اٹلی میں کھیلے جارہے وِنٹر اولمپکس میں جموں کشمیر کے نوجوان کھلاڑی عارف محمد خان، جو الپائن اسکیئنگ کے ماہر ہیں ، ملک کی عظیم الشان نمائندگی کیلئے پہنچے ہوئے ہیں ، یہ خبر آپ پڑھ چکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں جب مختلف ملکوں کے دستوں کا تعارف کیا جارہا تھا تب یہ نوجوان کھلاڑی عارف ہاتھوں میں ترنگا لئے وطن عزیز کی نمائندگی کررہا تھا۔
اٹلی میں کھیلے جارہے وِنٹر اولمپکس میں جموں کشمیر کے نوجوان کھلاڑی عارف محمد خان، جو الپائن اسکیئنگ کے ماہر ہیں ، ملک کی عظیم الشان نمائندگی کیلئے پہنچے ہوئے ہیں ، یہ خبر آپ پڑھ چکے ہیں ۔ گزشتہ دنوں جب مختلف ملکوں کے دستوں کا تعارف کیا جارہا تھا تب یہ نوجوان کھلاڑی عارف ہاتھوں میں ترنگا لئے وطن عزیز کی نمائندگی کررہا تھا۔ وہ جس کھیل کا ماہر ہے، الپائن اسکیئنگ کہلاتا ہے۔ آپ نے ویڈیوز میں دیکھا ہوگا کہ الپائن اسکیئنگ کا کھلاڑی اپنے پیروں سے بڑی بڑی تختیاں (کھڑاؤں بھی کہہ سکتے ہیں ) باندھ کر برفانی نشیب و فراز سے گزرتا ہے اور ساتھی کھلاڑیوں سے مقابلہ کرتا ہے۔ عارف بیجنگ اولمپکس ۲۰۲۲ء میں بھی ہندوستان کے اکلوتے کھلاڑی تھے۔ جاری ’’میلان کورٹینا اولمپکس‘‘ میں بھی وہ براہ راست جگہ بنانے (کوالیفائی کرنے ) والے ہندوستانی کھلاڑی ہیں ۔
اس سے صاف ظاہر ہے کہ ہندوستانی ارباب اقتدار بالخصوص وزارتِ کھیل توجہ دے تو ہمارے یہاں صلاحیتوں کی کمی نہیں ہے۔ سمر اولمپکس میں تو ہندوستان نے بہت سے میڈل جیتے ہیں مگر وِنٹر اولمپکس میں ہم قسمت آزمائی نہیں کرتے۔ یہی وجہ ہے کہ جب عارف محمد خان نے الپائن اسکیئنگ مقابلے میں پہلی بار حصہ لیا تھا تو کئی ملکوں کے لوگ وِنٹر اولمپکس سے ہندوستان کا نام جڑنے پر حیرت کا اظہار کررہے تھے۔ چونکہ ہمارے یہاں کی اُن ریاستوں کا، جو ہمالیہ سے قریب ہیں ، درجہ حرارت سرد ملکوں کے درجہ حرارت جیسا ہوتا ہے اس لئے انہی ریاستوں میں ونٹر اولمپکس کیلئے صلاحیتیں تلاش کرنے کی ضرورت ہے۔ اگر اسکیئنگ ہی کی بات کریں تو آنچل ٹھاکر، وسیم بٹ اور حیا مظفر جیسے اسکائر اِس ملک کی شان ہیں جو بیرونِ ملک نام کما چکے ہیں ۔ اگر میلان کورٹینا میں عارف محمد خان فاتح رہے اور میڈل جیت لیا تو یہ تاریخی موقع ہوگا جس کی بنیاد پر اُمید کی جاسکے گی کہ ہندوستان میں ونٹر اولمپکس کو بھی اُتنی ہی اہمیت دی جائے جتنی سمر اولمپکس کو دی جاتی ہے۔
یاد رہے کہ ہندوستان ۱۹۰۰ء سے اولمپکس مقابلو ں میں شرکت کررہا ہے۔ اب تک اس نے طلائی، نقرئی اور کانسے کے علی الترتیب ۱۰، ۱۰؍ اور ۲۱؍ میڈل جیتے ہیں جن کی مجموعی تعداد ۴۱ ہے۔ یہ تمام میڈل سمر اولمپکس میں جیتے گئے ہیں ۔ وِنٹر اولمپکس کا کھاتہ ابھی نہیں کھلا ہے۔ اگر ۱۶؍ فروری کو عارف جیت گئے تو اُن کے نام کے ساتھ ہی کھاتہ بھی کھلے گا۔ ایک وقت تھا جب اولمپکس میں ہاکی کی وجہ سے ہمارا طوطی بولتا تھا۔ ہندوستانی ہاکی ٹیم نے ۱۹۲۸ء سے ۱۹۸۰ء تک ۱۲؍ اولمپکس میں ۱۱؍ میڈل جیتےاور یہ ثابت کیا کہ ہم کسی سے کم نہیں مگر اُس کے بعد جیسے کسی کی نظر لگ گئی اور ہمارا ارتقائی سفر رُک سا گیا۔ تب بھی انفرادی کارکردگی میں ہمارا دبدبہ قائم رہا اور کئی ایسے کھلاڑیوں کو شہرت ملی جن سے پورا ملک واقف ہے مثلاً کرنم ملیشوری، راج وردھن راٹھوڑ، ابھینو بندرا، وجیندر سنگھ، سشیل کمار، یوگیشور دت، سائنا نہوال، میری کوم، پی وی سندھو، ساکشی ملک اور میرا بائی چانو۔ یہ وہ کھلاڑی ہیں جن کے نام فوری طور پر ذہن میں آتے ہیں ۔ صلاحیتیں بہت ہیں اور امید ہی نہیں یقین ہے کہ جب بھی ہمارے کھلاڑی عالمی منظرنامہ پر اُبھریں گے بہت اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کریں گے اور اگر اُنہیں حکومت کی مکمل پشت پناہی حاصل رہی تو کوئی وجہ نہیں کہ زیادہ سے زیادہ میڈل ہمارے نام نہ ہوں ۔