بچوں کے امتحانات کے دنوں میں ماؤں کا رول نہایت اہم ہے۔ ان کی فکریں، رہنمائی، تعاون بچوں کی زندگی سنوار دیتی ہے۔ ذہنی سکون فراہم ہونے کے ساتھ مزید محنت پر ابھارتی ہے۔ لہٰذا امتحانات کے دنوں میں مائیں بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کا خاص خیال رکھیں۔ اُن کی مدد کریں، ان کی رہنمائی کریں۔
امتحانات کی تیاری کے دوران بچوں کو وقت کا درست استعمال کرنے کی تلقین کریں کیونکہ وقت کی درست تقسیم کامیابی کی چابی ہے۔ تصویر: آئی این این
عموماً بچے امتحانات کو بہت سنجیدہ لیتے ہیں یہاں تک کہ بہت شرارتی بچے بھی امتحانات قریب آتے ہی ساری شوخیاں بھول کر کتابیں کھول کر بیٹھ جاتے ہیںا ور محنتی بچے تو ان دنوں گویا کہ کھانا پینا ہی بھول جاتے ہیں۔ امتحانات کی اہمیت اپنی جگہ مسلم لیکن بچوں کی شگفتگی اور خوشیاں بھی اہم ہیں انہیں صحتمند رہنا بھی نہایت ضروری ہے تاکہ وہ امتحانات احسن طریقے سے دے پائیں۔ لہٰذا امتحانات کے دنوں میں والدین کو چاہئے کہ بچوں کی جسمانی اور ذہنی نشوونما کا خاص خیال رکھیں۔ امتحانات کی تیاری کے معاملے میں خود کو بری الذمہ نہ سمجھیں بلکہ امتحانات کی تیاری میں خود بھی بچوں کی مدد کریں، ان کی رہنمائی کریں۔ خاص طور پر ماؤں کا رول نہایت اہم ہے۔ ان کی فکریں، رہنمائی، تعاون بچوں کی زندگی سنوار دیتی ہے۔ ذہنی سکون فراہم ہونے کے ساتھ مزید محنت پر ابھارتی ہے۔ ذیل میں کچھ ایسے نکات پیش کئے جا رہے ہیں جن پر لائحہ عمل سے طلبہ اور والدین کیلئے کافی راحت اور آسانی ہوگی اور امتحانات میں کامیابی و کامرانی حاصل ہوگی:
اسٹڈی ٹائم ٹیبل: اسٹڈی کا ٹائم ٹیبل بنائیے اور بچوں کو اس پر سختی سے عمل کرنے کی تلقین کیجئے۔ کوئی چیز بچوں کو الجھائے نہیں اس بات کا خیال رکھئے۔ بچوں کو ٹال مٹول کرنے، دوستوں سے گپ شپ کرنے یا موبائل فون دیکھنے سے باز رکھیں۔
یہ بھی پڑھئے: صحیح کہا گیا ہےکہ بہت سہل ہے مکانوں کو گھر کرنا!
صحت و تندرستی: پُرسکون نیند سے اچھی اسٹڈی ہوتی ہے۔ اس لئے بچوں کو وقت پر سلائیں اور پورے ۸؍ گھنٹے سونے دیں۔ دن بھر میں ۸؍ تا ۱۰؍ گلاس پانی پلائیں تاکہ ان کا دماغ میں تراوٹ رہے اور جسم سے فاضل مادے خارج ہوتے رہیں جو ان کی صحت کے لئے ازحد ضروری ہے۔ کوشش کیجئے کہ نرم، ہلکی مگر طاقت بخش متوازن غذا دیں۔ بھاری اور ثقیل غذا معدے پر بوجھ بن جاتی ہے جس کی وجہ سے سستی آنے لگتی ہے اور پڑھائی متاثر ہوتی ہے۔ دن کا آغاز عبادت سے کرنے کی تلقین کریں، اس کے بعد ورزش یا ۱۰؍ منٹ کی چہل قدمی کروائیں۔ اس سے جسم میں پھرتی ہی نہیں پیدا ہوتی بلکہ ذہن بھی متحرک رہتا ہے۔ ریسرچ کے مطابق، ورزش اور واک کی وجہ سے دماغ سے ایک مادہ خارج ہوتا ہے جو اینڈورفن کہلاتا ہے اور طبیعت میں بشاشت پیدا کرتا ہے۔ ساتھ ہی بچوں کو آرام بھی کرنے دیں۔
منصوبہ بندی: بچوں کا ایک ٹائم ٹیبل بنائیں اور انہیں اہم موضوعات کو پہلے کور کرنے کیلئے کہیں۔ چونکہ امتحانات کو کافی کم دن رہ گئے ہیں اس لئے ہر مضمون کو یکساں وقت دینا ضروری ہے۔
یہ بھی پڑھئے: روزنامہ انقلاب ۸۷؍ ویں سالگرہ: ’’اوڑھنی‘‘ کیلئے لکھنے والی قارئین کے تاثرات
فعال رہنے کی تلقین: اکثر امتحانات سے قبل بچے گھبرانے لگتے ہیں، اس صورت میں انہیں پُرسکون رہنے کی تلقین کریں۔ بچے تناؤ کا شکار نہ ہوں، اس پر توجہ دیں۔ اسمارٹ اسٹڈی کو ترجیح دیں۔ پچھلے سال کے پرچوں کی پریکٹس کروائیں۔ گروپ اسٹڈی کارآمد ہوتی ہے۔ اس لئے دوستوں کے ساتھ مل کر پڑھنے کی اجازت دیں، البتہ اس دوران ان کی نگرانی ضرور کریں۔
بریک بھی لینے دیں: مسلسل پڑھنے کے بجائے ہر ۴۵؍ سے ۵۰؍ منٹ بعد ۵؍ سے ۱۰؍ منٹ کا چھوٹا وقفہ لینے دیں۔ کسی خاص موضوع کیلئے ۲؍ گھنٹے ایک ساتھ مختص کرنے کے بجائے ایک ایک گھنٹہ مطالعہ کرنے دیں۔ اہم موضوعات کو صبح اور پھر شام مشق کروائیں۔ برین ڈمپ یعنی نوٹس کا جائزہ لئے بغیر خالی کاغذ پر اپنی یادداشت سے لکھنا بھی مفید ہے۔
کیلنڈر کا استعمال: ہفتہ واری منصوبہ بندی کے علاوہ ایک ماہانہ کیلنڈر بھی بنانا ضروری ہے تاکہ طالبعلم تمام اہم تاریخوں، ڈیڈ لائنز اور امتحانات کے شیڈول سے واقف رہیں۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کیلنڈر یاد دہانی کے طور پر ان کے سامنے ہو۔
یہ بھی پڑھئے: سرد اور خشک موسم میں ہاتھوں کی نگہداشت پر خاص توجہ دیں
پلے کارڈز کا استعمال: انتظار کے وقت میں پڑھنے کے لئے ہمیشہ کوئی کتاب یا نوٹس ساتھ رکھنا ضروری ہے۔ اس میں سفر کے اوقات، بس اسٹیشن، بینک، سپر مارکیٹ وغیرہ پر لائن میں انتظار کرنا شامل ہے۔ پلے کارڈز عام مقامات پر بھی رکھے جاسکتے ہیں جہاں سے طالب علم گزرتا ہے جیسے فریج کا دروازہ، باتھ روم کا آئینہ وغیرہ۔ دراصل بار بار نظر آنے سے چیزیں مؤثر انداز میں یاد رہتی ہیں۔ بار بار دہرانے سے اضافی وقت دینے سے بات یاد رہ جاتی ہے۔
حرفِ آخر، دنیاوی امتحانات کی مصروفیت میں بچوں کو اخروی امتحان سے غافل مت ہونے دیں۔ ان ایام میں بھی تاکید کرکے انہیں نماز، قرآن پڑھواتے رہیں۔ اللہ پاک کی بارگاہ میں دینی و دنیاوی ہر امتحان میں کامیابی کی دعا مانگتے رہنے کی ترغیب بھی دیتے رہیں۔ امتحانات رمضان المبارک میں آتے ہیں تو روزے رکھنے کے لئے خوشدلی سے تیار کریں۔ ان کے ہاتھ سے صدقہ و خیرات دینے کی عادت ڈالیں۔ خیال رہے کہ بچوں کا اپنے خالق مالک سے رابطہ ہمیشہ استوار رہے۔ پُراعتماد رہیں اور اپنی محنت، رب کی مدد پر بھروسہ کریں۔ اللہ آپ کا حامی و ناصر ہو۔