تاریخِ انسانی کا اگر بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اقتدار، طاقت اور غلبہ ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ’’انصاف‘‘ ایک ایسی قدر و قوت ہے جس پر کائنات کا توازن قائم ہے۔ اس کے برعکس ’’ظلم‘‘ وہ ناپسندیدہ فعل ہے جسے نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کے ہر مہذب معاشرہ اور اخلاقی ضابطے میں بدترین جرم سے تعبیر کیا گیا ہے۔
ظلم کو روکنا بھی ضروری ہے اور مظلوم کا ساتھ دینا بھی، یہی اسلام کی تعلیم ہے۔ تصویر: آئی این این
تاریخِ انسانی کا اگر بنظرِ غائر مطالعہ کیا جائے تو ایک حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہوتی ہے کہ اقتدار، طاقت اور غلبہ ہمیشہ رہنے والی چیزیں نہیں ہیں، بلکہ ’’انصاف‘‘ ایک ایسی قدر و قوت ہے جس پر کائنات کا توازن قائم ہے۔ اس کے برعکس ’’ظلم‘‘ وہ ناپسندیدہ فعل ہے جسے نہ صرف اسلام بلکہ دنیا کے ہر مہذب معاشرہ اور اخلاقی ضابطے میں بدترین جرم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ مذہب ِ اسلام نے ظلم کی تعریف جامع انداز میں اس طرح بیان کی ہے کہ’’کسی چیز کو اس کے اصل مقام سے ہٹا کر نامناسب جگہ رکھ دیا جائے، یا کسی کا جائز حق غصب کر لیا جائے‘‘ وہ ظلم کے زمرہ میں آتا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: معروف و منکر: ایک دعوتی و تربیتی فریضہ
درحقیقت، اللہ رب العزت کا یہ اٹل ضابطہ ہے کہ وہ کسی قوم کو محض غفلت پر تباہ نہیں کرتا بلکہ ہلاکت تب مقدر بنتی ہے جب معاشرہ شعوری طور پر ظلم کی راہ اختیار کر لے اور اصلاح سے منہ موڑ لے۔ قرآنِ کریم اس آفاقی قانون کی وضاحت یوں کرتا ہے: ’’یہ (رسولوں کا بھیجنا) اس لئے تھا کہ آپ کا رب بستیوں کو ظلم کے باعث ایسی حالت میں تباہ کرنے والا نہیں ہے کہ وہاں کے رہنے والے (حق کی تعلیمات سے بالکل) بے خبر ہوں (یعنی انہیں کسی نے حق سے آگاہ ہی نہ کیا ہو)۔‘‘ (الانعام: ۱۳۱) یہ دراصل اسی آفاقی قانون کا خلاصہ ہے جو مکافاتِ عمل کی صورت میں ہر فرد اور ہر دور پر لاگو ہوتا ہے۔ جہاں حق دار کو اس کا صحیح حق نہ ملے،خواہ وہ انفرادی ہو یا اجتماعی، مادی ہو یا اخلاقی، فکری ہو یا سیاسی،وہیں سے ظلم جنم لیتا ہے۔ نبیؐ کریم نے اس کی سنگینی سے خبردار کرتے ہوئے فرمایا: ’’ظلم قیامت کے دن تاریکیوں کا سبب بنے گا۔‘‘ اس کی سنگینی کا اندازہ اس حدیث مبارکہ سے بھی ہوتا ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوقات، حتیٰ کہ جانور بھی، ایک دوسرے پر ہونے والے ظلم کا حساب دیں گے؛ یہاں تک کہ بے سینگ بکری کے لئے سینگ والی بکری سے قصاص لیا جائے گا۔ (صحیح مسلم)
یہاں ایک فکری مغالطے کا ازالہ ضروری ہے کہ ہمارے معاشرے نے ظلم کو محض آمریت یا جابر حکمرانی تک ہی محدود کر لیا ہے، جو کہ ایک غلط فہمی ہے۔ دراصل ظلم کی جڑیں فردِ واحد کے رویوں اور ہمارے گھروں سے پنپتی ہیں۔ مثلاً وارثین کا حق مارنا، رشتہ داروں پر مالی و جذباتی دباؤ بنانا، اور فردِ واحد کے ذریعے چھوٹے چھوٹے حقوق کی پامالی بھی ایک ’’خاموش ظلم‘‘ ہے جسے ہمارا سماج اکثر نظر انداز کرتا آ رہا ہے۔اسی تناظر میں ’’خانگی تشدد‘‘ (Domestic Violence) کی وہ صورتیں بھی شامل ہیں جو گھر کی چار دیواری کو سکون کے بجائے سے سکونی عطا کرتی ہیں۔ یہ تشدد محض جسمانی اذیت دینے کا نام نہیں، بلکہ کسی کو مسلسل طعنے دینا، تحقیر آمیز القاب سے پکارنا، معاشی طور پر محتاج بنانا یا جذباتی طور پر بلیک میل کرنا بدترین ذہنی و نفسیاتی ظلم ہے۔ وراثت میں خواتین کا حصہ غصب کرنا یا بوڑھے والدین کو ان کے بنیادی حقوق سے محروم رکھنا بھی اسی زمرے میں آتا ہے۔ جب گھر کے اندر عدل و محبت کے بجائے جبر اور خوف کا پہرہ ہو، تو خاندانی وحدت اور اس کی بنیادیں کھوکھلی ہو جاتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: قناعت اختیار کرلیجئے، ہر مشکل آسان محسوس ہوگی
مزید برآں، پڑوسی کو اذیت دینا، اس کی عزت مجروح کرنا یا کسی فردِ واحد کی مجبوری کا ناجائز فائدہ اٹھانا بھی سنگین جرم میں شامل ہے، جس کی وجہ سے سماجی اجتماعیت بکھر جاتی ہے۔ جب عام آدمی ان رویوں کو روزمرہ کا معمول سمجھنے لگے تو یہیں سے زوال کی جڑیں مضبوط ہوتی ہیں، کیونکہ معاشرے کی بقا صرف ان لوگوں سے وابستہ ہے جو اصلاح کا علم بلند رکھتے ہیں: ’’اور آپ کا رب ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے، جبکہ وہاں کے لوگ اصلاح کرنے والے ہوں۔‘‘ (سورہ ہود: ۱۱۷) اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں تنبیہ کے لئے اسباب فراہم کئے ہیں تاکہ کوئی عذر باقی نہ رہے: ’’اور آپ کا رب بستیوں کو تباہ کرنے والا نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس کے بڑے مرکزی شہر میں پیغمبر بھیج دے جو ان پر ہماری آیتیں تلاوت کرے، اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہیں ہیں مگر اس حال میں کہ وہاں کے مکین ظالم ہوں۔‘‘ (القصص: ۵۹)
قرآن اس جانب بھی ہمیں متوجہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر ظالم کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے: ’’اور یہ بستیاں ہیں ہم نے جن کے رہنے والوں کو ہلاک کر ڈالا جب انہوں نے ظلم کیا اور ہم نے ان کی ہلاکت کے لئے ایک وقت مقرر کر رکھا تھا۔‘‘ (سورہ الکہف: ۵۹)
جب الٰہی قانونِ گرفت حرکت میں آتا ہے، تو اس کی پکڑ نہایت سخت اور تکلیف دہ ہوتی ہے: ’’اور اسی طرح آپ کے رب کی پکڑ ہوا کرتی ہے جب وہ بستیوں کی اس حال میں گرفت فرماتا ہے کہ وہ ظالم (بن چکی) ہوتی ہیں۔ بے شک اس کی گرفت دردناک (اور) سخت ہوتی ہے۔‘‘ (سورہ ہود: ۱۰۲)۔ سیدنا حضرت علیؓ کا قول ہے: ’’دنیا کا نظام کفر کے ساتھ تو چل سکتا ہے مگر مستقل ظلم کے ساتھ نہیں (چل سکتا)۔‘‘ اسی فلسفے کی تائید میں شیخ الاسلام ابن تیمیہ ؒ فرماتے ہیں: ’’بے شک اللہ تعالیٰ عادل حکومت کو قائم رکھتا ہے اگرچہ وہ کافر ہو، اور ظالم حکومت کو قائم نہیں رکھتا اگرچہ وہ مسلمان ہو۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: بیمار کی عیادت بہت بڑا عمل ہے، ستر ہزار فرشتے رحمت کی دُعا بھیجتے ہیں!
لہٰذا ہمیں ہمیشہ حتی الامکان اپنے اردگرد ظلم کے خلاف آواز بلند کرنی چاہئے۔ اس کے ساتھ ہی مظلوم کی آہ سے بھی ڈرنا چاہئے، کیونکہ مظلوم کی آہ ایک ایسی روحانی قوت بن جاتی ہے جس کے سامنے دنیاوی جاہ و جلال اور تخت و تاج ریت کی دیوار ثابت ہوتے ہیں۔ سرکار دو عالمؐ نے ارشاد فرمایا: مظلوم کی دعا(آہ ) سے بچو، کیونکہ اس کے اور اللہ کے درمیان کوئی پردہ نہیں۔‘‘
تاریخ گواہ ہے کہ فرعون، نمرود اور ہٹلر جیسے جابر جب اپنی انتہا پر پہنچے تو مظلوم کی فریاد نے انہیں نیست و نابود کر دیا اور ان سب کا ابدی ٹھکانا جہنم ہے۔یہ قانون دنیا و آخرت دونوں پر نافذ ہے؛ دنیا میں ظالم بظاہر خوشحال نظر آئے گا، مگر وہ اندر سے ہمیشہ خوف اور بے چینی کے سایہ میں جیتا ہے۔ لہٰذا ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم خاموش تماشائی نہ بنیں، خود بھی ظلم سے بچیں اور حق کا ساتھ دیں۔ حق کے معاملے میں مصلحت پسندی یا خاموشی بھی دراصل ظالم کی معاونت ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خواہشوں کا غلام نہیں، اُن کا رہبر بنیں!
حاصلِ کلام یہ ہے کہ اقوام کی بقا اور معاشروں کا استحکام صرف اور صرف حقیقی عدل اور انصاف میں پنہاں ہے۔ ظلم وقتی کامیابی تو دے سکتا ہے مگر مستقل کامیابی اور پائیدار امن نہیں دے سکتا کیونکہ ظالم اپنے تضادات، اندرونی بے چینی اور مظلوم کی آہ سے خود ہی فنا ہو جاتا ہے۔