• Fri, 18 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

امریکی فیڈرل ریزرو نے ۳؍ سال میں پہلی مرتبہ شرح سود میں اضافہ کیا

Updated: September 18, 2026, 2:06 PM IST | Agency | Washington

 امریکی فیڈرل ریزرو نے طویل وقت سے جاری اونچی افراطِ زر کو مدِنظر رکھتے ہوئے پالیسی شرحِ سود کے دائرے میں ۲۵ء۰؍ فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔

Fed Chairman Kevin Warsh. Photo: INN
فیڈ کے چیئرمین کیون وارش۔ تصویر: آئی این این

 امریکی فیڈرل ریزرو نے طویل وقت سے جاری اونچی افراطِ زر کو مدِنظر رکھتے ہوئے پالیسی شرحِ سود کے دائرے میں ۲۵ء۰؍ فیصد کا اضافہ کر دیا ہے۔

فیڈ کے دو روزہ اجلاس کے بعد بدھ کو جاری کردہ بیان میں بتایا گیا کہ فیڈرل اوپن مارکیٹ کمیٹی (ایف اوایم سی) کے تمام۱۲؍ اراکین نے شرحِ سود میں ایک چوتھائی فیصد اضافہ کر کے اسے۷۵ء۳؍فیصد سے ۴؍فیصد کے درمیان کرنے کے حق میں ووٹ دیا۔ نئی شرحیں۱۷؍ ستمبر سے نافذ  ہو گئی ہیں۔ 

واضح رہےکہ سال۲۰۲۳ء کے بعد فیڈ نے پہلی بار شرحِ سود میں اضافہ کیا ہے۔ اس سے قبل شرحِ سود کا دائرہ۵۰ء۳؍ فیصد سے۷۵ء۳؍ فیصد کے درمیان تھا۔

یہ بھی پڑھئے:وزیراعظم مودی نے سیمی کون انڈیا کا افتتاح کیا

امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ طویل عرصے سے فیڈ سے شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن فیڈ نے متفقہ طور پر ان کے مطالبے کے خلاف فیصلہ کیا ہے۔ فیڈ کے فیصلے کے بعد ٹرمپ نے ایک سوشل میڈیا پوسٹ میں شرحِ سود میں کمی کا مطالبہ دہرایا اور جلد ایسا کرنے کا مشورہ دیا۔ فیڈرل ریزرو کے چیئرمین کیون وارش نے بعد میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ فیڈ نے ایک سنجیدہ فیصلہ کیا ہے لیکن یہ ضروری تھا۔ انہوں نے کہا، ’’بالکل واضح حقیقت یہ ہے کہ افراطِ زر کافی زیادہ ہے اور یہ طویل عرصے سے ہے۔‘‘

فیڈ کے بیان میں کہا گیا ہے کہ افراطِ زر کی شرح اونچی ہے۔ بدھ کے فیصلے سے اسے کمیٹی کے۲؍ فیصد کے ہدف کی طرف واپس لانے میں مدد ملے گی۔ شرحِ سود بڑھانے کے فیصلے کے بعد امریکی شیئر بازاروں میں گراوٹ دیکھی گئی۔ ڈاؤ جونز۱ء۲۱؍ فیصد اور ایس اینڈ پی۵۰۰؍ انڈیکس ۰ء۴۵؍ فیصد گر گیا۔

امریکہ میں ریٹیل افراطِ زر کی شرح کورونا دور کے بعد اس سال پہلی بار۳؍ فیصد سے اوپر رہنے کا پورا امکان ہے۔ یہ سال۲۰۲۴ءمیں۲ء۶؍ فیصد اور۲۰۲۵ء میں۲ء۸؍ فیصد  تھی۔ فیڈ نے اس سال اس کے۳ء۷؍ فیصد رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے۔ اس سے قبل جون میں اس کے۳ء۶؍ فیصد رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا تھا۔ 

مہنگائی تشویش کی وجہ 
فیڈ کے معاشی تخمینوں میں سال۲۰۲۶ء کے لئے مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) میں نمو کا تخمینہ۲ء۲؍ فیصد سے بڑھا کر۳ء۲؍ فیصد اور بے روزگاری کی شرح کا تخمینہ۴ء۳؍ فیصد سے گھٹا کر۱ء۴؍ فیصد کر دیا گیا ہے۔ ان دونوں محاذوں پر بہتری نظر آ رہی ہے لیکن مہنگائی اب بھی تشویش کی وجہ ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK