Inquilab Logo Happiest Places to Work

کیا نئی نسل روحانیت سے آگاہ ہے؟

Updated: March 27, 2026, 4:21 PM IST | Mudassir Ahmad Qasmi | Mumbai

روحانیت کسی پیچیدہ عمل کا نام نہیں بلکہ اس کا مفہوم یہ ہے کہ انسان احکامِ شریعت کے مطابق زندگی گزارے۔

If proper training, guidance, and a clean environment are provided from childhood, our generation will surely be strong in religious and moral terms. Photo: INN
بچپن ہی سے صحیح تربیت، رہنمائی اور پاکیزہ ماحول فراہم کیا جائے تو یقیناً ہماری نسل دینی و اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہوگی۔ تصویر: آئی این این

بچپن انسان کی زندگی کا وہ نازک اور زرخیز دور ہوتا ہے جس میں جو بیج بو دیا جائے، وہ پوری عمر تناور درخت بن کر سایہ فگن رہتا ہے۔ اگر اس عمر میں شخصیت کو اعلیٰ اقدار، پاکیزہ عادات اور دینی و روحانی رنگ سے آراستہ کر دیا جائے تو اس کے اثرات تا عمر واضح طور پر جھلکتے ہیں۔ روحانیت بھی انہی بنیادی اور لازمی عناصر میں سے ہے کہ اگر اس کی طرف بچپن ہی سے توجہ دی جائے تو انسان عمر کے مختلف مراحل طے کرتے ہوئے روحانی ترقی کی منازل بخوبی طے کرتا چلا جاتا ہے۔ اسی لئے قرآن و حدیث میں اولاد کی دینی و اخلاقی تربیت پر خصوصی زور دیا گیا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’اے ایمان والو! اپنے آپ کو اور اپنے گھر والوں کو جہنم کی آگ سے بچاؤ۔‘‘ (سورہ التحریم:۶) اسی طرح آپؐ کا ارشاد ہے: ’’تم میں سے ہر ایک نگہبان ہے اور ہر ایک سے اس کی رعیت کے بارے میں پوچھا جائیگا۔‘‘ (بخاری) یہ تعلیمات اس بات کی واضح دلیل ہیں کہ بچپن سے ہی روحانیت کی آبیاری نہایت ضروری ہے۔

یہ بھی پڑھئے: معروف و منکر: ایک دعوتی و تربیتی فریضہ

روحانیت کے تعلق سے ہمارے معاشرہ میں بعض غلط فہمیاں بھی پائی جاتی ہیں جو اس کے فروغ میں رکاوٹ بنتی ہیں۔ ایک عام تصور یہ ہے کہ روحانیت صرف بڑھاپے کا مشغلہ ہے، جب انسان دنیاوی مصروفیات سے فارغ ہو جائے تب اس کی طرف متوجہ ہو؛ جب کہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔ روحانیت تو زندگی کے ہر مرحلے کی ضرورت ہے، خصوصاً نو عمری میں اس کی اہمیت اور بڑھ جاتی ہے، کیونکہ یہی وہ دور ہے جب انسان کے اندر خواہشات اور رجحانات شدت اختیار کرتے ہیں۔ دوسری غلط فہمی یہ ہے کہ روحانیت صرف علماء یا دینی علوم کے ماہرین کے لئے مخصوص ہے، عام لوگ یا عصری تعلیم یافتہ طبقہ اس کا اہل نہیں۔ یہ تصور بھی سراسر غلط ہے کیونکہ روحانیت کا تعلق نہ عمر سے ہے اور نہ کسی خاص طبقے سے، بلکہ یہ ہر اس انسان کیلئے ہے جو اپنے رب سے تعلق مضبوط کرنا چاہتا ہے۔

یاد رکھیں! روحانیت کسی پراسرار یا پیچیدہ عمل کا نام نہیں بلکہ اس کا بنیادی مفہوم یہ ہے کہ انسان اپنی پوری زندگی، خواہ وہ دینی ہو یا دنیوی، کو احکامِ شریعت کے مطابق اور خالصتاً اللہ تعالیٰ کی رضا کے لئے گزارے۔ جب بندہ نماز، روزہ، ذکر و اذکار اور تلاوتِ قرآن کی پابندی کے ساتھ اپنے معاملات میں بھی اخلاص پیدا کرتا ہے تو وہ دراصل روحانیت کے سفر پر گامزن ہو جاتا ہے۔ اس سفر میں انسان اپنے اعمال کے بقدر روحانی منازل طے کرتا ہے اور حلاوتِ ایمانی سے لطف اندوز ہوتا ہے۔ قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے: ’’یقیناً وہ کامیاب ہوگیا جس نے اپنے نفس کو پاک کرلیا۔‘‘ (الشمس:۹ ) یہ آیت اس حقیقت کو اجاگر کرتی ہے کہ روحانیت دراصل تزکیۂ نفس اور باطنی اصلاح کا نام ہے، جو ہر مؤمن کا مقصدِ حیات ہونا چاہئے۔اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری نئی نسل روحانیت کے اعلیٰ مدارج طے کرے تو اس کے لئے ضروری ہے کہ انہیں اچھی تعلیم، عمدہ تربیت اور صالح صحبت سے مزین کیا جائے۔ تعلیم صرف کتابی معلومات کا نام نہیں بلکہ کردار سازی کا ایک مؤثر ذریعہ ہے اور تربیت وہ عمل ہے جو انسان کے ظاہر و باطن کو سنوارتا ہے۔

یہ بھی پڑھئے: قناعت اختیار کرلیجئے، ہر مشکل آسان محسوس ہوگی

 اسی طرح صحبت کا اثر بھی بہت گہرا ہوتا ہے، جیسا کہ کہا گیا ہے: ’’صحبت ِ صالح ترا صالح کند‘‘ یعنی نیک لوگوں کی صحبت انسان کو بھی نیک بنا دیتی ہے۔ جب بچے ایسے ماحول میں پروان چڑھتے ہیں جہاں دینداری، خدا ترسی، خوش خلقی، اخلاق اور روحانیت کو قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہو، تو وہ خود بخود ان صفات کو اپنانے لگتے ہیں۔

اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی نہایت اہم ہے کہ بچوں کو ان تمام عوامل سے بچایا جائے جو انہیں روحانیت سے دور کرتے ہیں۔ بری صحبت سے اجتناب جہاں ہر دور میں ضروری رہا ہے، وہیں موجودہ زمانے میں موبائل فون اور سوشل میڈیا کا غلط استعمال ایک انتہائی خطرناک چیلنج بن چکا ہے۔ غیر مفید اور فحش مواد، وقت کا ضیاع، اور ذہنی انتشار، یہ سب چیزیں بچوں کے دل و دماغ کو روحانیت سے دور کررہی ہیں۔ اس لئے والدین اور اساتذہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ بچوں کے معمولات اور عادات پر نظر رکھیں، انہیں مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کریں اور ٹیکنالوجی کے صحیح اور محدود استعمال کی تلقین کریں۔

اس مقصد کے حصول کے لئے سب سے اہم کردار والدین اور بڑوں کا ہے، کیونکہ بچے وہی سیکھتے ہیں جو وہ اپنے ماحول میں دیکھتے ہیں۔ اگر ماں باپ خود نماز کے پابند ہوں، ذکر و تلاوت کا اہتمام کریں، اخلاقِ حسنہ کا مظاہرہ کریں اور اللہ تعالیٰ سے تعلق کو اپنی زندگی کا مرکز بنائیں، تو بچے بھی لازماً اسی راہ کو اختیار کریں گے۔ لیکن اگر قول و فعل میں تضاد ہو تو نصیحتیں بے اثر ہو جاتی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ بڑوں کو خود روحانیت کا عملی نمونہ بننا ہوگا، تاکہ ان کی زندگی بچوں کے لئے ایک خاموش مگر مؤثر درس بن جائے۔

یہ بھی پڑھئے: بیمار کی عیادت بہت بڑا عمل ہے، ستر ہزار فرشتے رحمت کی دُعا بھیجتے ہیں!

خلاصہ یہ ہے کہ نئی نسل میں روحانیت کا بحران ایک حقیقت ہے، لیکن اس کا حل بھی ہمارے اپنے ہاتھوں میں ہے۔ اگر ہم بچپن ہی سے صحیح تربیت، درست رہنمائی اور پاکیزہ ماحول فراہم کریں، غلط فہمیوں کا ازالہ کریں، اور خود عملی نمونہ بنیں، تو یقیناً ہماری نسل نہ صرف دینی و اخلاقی اعتبار سے مضبوط ہوگی بلکہ روحانیت کی خوشبو سے بھی معطر ہوگی۔ یہی وہ راستہ ہے جو فرد کو سکونِ قلب اور معاشرے کو حقیقی فلاح و کامیابی سے ہمکنار کر سکتا ہے!

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK