• Sat, 19 September, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

بچوں کے ڈبہ بند دُودھ پر گمراہ کن دعویٰ، نیسلے کیخلاف کارروائی

Updated: September 19, 2026, 12:18 PM IST | Agency | New Delhi

فوڈ سیکوریٹی اتھاریٹی نے بین الاقوامی کمپنی کے خلاف ۳؍ مقدمے دائر کئے، ’نان ایکسیلا پرواسٹیج-۱ ‘ اور ’لیکٹوجن پرو-۱‘ کے تعلق سے ضوابط کی پیروی نہ کرنے کا الزام۔

Nestlé is facing action over the advertising of tinned milk for infants. Photo: INN
نیسلے کو نونہالوں کے ڈبہ بند دودھ کی تشہیر پر کارروائی کا سامنا ہے۔ تصویر: آئی این این

ملک کی فوڈ سیوکریٹی اتھاریٹی ’’ایف ایس ایس اے آئی‘‘ نے نونہالوں    کے ڈبہ بند دودھ ’’نان ایکسیلا پرو اسٹیج-۱‘ اور ’لیکٹوجن پرو-۱‘ سے متعلق ضابطوں کی خلاف ورزی پر نیسلے انڈیا کے خلاف قانونی کارروائی کی ہے۔ایف ایس ایس اے آئی کے مطابق ’’نان ایکسیلا پرو اسٹیج-۱‘‘  سے متعلق’’۵؍ایچ ایم اوز‘‘ اور ’’وہے پروٹین‘‘ جبکہ لیکٹوجن پرو-۱؍ کے تعلق سے ’’وہے پروٹین آسانی سے ہضم ہونے‘‘ کا دعویٰ قواعد کے خلاف پایا گیا ہے۔ اتھاریٹی نے کہا کہ بچوں کی غذاؤں کی فروخت بڑھانے کیلئے ایسے تشہیری دعوے ممنوع ہیں۔

  فوڈاتھاریٹی نے نیسلے سے ان دعوؤں پر وضاحت طلب کی ہے اور ۳؍ الگ الگ مقدمات دائر کیے ہیں۔ایف ایس ایس اے آئی نے یہ بھی بتایا کہ نیسلے کے تیار کردہ فالو اَپ فارمولا دودھ کے ایک نمونے میں بایوٹن کی مقدار مقررہ معیار کے مطابق نہیں پائی گئی۔ دوبارہ جانچ میں بھی نمونہ ضوابط پر پورا نہیں اترا۔

یہ بھی پڑھئے:اقوام متحدہ کی ۸۱؍ ویں جنرل اسمبلی کے صدر خلیل الرحمٰن کون ہیں؟

نوزائدہ کیلئے متبادل دودھ کی تشہیر ممنوع

ایف ایس ایس اے آئی کا کہنا ہے کہ اشتہارات میں یہ دعوے فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈس (فوڈز فار انفینٹ نیوٹریشن) ریگولیشنس۲۰۲۰ء کے ضابطہ۴(۲) کی خلاف ورزی ہیں۔ اس ضابطہ کے تحت بچوں کی غذاؤں(ڈبہ بند دودھ) کی فروخت بڑھانے کیلئے تشہیری دعووں یا مواد پر پابندی ہے۔اتھاریٹی نے ۱۹۹۲ء کے انفینٹ ملک سبسٹی ٹیوٹس،  فیڈنگ بوٹلس اینڈ انفینٹ فوڈس  ایکٹ کی دفعہ۳؍کا بھی حوالہ دیا، جس کے تحت بچوں کے دودھ کے متبادل اور بچوں کی غذاؤں کی تشہیر و فروغ ممنوع ہے۔

گمراہ کن تشہیر اور غلط لیبلنگ کے خلاف مہم 

یہ کارروائی فوڈ کمپنیوں کی گمراہ کن تشہیر اور غلط لیبلنگ کے خلاف جاری مہم کا حصہ ہے۔ اگست میں ایف ایس ایس اے آئی نے بتایا تھا کہ ایسی خلاف ورزیوں پر مختلف کمپنیوں کو۱۵۰؍ سے زیادہ نوٹس جاری کئے جاچکے  ہیں۔اس سے قبل جون میں نیسلے کو میگی نوڈلز میں کیڑے کے لاروا کی موجودگی پر بھی نوٹس دیا گیا تھا۔ کمپنی نے  مذکورہ  الزام مسترد کرتے ہوئے کہا تھا کہ آزاد لیباریٹری کی جانچ میں نمونہ خراب یا آلودہ نہیں پایا گیا۔

نیسلے کا حکومت سے مطالبہ

اس بیچ ایک علاحدہ معاملہ میں نیسلے نے حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ پیک شدہ غذاؤں پر سامنے کی جانب لیبلنگ کے قواعد تیار کرتے وقت انڈسٹری کے ذمہ داران سے بھی صلاح و مشورہ کیا جائے۔ نیسلے کے چیف ایگزیکٹیو فلپ نیورٹل نے کہا کہ قواعد تیار کرنے کے عمل میں کمپنیوں سے مشورہ کیا جانا چاہیے اور یہ نظام’’سائنسی بنیادوں‘‘پر تیار ہونا چاہیے۔ مجوزہ قواعد میں زیادہ شکر، نمک اور چکنائی والی پیک شدہ غذاؤں پر انتباہی لیبل لگانے کی تجویز ہے۔

یہ بھی پڑھئے:جنگ کے درمیان ایرانی صدر پیزشکیان امریکہ جائینگے

نیسلے کے خلاف کارروائی کی اہم وجوہات:
نان ایکسیلا پرو اسٹیج-۱ پر’’۵؍ ایچ ایم اوز‘‘اور’’وہے پروٹین‘‘ سے متعلق دعوے کئے گئے ۔
 لیکٹوجن پرو-۱ ؍پر دعویٰ کیا گیا  کہ اس میں موجود وہے پروٹین آسانی سے ہضم ہو جاتا ہے۔
بچوں کے ڈبہ بند  دودھ اور غذائی مصنوعات کی فروخت بڑھانے کیلئے تشہیری دعووں پر پابندی ہے۔
نیسلے کی ایک فالو اَپ فارمولا  کے نمونے میں بایوٹن، یعنی وٹامن بی۷؍ کی مقدار مقررہ معیار سے کم پائی گئی۔
نیسلے  سے وضاحت طلب کی گئی ہے مگر جواب نہیں ملا۔ 

ایف ایس ایس اے آئی پر عدالتی دباؤ

واضح رہے کہ ایف ایس ایس اے آئی پر سپریم کورٹ کا بھی دباؤ ہے۔ ملک کی سب سے بڑی عدالت نے فوڈ سیفٹی ایجنسی  سے کھانے پینے کی اشیاء پر سامنے کی  وارننگ لیبل نافذ کرنے کیلئے واضح ٹائم لائن طلب کی ہے۔ اتھاریٹی  نے دو مرحلوں پر مشتمل نظام تجویز کیا ہے۔ پہلے مرحلے میں کم از کم ۲؍مقررہ غذائی اجزا کی زیادہ مقدار رکھنے والی مصنوعات پر انتباہی لیبل لگائے جائیں گے جبکہ دوسرے مرحلے میں کسی ایک غذائی جزو کی زیادہ مقدار رکھنے والی مصنوعات کو بھی اس دائرے میں شامل کیا جائے گا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK