• Tue, 10 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہر فرد کی اپنی دُنیا: خواتین کیسے رشتوں کو پھر سے جوڑیں؟

Updated: February 10, 2026, 2:31 PM IST | Momin Rizwana Mohammad Shahid | Mumbai

آج جب ہم اپنے گھر کا جائزہ لیں تو اندازہ ہوگا کہ ہر فرد موبائل فون کی دُنیا میں مگن ہے۔ بات چیت، ہنسی مذاق، ایک دوسرے کے دن بھر کے احوال جاننا، یہ سب آہستہ آہستہ ماضی کی باتیں بنتی جا رہی ہیں۔ اس صورت میں خواتین کا کردار نہایت اہم ہے۔ وہ چھوٹے چھوٹے اقدامات سے گھر کا ماحول خوشگوار بنا سکتی ہیں۔

When all the family members are together, talk pleasantly, this act makes the atmosphere of the house pleasant. Photo: INN
جب سبھی گھر والے اکٹھے ہوں تو پُرلطف باتیں کیجئے، یہ عمل گھر کے ماحول کو خوشگوار بنا دیتا ہے۔ تصویر: آئی این این

جدید دور نے سہولتیں بے شمار دی ہیں، مگر اس کے ساتھ گھروں کی خاموشی بھی بڑھا دی ہے۔ ایک ہی کمرے میں بیٹھے افراد ایک دوسرے سے نظریں چُرا کر موبائل اسکرینز میں کھوئے رہتے ہیں۔ بات چیت، ہنسی مذاق، ایک دوسرے کے دن بھر کے احوال جاننا.... یہ سب آہستہ آہستہ ماضی کی باتیں بنتی جا رہی ہیں۔ اس بدلتے منظرنامے میں سب سے زیادہ دباؤ خواتین پر ہے، کیونکہ گھر کے جذباتی نظام کی باگ ڈور عموماً انہی کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ بلاشبہ گھر کی خاموشی کا سب سے زیادہ اثر خواتین پر ہوتا ہے۔ دراصل وہ دن بھر گھر کے کاموں میں مصروف رہتی ہوں۔ وہ اُمید کرتی ہیں کہ جب سارے گھر والے اکٹھے ہوں گے تو ایک دوسرے باتیں کریں گے۔ وہ اپنے معمولات کے متعلق بتائیں گے۔ لیکن جب ہر فرد موبائل فون لے کر بیٹھ جاتا ہے تو اُن کا دل غمزدہ ہوجاتا ہے۔ ایسی صورت میں وہ چند اقدامات کے ذریعہ گھر والوں کو دوبارہ جوڑ سکتی ہیں:

مسئلے کی جڑ کیا ہے؟

گھریلو لاتعلقی کی کئی وجوہات ہیں:

موبائل اور سوشل میڈیا کا حد سے زیادہ استعمال

کام اور تعلیم کا دباؤ

صبر اور برداشت کی کمی

ایک دوسرے کو وقت نہ دینا

شکایت سننے اور سمجھنے کی صلاحیت کا فقدان

یہ تمام عوامل مل کر گھر کو ایک مشترکہ خاندان کے بجائے ایک ’مشترکہ رہائش‘ بنا دیتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: محض پندرہ منٹ میں میک اَپ کرنا ممکن ہے

عورت: گھر کی جذباتی معمار

عورت صرف گھر سنبھالنے والی نہیں، بلکہ رشتوں کو جوڑنے والی قوت ہے۔ اس کا کردار حکم چلانے کا نہیں بلکہ دلوں کو قریب لانے کا ہے۔ وہ اگر چاہے تو بکھرے ہوئے لمحوں کو بامعنی رشتوں میں بدل سکتی ہے۔

عملی طریقے جن سے خواتین گھریلو ماحول کو بہتر بنا سکتی ہیں:

(۱) شعوری گفتگو کا آغاز

خواتین گھر میں گفتگو کا رُخ تبدیل کرسکتی ہیں۔ مثال کے بطور پر سوال صرف ’’کیا.... کیوں؟‘‘ کے بجائے ’’کیسا محسوس کیا؟‘‘ ’’کوئی پریشانی ہے کیا؟‘‘ ہو۔

بچوں اور بڑوں دونوں کو سنے جانے کا احساس پیدا کیا جائے۔

اختلافِ رائے کو جھگڑا بننے سے پہلے سمجھداری سے سنبھالا جائے۔

یہ عمل آہستہ آہستہ اعتماد بحال کرتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: مخلص لوگ سادہ زندگی: نہ مقابلہ آرائی نہ احساسِ کمتری

(۲) گھر میں جذباتی تحفظ

جب گھر کا فرد یہ جان لے کہ یہاں اس کی بات سنی جائے گی، اس کا مذاق نہیں اُڑایا جائے گا اور اس پر فوراً تنقید نہیں ہوگی، تو وہ خودبخود قریب آتا ہے اور کھل کر اپنی بات کا اظہار کر پاتا ہے۔ یہ ماحول زیادہ تر عورت کے رویے سے بنتا ہے۔

(۳) مشترکہ وقت کو معمول بنانا

روزانہ کم از کم ایک وقت سب کا اکٹھا ہونا

ہفتہ وار خاندانی نشست

خاص دنوں پر روایتی گھریلو رسومات

یہ سب چھوٹے اقدامات ہیں مگر اثر گہرا رکھتے ہیں اور سبھی ایک دوسرے کے قریب بھی آتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یہ سادہ مگر مؤثر باتیں گھر کے حسن کو بڑھاتی ہیں

(۴) ٹیکنالوجی کے استعمال میں توازن

خواتین گھر میں نرم انداز میں ’ڈجیٹل حدود‘ متعارف کراسکتی ہیں، مثلاً:

کھانے کے وقت موبائل نہ ہو۔

بچوں کے لئے اسکرین ٹائم مقرر ہو۔

خود مثال قائم کی جائے۔

(۵) تعریف اور حوصلہ افزائی کی ثقافت

اکثر گھروں میں شکایتیں تو عام ہیں مگر تعریف نایاب۔ یہ طریقہ درست نہیں۔ عورت اگر شوہر، بچوں اور بزرگوں کی چھوٹی کوششوں کو سراہنے لگے تو گھر کا مزاج بدلنے لگتا ہے۔

عورت کا خود مضبوط ہونا کیوں ضروری ہے؟ جو عورت خود تھکی ہوئی، دبی ہوئی اور نظرانداز شدہ ہو، وہ دوسروں کو کیسے جوڑ سکتی ہے؟

خود سے بات کرنا

اپنی پسند کا وقت نکالنا

جذبات کو دبانے کے بجائے سمجھداری سے بیان کرنا یا بیان کرنے میں دشواری ہو تو کاغذ پر لکھنا

یہ سب عورت کو اندر سے مضبوط بناتے ہیں۔

یہ بھی پڑھئے: یہ مشروبات وزن کم کرنے میں معاون ہوتے ہیں

نئی نسل کی تربیت

بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ گھر میں دیکھتے ہیں۔ اگر ماں رشتوں کو جوڑتی، بات چیت کو اہمیت دیتی اور احترام کو ترجیح دیتی ہے تو یہی رویے آنے والی نسل کی پہچان بنتے ہیں۔

نتیجہ

گھر کے بکھرتے رشتوں کو جوڑنے کے لئے کسی انقلابی تبدیلی کی ضرورت نہیں، بلکہ مسلسل محبت، سمجھداری اور شعوری کوشش درکار ہے۔ عورت اگر اپنے کردار کو بوجھ نہیں بلکہ طاقت سمجھے تو وہ گھر کو دوبارہ ایک زندہ،  مربوط اور محبت بھرا خاندان بنا سکتی ہے۔ کوشش کیجئے، یقیناً نتیجہ مثبت نکلے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK