مرکزی حکومت اور ایل آئی سی کی جانب سے آئی ڈی بی آئی بینک کے۶۱؍ فیصد شیئرس کی نجکاری کیلئے بولی لگانے کے عمل سے کوٹک مہندرا بینک باضابطہ طور علاحدہ ہوگیا ہے جس کے بعد مقابلہ اب صرف ۲؍غیر ملکی۔
EPAPER
Updated: February 10, 2026, 1:56 PM IST | Mumbai
مرکزی حکومت اور ایل آئی سی کی جانب سے آئی ڈی بی آئی بینک کے۶۱؍ فیصد شیئرس کی نجکاری کیلئے بولی لگانے کے عمل سے کوٹک مہندرا بینک باضابطہ طور علاحدہ ہوگیا ہے جس کے بعد مقابلہ اب صرف ۲؍غیر ملکی۔
مرکزی حکومت اور ایل آئی سی کی جانب سے آئی ڈی بی آئی بینک کے۶۱؍ فیصد شیئرس کی نجکاری کیلئے بولی لگانے کے عمل سے کوٹک مہندرا بینک باضابطہ طور علاحدہ ہوگیا ہے جس کے بعد مقابلہ اب صرف ۲؍غیر ملکی خریدار ہے نیلامی میں حصہ لیں گے۔ان میں پہلی کینیڈین این آر آئی صنعت کار پریم واتسا کی قیادت والی فیرفیکس ہولڈنگز ہے اور دوسری متحدہ عرب امارات کی سرکاری ملکیت والی ’ایمریٹس این بی ڈی‘‘ ہے جس نے حال ہی میں آر بی ایل بینک میں ۶۰؍ فیصد حصص خریدے ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:ٹرمپ کی اسرائیلی فیصلے کی مخالفت، برطانیہ کا بھی فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ
نیلامی کے عمل سے کوٹک نے جمعہ کی رات اعلان کیا تھا جس کا اثر پیر کو نظر آیا جب صبح کے کاروبار میں آئی ڈی بی آئی کے شیئرس کو سخت جھٹکا لگا اور وہ۱۰۶ء۶۸؍ روپے کے مقابلے میں گر کر۱۰۲ء۹۱؍ روپے پر آ گئے۔ تاہم گزشتہ۱۲؍ ماہ میں بینک کے شیئرس کی قیمتوں میں۴۰؍ فیصد اضافہ ہوا ہے۔نجکاری کے عمل کے انچارج سیکریٹری ارونیش چاولا نے جمعہ کی رات ایکس پر کی گئی پوسٹ میں تصدیق کی کہ خریداری کیلئے بولیاں تحریری طور مہر بند لفافوں میں جمع کرائی جا چکی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے:شوٹ آف میں منو بھاکر گولڈ سےچوک گئیں، ایشا سنگھ نے کانسے کا تمغہ جیتا
کوٹک نے مبینہ طور پر ویلیوایشن سے متعلق خدشات کے باعث آئی ڈی بی آئی کی دوڑ سے خود کو علیحدہ کرلیا ہے۔ اس کی وجہ سے اس کی مضبوط واپسی کی کوشش مزید کمزور ہوگئی ہے ۔ بینک کے بانی اُدے کوٹک نے۲۰۲۱ء کے آخر میں اپنی مدت ختم ہونے سے چند ماہ قبل بینک چھوڑ دیا تھا، اور اس کے بعد سے بینک ہر اعتبار سے جدوجہد کر رہا ہے، خصوصاً اپنی معروف اثاثہ معیار کے محاذ پر۔ آئی ڈی بی آئی جیسے بڑے نیٹ ورک والے بینک کی خریداری یقینی طور پر اس کے بینک کو توسیع دینے کا مؤثر راستہ ثابت ہوسکتی تھی۔ بہرحال حکومت پُراعتماد ہے کہ اس عمل کو موجودہ مالی سال کے اندر مکمل کر لیا جائے گا جس سے اسے کم از کم۳۳؍ہزار کروڑ روپے حاصل ہوسکتے ہیں۔