دعوتِ دین بالکل سادہ کام نہیں ہے، بلکہ اس میں جہاں وعظ و نصیحت اور تذکیر وتلقین کی ضرورت پڑتی ہے وہاں دین کو دلائل سے ثابت کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔
EPAPER
Updated: March 27, 2026, 3:58 PM IST | Dr. Hamira tariq | Mumbai
دعوتِ دین بالکل سادہ کام نہیں ہے، بلکہ اس میں جہاں وعظ و نصیحت اور تذکیر وتلقین کی ضرورت پڑتی ہے وہاں دین کو دلائل سے ثابت کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔
نیکی کی دعوت دینا اور برائی سے روکنا ایک سعادت اور عظیم منصب ہے، جو اللہ تعالیٰ نے اپنے انبیائے کرامؑ کو عطا فرمایا۔ جب اللہ تعالیٰ نے اپنے حبیب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو ’خاتم النبیین‘ قرار دیا اور نبوت کا دروازہ ہمیشہ کیلئے بند کر دیا، اور دین اسلام کو مکمل دین قرار دے دیا اور دین اسلام کو اپنی بڑی نعمت بتایا اور یہ فرما دیا کہ یہ نعمت میں نے تم پر مکمل کر دی، تو اس منصب پر نبی ؐ کی امت کو سرفراز فرمادیااور اس عظیم خوبی کی وجہ سے انہیں سب سے بہتر امت قرار دیا۔(آل عمران:۱۱۰)
امر بالمعروف ونہی عن المنکر دراصل دو کاموں کا مجموعہ ہے: دعوت و تبلیغ اور تنظیم و تربیت۔ یہ دونوں کام ایک فطری ترتیب کے ساتھ انجام پاتے ہیں۔ پہلے لوگوں کو اللہ کے دین کی طرف بلایا جاتا ہے۔ اس کے بعد اُن افراد کی تنظیم اور تربیت کی جاتی ہے جو اس کا ساتھ دینے کے لئے تیار ہوں۔ اسی تنظیم و تربیت پر دعوت کی کامیابی اور ناکامی کا انحصار ہے۔ اگر تنظیم مضبوط اور تربیت صحیح ہے تو دعوت کامیاب ہوگی ورنہ اس کی ناکامی یقینی ہے۔ اس لئے دعوت و تبلیغ اور تنظیم و تربیت کے درمیان بہت ہی گہرا اور قریبی ربط ہے۔ امت مسلمہ کو دعوت وتبلیغ اور تنظیم وتربیت دونوں ہی کام کرنے ہیں۔ آسان الفاظ میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں امر بالمعروف و نہی عن المنکر کا فرض اپنے دائرے کے باہر بھی انجام دینا ہے اور اندر بھی ، جو کام اپنے دائرے سے باہر کریں گے وہ دعوت وتبلیغ ہے اور جو اپنے دائرے کے اندر انجام دیں گے وہ تنظیم و تربیت ہے۔ ارشادباری تعالیٰ ہے: ’’ اے نبیؐ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جائو، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔‘‘ (اعراف :۱۹۹)
یہ بھی پڑھئے: قناعت اختیار کرلیجئے، ہر مشکل آسان محسوس ہوگی
آپ ؐ نے یہود ونصاریٰ، مشرکین اور منافقین سب کو دین کی دعوت دی، اخلاقِ حسنہ کی نصیحت کی، آداب زندگی کی تلقین کی۔ وہ سب امربالمعروف اور نہی عن المنکر میں شامل ہے۔ اس وقت اگر ہم اپنی قوم کی حالت پر غور کریں تو معلوم ہوتا ہے کہ اصلاح وتربیت کی بھی ضرورت ہے اور اُس کے ساتھ ساتھ کچھ عقائد کی اصلاح بھی مطلوب ہے۔ لہٰذا دعوت وتبلیغ اور تنظیم وتربیت کا فریضہ انجام دینا اور تسلسل کے ساتھ اسے جاری رکھنا ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔ اس کی انجام دہی ہماری نجات اور فلاح کی ضامن ہے۔ (جلال الدین عمری، معروف و منکر)
دعوتِ دین بالکل سادہ کام نہیں ہے،بلکہ اس میں جہاں وعظ ونصیحت اور تذکیر وتلقین کی ضرورت پڑتی ہے وہاں دین کو دلائل سے ثابت کرنے کی بھی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہ علمی اور استدلالی خدمت بھی امر بالمعروف ونہی عن المنکر کا ایک اہم پہلو ہے۔ امام رازی ؒ لکھتے ہیں: ’’معروف کا حکم دو ،یعنی دینِ حق کی وضاحت اور اس کے دلائل کے اثبات کے ذریعے۔‘‘ ابن عربی مالکی کہتے ہیں کہ دین کو علمی رنگ میں پیش کرنا اور اسے دلائل سے ثابت کرنا امربالمعروف ونہی عن المنکر ہے۔
یہ بھی پڑھئے: خواہشوں کا غلام نہیں، اُن کا رہبر بنیں!
ہم اس وقت فریب اور دھوکا دہی پر مبنی دورِ دجل میں جی رہے ہیں۔ ہر طرف سے اسلام پر حملے ہو رہے ہیں۔ عورت کی حیثیت ، عورت کا مقام اور اس کا دائرہ موضوع بحث ہے۔ تاریخ اسلام اور مسلمان حکمرانوں کے کارہائے نمایاں پر حرفِ تنقید ہے۔ حضورؐ کی ذاتِ مبارکہ کے تعلق سے بھی گستاخانہ رویہ اپنایا جارہا ہے۔ علم حدیث اور سنت متواتر ہ تک پر حملے ہو رہے ہیں۔اس لیے دین اسلام کے پورے نظام کا دفاع بہت ضروری ہے۔ لہٰذا امر بالمعروف ونہی عن المنکر میں دعوت دین کی پوری جدوجہد شامل ہے۔ اس کا فطری اور لازمی تقاضا ہے کہ دنیا کو اللہ کے دین کی طرف بلایا جائے۔ اس بات کو دلائل سے ثابت کیا جائے کہ اللہ کا دین ہی حق ہے۔ اسی میں ہماری نجات ہے۔