جمعہ سید الایام ہے۔ اس دن نمازِ جمعہ کی خاطر وہ ایسے مسلمان بھی مساجد کی طرف کشاں کشاں چلے آتے ہیں جو عام دِنوں میں نماز نہیں پڑھتے۔
جمعہ سید الایام ہے۔ اس دن نمازِ جمعہ کی خاطر وہ ایسے مسلمان بھی مساجد کی طرف کشاں کشاں چلے آتے ہیں جو عام دِنوں میں نماز نہیں پڑھتے۔ مساجد کی طرف دوڑنے اور نمازِ جمعہ کیلئے دیگر کاموں کو بالائے طاق رکھنے کا ایسا رجحان کسی بھی عام دن میں دکھائی نہیں دیتا۔ اسے بندوں کی کوشش کہنے میں اس لئے تامل ہے کہ یہ یاد دہانی کوئی نہیں کراتا کہ ’’آج جمعہ ہے‘‘ یا ’’نماز ِ جمعہ کا وقت قریب آرہا ہے‘‘۔ یہ توفیق از خود ہوتی ہے اور دس بیس یا سو پچاس لوگوں کو نہیں ہوتی بلکہ ہر خاص و عام کو ہوتی ہے۔ اس کا معنی یہ ہے کہ اس نظام کو تحفظ ِ خداوندی حاصل ہے۔ رب العالمین نے موقع عنایت فرمایا ہے کہ ایک بستی کے تمام مسلمان ایک جگہ جمع ہوکر نمازِ جمعہ ادا کریں ۔ اسی لئےیوم جمعہ کو ہفتے کی عید بھی کہا جاتا ہے۔
اس نظام پر غور کیجئے۔ دُنیا بھر میں جہاں جہاں مسلمان آباد ہیں وہاں وہاں یہ نظم قائم ہے اور وقت کے ساتھ اس میں برکت ہورہی ہے۔ نئی مساجد کی تعمیر کے علاوہ جن مساجد میں کل تک جمعہ نہیں ہوتا تھا اب وہاں بھی ہونے لگا ہے۔ وجہ آبادی کا بڑھنا ضرور ہے مگر اس میں توفیق کا دخل بھی ہے کہ آبادی بڑھی تو نمازِ جمعہ کیلئے حاضر ہونے والوں کی تعداد بھی بڑھی۔ اس طرح مشیت ایزدی سے یہ ایک پلیٹ فارم مسلمانوں کو ملا جس میں نہ صرف یہ کہ وہ یکجا ہوتے ہیں بلکہ پورے اہتمام سے یکجا ہوتے ہیں اور صرف نماز ادا نہیں کرتے بلکہ خطبے کی سماعت کا بھی اہتمام کرتے ہیں ۔ اس پلیٹ فارم کو جتنا مؤثر بنایا جائیگا اُتنا ہی اس کے فوائد عام ہوں گے۔ خطبہ سے قبل جو بیان ہوتا ہے اُس کو زیادہ سے زیادہ ترغیبی بنانے اور اس میں ایسے نکات پر اظہار خیال کی فکر ضروری ہے جن پر سامعین غوروفکر کریں ورنہ اتنے اہتمام اور تواتر سے سب کے یکجا ہونے اور کچھ سننے سنانے کا کوئی اور پلیٹ فارم تو ہے نہیں ۔ بیان کیلئے مامور کئے جانے والے افراد اس موقع کا فائدہ اُٹھا کر قرآن و حدیث کی روشنی کچھ اس طرح بکھیر سکتے ہیں کہ سامعین اُن میں اپنے مسائل کا حل تلاش کرسکیں ، اُن کی فکر بالیدہ ہو، اُن میں غور و فکر کا مادہ پیدا ہو اور وہ جب ادائیگی ٔ نماز کے بعد مسجد سے رخصت ہوں تو اپنے اندر علم کی، معلومات کی، غوروفکر کے کسی نکتے کی، اہل علم کے کسی واقعہ کی اور حکمت و بصیرت کے کسی پہلو کی توانائی محسوس کریں ۔و ہ گواہی دیں کہ بیان سے مستفید ہوئے ہیں ۔
یہ اس لئے ضروری ہے کہ آج کے دور میں جب ہر شخص مصروف ہے، کسی کو روک کر نصیحت کرنا ممکن نہیں ہوسکتا۔ کوئی علمی نکتہ سمجھانے کا محل نہیں ہوتا۔ کوئی اچھی بات بتانے کا موقع نہیں ہوتا۔ مگر اسی مصروف زندگی میں ، ہفتے میں ایک دن ایسا آتا ہے جب کسی مقرر کو خطبہ ٔ جمعہ سے پہلے کچھ کہنے سننے کا موقع ملتا ہے وہ بھی اس ماحول میں کہ ہر مصلی مہذب و مؤدب انداز میں گوش بر آواز رہتا ہے۔ اگر اسے سنہری موقع نہ کہا جائے تو پھر سنہری موقع کیا ہوتا ہے؟ اس کو زیادہ سے زیادہ کارآمد بنانے کا اختیار منتظمین مساجد کے پاس ہوتا ہے۔ اگر وہ پہلےسے طے کرکے عنوانات (مثلاً صلہ رحمی، ایمانداری، حقوق العباد، ذوقِ عبادت، سماجی زندگی میں ڈسپلن کی اہمیت وغیرہ) مقرر حضرات کو دے دیں تو دس پندرہ منٹ ہی میں سہی، مصلیان کی رہنمائی ممکن ہوسکتی ہے۔ یہ اہتمام بہت سی مساجد میں ہوتا ہے مگرہر مسجد میں ہو تو استفادہ کا دائرہ وسیع ہوگا اور رہنمائی دور تک پہنچے گی ۔