام سے جانتا تھا، ایسے خطرناک حادثے کا شکار ہوئے کہ جس نے سنا اُسے یقین نہیں آیا جب تک کہ حکام کی جانب سے اس کی توثیق نہیں ہوگئی۔
اجیت پوار، جنہیں پورا مہاراشٹر ’’دادا‘‘ کے نام سے جانتا تھا، ایسے خطرناک حادثے کا شکار ہوئے کہ جس نے سنا اُسے یقین نہیں آیا جب تک کہ حکام کی جانب سے اس کی توثیق نہیں ہوگئی۔ اس وقت مہاراشٹر کے عوام دل گرفتہ ہیں اور ممکن نہیں کہ اس صدمے سے جلد باہر آسکیں۔ ایک عوامی لیڈر جب ایسے کسی حادثہ کا شکار ہوکر اپنی جان گنوا بیٹھتا ہے تو ایسی ہی صورتحال ہوتی ہے۔ اجیت دادا جیسے پُرجوش لیڈر کا اس طرح چلا جانا نہایت افسوسناک ہے۔ یہ حادثہ کیسے ہوا، کیا جو وجوہات بتائی جارہی ہیں مثلاً کہرے کی وجہ سے ہوائی پٹی کا دکھائی نہ دینا، وہ درست ہیں یا کوئی اور تکنیکی وجہ بھی ہے ، یہ جانچ کا موضوع ہے اور ہم اُمید کرتے ہیں کہ جانچ گہری اور تکنیکی اعتبار سے شفاف ہوگی تاکہ اس کے ذریعہ چند رہنما خطوط وضع کئے جائیں اور آئندہ کے حادثات کو روکا جاسکے۔ یہ بات ہم اس لئے لکھ رہے ہیں کہ بارہ متی کی ہوائی پٹی، جس پر اجیت دادا کے طیارہ کو اُترنا تھا، اَن کنٹرولڈ ایئرفیلڈ ہے جس کا معنی یہ ہے کہ یہاں کے ٹریفک کی نگرانی ایئرپورٹ اتھاریٹی آف انڈیا کی ذمہ داری نہیں ہے۔ اس لئے سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا طیاروں کی آمد و رفت کیلئے فلائنگ ٹریننگ آرگنائزیشنوںپر بھروسہ کیا جاسکتا ہے یا کیا جانا چاہئے؟ آخر طیارہ حادثوں میں کئی سیاستدانوں اور لیڈروں کو گنوا دینے کے باوجود ہم کوئی ایسا نظام کیوں قائم نہیں کرسکے جس کے تحت بے داغ حفاظتی انتظامات یقینی ہوں؟
یہ بھی پڑھئے: سر مارک ٹلی اور ہندوستان
قارئین کو یاد ہوگا کہ کانگریس لیڈران سنجے گاندھی، راجیش پائلٹ، مادھو راؤ سندھیا، وائی ایس راج شیکھر ریڈی، سابق اسپیکر لوک سبھا جی ایم سی بالا یوگی اور گجرات کے سابق وزیر اعلیٰ وجے روپانی اُن لیڈروں میں سے شامل ہیں جو طیارہ حادثوں میں فوت ہوئے۔ اگر اس قدر نقصان کے باوجود ہم اپنے نظام کو نقائص سے پاک نہیں کرپائے ہیں تو قصور کس کا ہے؟
جہاں تک اجیت پوار کا تعلق ہے، مہاراشٹر نے ایک فعال اور عوامی لیڈر کو کھو دیا ہے۔ ’’دادا‘‘ کی سیاست سے اختلاف کیا جاسکتا ہے، کہا جاسکتا ہے کہ موجودہ وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس کے ساتھ اُن کا علی الصباح ریاستی گورنر کے پاس پہنچ کر حلف لینا اُصولی سیاست کیلئے نہایت غلط مثال تھا، اُن کا اپنے چچا شرد پوار کی پارٹی کو توڑنا اور علاحدہ این سی پی قائم کرلینا بھی ناگوار گزرنے والی حرکت قرار دیا جاسکتا ہے مگر بحیثیت لیڈر، عوام میں اُن کی مقبولیت سے کسی کو انکار نہیں ہوسکتا۔ پارٹی کے تنظیمی ڈھانچے پر اُن کی غیر معمولی گرفت سے بھی صرفِ نظر نہیں کیا جاسکتا۔ وہ پارٹی کارکنان کو اعتماد میں لینے نیز اُنہیں قربت کا احساس دلانے میں بھی ماہر تھے۔ اسی لئے بارہ متی سے ایک بار لوک سبھا کا اور آٹھ مرتبہ اسمبلی کا الیکشن جیت کر اُنہوں نے اپنی سیاسی ساکھ مضبوط کی۔ اس کے صلے میں اُنہیں کئی قلمدان تفویض ہوئے نیز چھ مرتبہ نائب وزیر اعلیٰ بننے کا موقع ملا۔اُنہیں گلہ تھا تو صرف یہ کہ وزاتِ اعلیٰ تک نہیں پہنچ پائے۔ وقت کی پابندی اُن کے مزاج کا حصہ تھی۔ وہ سویرے چار بجے بستر چھوڑ دینے کے عادی تھے۔ جاننے والے بتاتے ہیں کہ روزانہ اُن کی پہلی میٹنگ صبح پونے چھ بجے ہوتی تھی۔ ایک دن میں کئی کئی میٹنگوں اور سبھاؤں کے باوجود وہ تھکتے نہیں تھے۔ فرقہ وارانہ تعصبات سے پاک اجیت دادا تمام مذاہب کے لوگوں میں مقبول تھے۔ اُن کا اس طرح چلا جانا ریاست کا بڑا نقصان ہے۔