صنعتی حلقوں نے بجٹ کی ستائش کی ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ خاموشی سے پیش کیا گیا مگر بہت کچھ بولنے والا بجٹ ہے اور اس کا پیغام واضح ہے تو کسی کا خیال تھا کہ ایسے وقت میں جبکہ دُنیا دیواریں کھڑی کررہی ہے، بجٹ پل بنا نے پر توجہ دے رہا ہے۔
صنعتی حلقوں نے بجٹ کی ستائش کی ہے۔ کسی نے کہا کہ یہ خاموشی سے پیش کیا گیا مگر بہت کچھ بولنے والا بجٹ ہے اور اس کا پیغام واضح ہے تو کسی کا خیال تھا کہ ایسے وقت میں جبکہ دُنیا دیواریں کھڑی کررہی ہے، بجٹ پل بنا نے پر توجہ دے رہا ہے۔ کسی نے کہا کہ اس کا پیش کردہ ترقیاتی خاکہ ایک قسم کا بلیو پرنٹ ہے جس میں سیمی کنڈکٹر، ریئر ارتھ وغیرہ کیلئے سہولتیں اور مراعات دی گئی ہیں تو کسی نے سات تیز رفتار ٹرینوں کے اعلان کی تعریف کی اور کہا کہ مختلف شہروں کے درمیان آمد و رفت کا کافی وقت بچے گا اور اس کے علاوہ بھی سہولتیں میسر آئینگی۔ دیسی مینوفیکچرنگ کی حوصلہ افزائی کیلئے بجٹ میں اضافہ (۲۳؍ ہزار کروڑ سے ۴۰؍ ہزار کروڑ روپے) کو بھی لائق ستائش گردانا گیا۔ ترقیاتی سفر میں مصنوعی ذہانت کو دی جانے والی اہمیت کی بھی تعریف کی گئی۔ اسی طرح دفاعی بجٹ میں اضافے کا بھی خیرمقدم کیا گیا۔
۱۰؍ ہزار کروڑ کا ایم ایس ایم ای (چھوٹے اور متوسط درجے کی صنعتیں ) گروتھ فنڈ بھی قابل تحسین قرار دیا گیا۔ ایسے ہی کئی دیگر نکات صنعتی حلقو ں کیلئے خوش خبری کا درجہ رکھتے ہیں مگر بعض لوگوں نے چند ستائشی کلمات کے بعد ’’مگر‘‘ ضرور کہا جس سے اُن کے بظاہر اطمینان کے پیچھے چھپی ہوئی بے اطمینانی محسوس کی گئی۔ مثلاً کسی نے کہا کہ بجٹ اعلانات سے ریئل اسٹیٹ کے شعبے کو کئی براہ راست اور بہت سے بالواسطہ فوائد کی توقع ہے مگر کفایتی مکانات (افورڈیبل ہاؤسنگ) کی تعمیر کیلئے کوئی بڑا اور قابل ذکر اعلان نہیں کیا گیا۔
ایسے تاثرات کے سبب سوچنا پڑتا ہے کہ جو خوش ہے وہ واقعی خوش ہے یا نہیں ۔ یہ بھی غور طلب ہے کہ بجٹ چونکہ اتوار کو پیش کیا جانا تھا اس لئے شیئر مارکیٹ کھلا رکھا گیا جس نے بجٹ اعلانات کے بعد اوپر کی طرف چھلانگ نہیں لگائی بلکہ اس کا رُخ نیچے کی طرف ہوگیا یعنی شیئر مارکیٹ سے وابستہ لوگوں نے اس کا خیرمقدم نہیں کیا۔ اس گراوٹ کی وجہ ملک کے مشہور اور بڑے صنعتکار گوتم اڈانی کا امریکی عدالت کا سمن قبول کرلینا بھی ہوسکتی ہے مگر وثو ق سے نہیں کہا جاسکتا کہ اصل وجہ کیا ہے۔ بہرکیف، اگر کسی حد تک بجٹ اعلانات کی وجہ سے تھا تب بھی اس کا معنی یہی ہے کہ صنعتکار بھلے ہی بجٹ اعلانات سے خوش اور مطمئن ہوں ، شیئر بازار نہیں تھا۔ جہاں تک عوام کا تعلق ہے، اُن میں ایسا کوئی تاثر نظر نہیں آیا جس سے یہ نتیجہ اخذ ہو کہ عوام خوش یا مطمئن ہیں ۔
مانا کہ بہت سے اعلانات طویل مدتی مقاصد کیلئے ہوتے ہیں مگر ایسے وقت میں جب عوام روزمرہ کے مسائل سے پریشان ہوں ، اُن کیلئے فوری راحت ضروری تھی جو بجٹ میں دکھائی نہیں دی۔ انکم ٹیکس میں کوئی بڑی چھوٹ نہیں دی گئی۔ چھوٹے روزگار پیدا ہوں اس کی طرف بجٹ نے پیش قدمی نہیں کی۔ غیر منظم زمرہ پر نہ تو سابقہ حکومتوں نے توجہ دی نہ ہی موجودہ حکومت کی نظر التفات اس پر ہے جبکہ روزگار مہیا کرنے والے شعبوں میں بہت اہم شعبہ غیر منظم زمرہ ہے۔ دستکاری اور گھریلو صنعتوں کی حوصلہ افزائی بھی بجٹ میں نہیں ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ یہ بڑے صنعتی اداروں کیلئے تیار کیا گیا بجٹ ہے مگر یہ ضرور کہنا چاہتے ہیں کہ اس سے چھوٹی صنعتوں اور چھوٹے کاروبار والوں اور عام آدمی کو مایوسی ہوئی ہے۔ اگر ہر سرکاری فیصلےکا مرکز عوام ہوتے ہیں تو عوام کا نظرانداز کیاجانا افسوسناک ہے۔