• Tue, 20 January, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

لے کے رہیں گے منریگا؟

Updated: January 20, 2026, 1:42 PM IST | Inquilab News Network | mumbai

آج سے کانگریس کے رکن پارلیمان اور لوک سبھا میں اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی رائے بریلی کے دو روزہ دورہ پر ہیں ۔ اس دوران وہ منریگا ختم کئے جانے کیخلاف پارٹی کی تحریک، جو کم و بیش ہر ریاست میں جاری کی گئی ہے، کے ایک حصے کے طور پر’’منریگا چوپال‘‘ میں شریک ہوں گے۔

INN
آئی این این

 آج سے کانگریس کے رکن پارلیمان اور لوک سبھا میں   اپوزیشن کے لیڈر راہل گاندھی رائے بریلی کے دو روزہ دورہ پر ہیں  ۔ اس دوران وہ منریگا ختم کئے جانے کیخلاف پارٹی کی تحریک، جو کم و بیش ہر ریاست میں   جاری کی گئی ہے، کے ایک حصے کے طور پر’’منریگا چوپال‘‘ میں   شریک ہوں   گے۔ کسی تحریک کو جب پارٹی کی اعلیٰ قیادت کی سرپرستی ہی نہیں   فعال شرکت کی شکل میں   بھرپور عملی تعاون حاصل ہوتا ہے تو اس کی اثر پذیری سے انکار نہیں   کیا جاسکتا۔ کانگریس میں   ادھر کچھ عرصے سے یہ کمی دکھائی دے رہی تھی کہ راہل گاندھی جو تحریک یا مہم شروع کرتے ہیں   اس میں   بڑی قوت ہوتی ہے مگر ان کی پارٹی کے دیگر لیڈران اس موضوع کو لے کر آگے نہیں   بڑھتے۔ چونکہ کانگریس اور اپوزیشن کی دیگر جماعتوں   کو ذرائع ابلاغ کا ساتھ بھی نہیں   ملتا اس لئے راہل کی چھیڑی ہوئی تحریک باقاعدہ تحریک نہیں   بنتی، عوام اس سے نہیں   جڑتے۔ بھارت جوڑو یاترا کی بات الگ تھی جسے ہر خاص و عام کا غیر معمولی تعاون حاصل ہوا تھا۔ راہل کو پارٹی ہی کا سپورٹ نہ ملنے کی تازہ ترین مثال’’ووٹ چوری‘‘ کی ہے جسے پارٹی کے دیگر لیڈران اور کارکنان اتنا بڑا موضوع نہیں   بنا سکے جتنی اس میں   قوت تھی اور ہے۔ یہ موضوع اپنے دم پر ہی عوام میں   کافی بیداری لا چکا ہے مگر اب تک یہ محض راہل کی جہدوجہد کا نتیجہ ہے بالخصوص ان کی تین پریس کانفرنسیں   جو کامیابی کے ساتھ اپنا نقش قائم کر چکی ہیں   اور جن میں   پیش کئے گئے شواہد سے مخالف پارٹیوں   کے لوگ بھی انگشت بدنداں   تھے مگر کانگریس کیڈر نے اسے گھر گھر پہنچانے کی زحمت نہیں   کی۔ اس کے برعکس منریگا کے خاتمے کا موضوع ہے جو اس لئے بہت اہم ہے کہ نام کی تبدیلی سے قطع نظر، اس کی کایا پلٹ جانے کی وجہ سے یہ دیہی عوام کی روزی روٹی چھن جانے کا مسئلہ ہے۔ چونکہ کانگریس کی قیادت میں   یو پی اے کے دور حکومت میں   پہلے نریگا اور پھر منریگا کا قانون پاس ہوا تھا اس لئے یہ کانگریس کیلئے وقار کا سوال تو ہے ہی، دیہی عوام سے براہ راست وابستہ ہونے کے سبب عوام کو اعتماد میں   لینے کا بہترین موقع بھی ہے۔ کانگریس کی عاقبت نا اندیشی ہوگی اگر وہ اس موضوع کو بھنانے کی ہر ممکن کوشش نہیں   کرے گی۔ کانگریس نے اس مہم کو’’منریگا بچاؤ‘‘ نام دیا ہے جو تین مراحل میں   جاری کرنے کا اعلان کیا گیا تھا۔ فی الحال جو مرحلہ جاری ہے وہ ۱۲؍جنوری کو شروع ہوا اور ۳۰؍ جنوری تک جاری رہے گا۔ اس دوران منریگا ورکروں   کے ساتھ وارڈ لیول پر دھرنے دیئے جارہے ہیں  ۔ اس کے بعد۳۱؍ جنوری سے ۶؍ فروری تک ضلع کلکٹر اور ضلع مجسٹریٹس کے دفاتر پر دھرنا دیا جائیگا۔ اس کے بعد۷؍  سے ۱۵؍ فروری تک ریاستی سطح کی مہم شروع ہوگی جس میں   ودھان سبھا کی عمارتوں   کا گھیراؤ کیا جائیگا۔اتوار کو یوپی کانگریس کے سربراہ اجے رائے نے بتایا کہ پارٹی نے منریگا کے خاتمے کیخلاف وسیع تر احتجاج کا منصوبہ تیار کیا ہے جس کے تحت پورے یوپی  میں   ۳۰؍ مہا پنچایتوں   کا انعقاد کیا جائیگا۔ ہم سمجھتے ہیں   کہ اگر کانگریس نے منریگا کو بحال کروانے میں   کامیابی حاصل کرلی تو یہ اس کی غیر معمولی کامیابی قرار پائے گی۔ اس میں   شک نہیں   کہ الیکشن جیتنے سے پارٹی، وہ چاہے کوئی پارٹی ہو، کو کافی حوصلہ ملتا ہے مگر عوام کے مفاد میں   کھڑا ہونا اور ان کے مفادات بحال کرونا اس سے بھی بڑی کامیابی ہے۔ شاید کانگریس یہ سمجھ رہی ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK