اسلام میں زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ دولت کا ارتکاز نہ ہو، یہ چند ہاتھوں میں نہ سمٹ جائے اور کوئی غریب نہ رہے۔ آج پوری دُنیا کو اس فلسفےکی شدید ضرورت ہے جہاں غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر تر۔ دولت محض ایک طبقہ کی جاگیر بن گئی ہے۔
اسلام میں زکوٰۃ، صدقات اور خیرات کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ دولت کا ارتکاز نہ ہو، یہ چند ہاتھوں میں نہ سمٹ جائے اور کوئی غریب نہ رہے۔ آج پوری دُنیا کو اس فلسفےکی شدید ضرورت ہے جہاں غریب غریب تر ہوتا جارہا ہے اور امیر امیر تر۔ دولت محض ایک طبقہ کی جاگیر بن گئی ہے۔ دولت کی نابرابر تقسیم کو برابر کرنے ہی کے مقصد سے کہا گیا کہ زکوٰۃ کے پس پشت اسلام کا مقصد یہ ہے کہ لینے والا دینے والا بن جائے یعنی غریب غریب نہ رہے بلکہ اس میں اتنی معاشی قوت پیدا ہوجائے کہ وہ نہ صرف خود کفیل ہو بلکہ دوسروں کے تعاون کی اہلیت اس میں پیدا ہوجائے۔ سب جانتے ہیں کہ ہر سال کروڑوں روپے کی زکوٰۃ تقسیم ہوتی ہے مگر لینے والا دینے والا بنتا دکھائی نہیں دیتا۔ اس میں زکوٰۃ کی غیر دانشمندانہ تقسیم کا قصور ہے جس پر کافی کچھ لکھا جاتا رہا ہے۔ ہم نے بھی لکھا ہے۔ اس کالم میں ہمارا موضوع یہی ہے مگر تھوڑا مختلف۔ دست تعاون دراز کرنے والوں کو سوچنا چاہئے کہ وہ اپنے تعاون کے ذریعہ اسلام کے فلسفہ ٔ مساوات کی وسیع تر معنویت کو ملحوظ رکھتے ہیں یا ’’دے دلا کر چھٹی پا جانے‘‘ کے درپے رہتے ہیں تاکہ ثواب مل جائے پھر بھلے ہی اس کا بنیادی مقصد پورا ہو یا نہ ہو۔ یہ اندازِ فکر درست نہیں ہے۔
اسے ایک مثال کے ذریعہ سمجھتے ہیں ۔ ایک شخص ایک لاکھ روپے ۱۰۰؍ لوگوں میں تقسیم کرتا ہے۔ ہر ایک کے حصے میں ایک ہزار روپے آتے ہیں ۔ یہ ایک ہزار اُن افراد کا، جنہیں یہ میسر آئے ہیں ، کتنا بھلا کرسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں ۔ آج کے دور میں ایک ہزار روپے کی قدر ہی کتنی ہے۔ اگر یہی ایک لاکھ روپے اور اس طرح بہت سے لوگوں کے ایک ایک لاکھ روپے ایک جگہ جمع ہوں تو اس سے کئی ایسے کام ہوسکتے ہیں جن سے ملت کو غیر معمولی فائدہ ہو۔ ۱۰۰؍ لوگوں میں ایک لاکھ روپے تقسیم ہوتے ہیں تو کہاں جاتے ہیں کچھ پتہ ہی نہیں چلتا۔ اس کی وجہ سے کسی تبدیلی کی اُمید فضول ہے۔نہ تو اعانت پانے والے افراد کی زندگی میں تبدیلی آسکتی ہے نہ ہی ملت کی مجموعی معاشی حالت سنور سکتی ہے۔ مگر یہ بھی ذہن میں رہنا چاہئے کہ غرباء اور مستحقین کی چھوٹی چھوٹی ضرورتیں بھی ہوتی ہیں اس لئے چھوٹی چھوٹی رقمیں تقسیم کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی لئے وہ رقم جو بہ طور تعاون تقسیم کی جانی ہے اُس کے دو حصے ہونے چاہئیں ۔ ایک حصہ فوری اور چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کیلئے تقسیم کیا جائے اور دوسرا ملت کے کسی بڑے کام کیلئے۔ بہ الفاظ دیگر ایک حصہ مستحقین کو براہ راست دیا جائے اور دوسرا بیت المال یا ایسے ہی کسی معتبر ادارے کو سونپ دیا جائے جو بڑے مقاصد کو پیش نظر رکھے۔
اس طریقے کو ہم نے پیداواری اور غیر پیداواری کہا تھا۔ وہ جو چھوٹی چھوٹی ضرورتوں کیلئے دیا جائے گا غیر پیداواری ہوگا کہ اس سے چند فوری ضرورتیں ہی پوری ہوں گی مگر بقیہ حصہ جو بیت المال جیسے کسی ادارے میں یک مشت جمع ہو گا پیداواری مقاصد کیلئے استعمال ہو گا۔ ممکن ہے بیت المال جیسا کوئی ادارہ مستحقین کیلئے کسی بڑے اسپتال کے بارے میں سوچے، محروسین کی گلوخلاصی کیلئے خرچ کرے، نادار طلبہ کی اعلیٰ تعلیم کیلئے صرف کرے وغیرہ۔ اس طرح، صاحبانِ زر یا صاحبان نصاب پر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ دانشمندانہ استعمال کے بارے میں سوچیں اور اُسی پر عمل کریں ۔ اُن کا مقصد بس دے دینا نہیں ہونا چاہئے ۔