Inquilab Logo Happiest Places to Work

ڈبلیو ٹی او کا تازہ ٹریڈ پالیسی ریویو

Updated: August 01, 2026, 1:53 PM IST | Mumbai

برسراقتدار جماعت (بی جے پی) نے انتخابات جیتنے ہی کو معیار بنالیا ورنہ اس کی پارلیمانی طاقت کم نہیں۔ کوئی بھی بل منظور کروا لینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اِدھر کئی برسوں کا تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ حکومت کوئی بھی بل آسانی سے منظور کروا لیتی ہے۔

Photo: INN
تصویر: آئی این این

برسراقتدار جماعت (بی جے پی) نے انتخابات جیتنے ہی کو معیار بنالیا ورنہ اس کی پارلیمانی طاقت کم نہیں۔ کوئی بھی بل منظور کروا لینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ اِدھر کئی برسوں کا تجربہ اور مشاہدہ بتاتا ہے کہ حکومت کوئی بھی بل آسانی سے منظور کروا لیتی ہے۔ کئی بل تو ایسے بھی دیکھے گئے جن پر معمولی سے بھی کم بحث ہوئی اور اُنہیں منظوری حاصل ہوگئی۔ اتنی بڑی پارلیمانی طاقت معیشت کو مستحکم کرنے اور پھلتی پھولتی معیشت کا فائدہ عوام کے ایک ایک طبقے تک پہنچانے میں غیر معمولی طور پر مددگار ہوسکتی تھی۔ افسوس کہ برسراقتدار جماعت نے الیکشن جیتنے کا ریکارڈ تو قائم کیا اور ایسی ریاستوں میں بھی حکومت قائم کرلی جن کی بابت سوچا بھی نہیں جاسکتا تھا مگر معاشی مسائل کے حل پر اس کی توجہ نہیں رہی ورنہ نریندر مودی اقتدار میں آئے ہی تھے اس وعدے پر کہ ملک کی کایا پلٹ دینگے، کالا دھن واپس لایا جائیگا، گجرات ماڈل (جبکہ اس کی بھی پول کھل چکی ہے) پورے ملک میں نافذ کیا جائیگا، دو کروڑ روزگار فراہم ہوں گے اور ملک شاندار ترقی کے سفر پر گامزن ہوگا۔ اس حکومت کے پاس معاشی پیش رفتوں کا بہت اچھا موقع تھا۔ اس میں شک نہیں کہ اب بھی معاشی اور مالیاتی ادارے ہندوستانی معیشت کو مسترد نہیں کرتے۔ ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن (ڈبلیو ٹی او) کی تازہ رپورٹ (ٹریڈ پالیسی ریویو، ٹی پی آر) میں ملک کی شرح نمو ۷ء۳؍ فیصد بتائی گئی اور اسے جی ۲۰؍ میں سب سے تیز رفتار معیشت قرار دیا گیا مگر یہ ایسی نمو ہے جو روزگار پیدا کرنے میں ناکام ہے اسی لئے اسے ’’جاب لیس گروتھ‘‘ کہا جاتا ہے۔ ایسی نمو کس کام کی جو عام آدمی تک نہ پہنچے اور اُس کی زندگی میں راحت کی ایک لہر تک نہ دوڑا سکے۔ ملک کی جی ڈی پی بڑھے اور فی کس آمدنی (پَر کیپٹا جی ڈی پی) نہ بڑھے تو یہ کوئی کمال نہیں ہے۔ ڈبلیو ٹی او کی مذکورہ رپورٹ میں یہ نشاندہی بھی کی گئی ہے۔ کہا گیا ہے کہ فی کس جی ڈی پی (۲۶۷۱؍ ڈالر) اتنی کم ہے کہ اس کی وجہ سے ہندوستان نچلی متوسط آمدنی کے حلقے (لووَر مڈل انکم بریکیٹ) میں ہی جگہ پاسکتا ہے۔ معیشت اعداد و شمار میں پھنس جائے اور اس کی ترقی ہر سیکٹر اور ہر ریاست اور ہر طبقہ ٔ آبادی تک نہ پہنچ پائے تو ایسی معیشت کی قدر نہیں کی جاتی خواہ کتنی ہی رپورٹوں میں اُمید کی کرنیں موجود ہوں اور جا بجا دکھائی دیتی ہوں۔ حکومت کی غلط معاشی پالیسیوں ہی کا نتیجہ ہے کہ زراعتی شعبہ جو معیشت کیلئے بہت اہم ہے اور ۴۶؍ فیصد ورک فورس کو روزگار فراہم کرتا ہے، خستہ حالی کا شکار ہے ورنہ کسانوں میں اتنی بے چینی نہ پائی جاتی جتنی گزشتہ چند برسوں میں دیکھی گئی۔ آج بھی پنجاب اور ہریانہ کے کسان سڑکوں پر ہیں۔ کچھ روز پہلے تک مدھیہ پردیش کے کسان بھی سڑکوں پر تھے۔ ایران امریکہ جنگ کی وجہ سے تیل کی قیمتوں نے، روپے کی تسلسل کے ساتھ گھٹتی قدر نے اور ہند امریکہ تجارتی معاہدہ کے سبب، جو آخری مراحل میں بتایا جارہا ہے، ایسا دباؤ قائم ہوا ہے کہ معیشت کے پسینے چھو‘ٹتے دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں اگر حکومت کی منصفانہ معاشی پالیسی اسے سنبھالا نہیں دے گی تو کون دے گا؟ آدمی اپنا گھر خود ٹھیک کرتا ہے، کوئی باہر سے آکر ٹھیک نہیں کر دیتا۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK