• Thu, 19 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

وَندے ماترم کے ۶؍ بند اور ایک طے شدہ سوال

Updated: February 19, 2026, 9:51 AM IST | Sanjay Hegde | Mumbai

وزارت داخلہ کا حکم جو کسی قانونی ترمیم یا عدالتی فیصلے کے بغیر تھوپا جارہا ہے آئین ساز اسمبلی کے اتفاق رائے ، قومی وقار کے تحفظ کے قانون اوربجوائے ایمانوئل کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے خلاف ہے۔

Vande Mataram Meeting.Photo:INN
وندے ماترم کے تعلق سے لی گئی میٹنگ۔ تصویر:آئی این این
۲۸؍ جنوری ۲۰۲۶ء کو مرکزی وزارت داخلہ نے سرکاری پروگراموں میں وندے ماترم کے تمام ۶؍ بند پڑھنے کو لازمی کرنے   اور اس کے احترام میں کھڑے رہنے کو ضروری قرار دینے کا جو حکم جاری کیا ہے، وہ کہیں سے بھی حب الوطنی کا معاملہ نہیں ہے۔ یہ قومی فخر کے جامے میں آئینی تباہی  ہے۔  اس کی وجہ کو سمجھنے کیلئے ہمیں  ۱۹۳۷ء  میں جانا ہوگا ،دیکھنا ہوگا کہ آئین ساز اسمبلی  نے کیافیصلہ کیا تھا اور  یہ بھی یاد رکھنا ہوگا کہ ۱۹۸۶ء  میں بجوئے ایمانوئل  بنام ریاست ِکیرالا کیس میں سپریم کورٹ نے کیاتاریخی حکم سنایاتھا۔ 
اکتوبر ۱۹۳۷ء میں کانگریس ورکنگ کمیٹی کی میٹنگ کلکتہ میں ہوئی تھی۔ وہاں جو فیصلہ ہوا اُسے آج کچھ لوگ’’منہ بھرائی‘‘ قرار دیتے ہیں  جو غلط ہے۔ڈاکٹر راجندر پرساد نے قرارداد پیش کی اور سردار ولبھ بھائی پٹیل نے ا س کی تائیدکی۔ میٹنگ میں مہاتما گاندھی ’’خصوصی مدعو‘‘  تھے۔ قرارداد کو اتفاق رائے سے قبول کیاگیا اور یہ  تسلیم کیا گیا کہ ’’گیت کے چند حصوں پر ہمارے مسلم  دوستوں  کے اعتراضات درست ہیں‘‘ اور ہم  اس نتیجے پر پہنچے کہ’’پہلے دو بند جن پر  کوئی اعتراض نہیں ہے، کو ہی قومی گیت کے طور پر اپنا یا جائے۔‘‘
یہ کہیں سے بھی بزدلی نہیں تھی بلکہ سمجھ داری تھی۔ بنکم چندر چٹر جی کی نظم کے بعد کے بندوں میںدُرگا، لکشمی اور سرسوتی جیسی ہندو دیویوں کو نام لے کر پکارا گیاہے۔ ایک بند میں تو مادرِوطن کو ’’تم ہی ۱۰؍ہتھیاروں والی دُرگا ہو‘‘ کہا گیا ہے۔ اب ذرا سوچئے کہ کسی مسلم سرکاری افسر، عیسائی ٹیچر، سکھ سپاہی، بدھ بھکشو یا لامذہب سائنسداں کو یہ بند سننے اور اس کیلئے احتراماً کھڑے ہونے پر مجبور کرنا کیا ہے؟  یہ یکجہتی کافروغ نہیں بلکہ سیکولر ملک پر مذہب تھوپنا ہے۔   رابندر ناتھ ٹیگور بھی  ابتدائی ۲؍ بند ہی رکھنے کے حق میں تھے۔   جدوجہد آزادی کی پوری تحریک اس بات پر متفق تھی کہ پہلے ۲؍ بند ہی نظم کی اصل روح کو بیان کرتے ہیں اور کسی کے عقیدے کو ٹھیس نہیں پہنچاتے۔ 
۲۴ ؍جنوری ۱۹۵۰ء کو صدرجمہوریہ راجندر پرساد نے اعلان کیا کہ جن گن من قومی ترانہ ہوگا، اور و ندے ماترم کو بھی’’اُتنی ہی اہمیت‘‘ دی جائے گی۔ لیکن اصل بات یہ ہے کہ آئین ساز اسمبلی نے صرف ابتدائی ۲؍بندکو ہی قومی گیت کے طور پر اپنایا تھا۔ باقی ۴؍ بندغلطی سے نہیں چھوٹے تھے بلکہ انہیں دانستہ طورپر چھوڑا گیا تھا کیونکہ ہندوستانی جمہوریہ کی داغ بیل ڈالنے والے (اکابرین) اس اہم بات کو سمجھتے تھےکہ سیکولر ریاست مخصوص دیوی دیوتاؤں سے منسوب اشعار کو ملک کی سرکاری علامتوں  میں شامل نہیں کرسکتی۔ آئین کا آرٹیکل ۵۱ (اے) (ا) اپنے تمام شہریوں سے کہتا ہے کہ’’قومی پرچم اور قومی ترانے کا احترام کریں۔‘‘ اس میں قومی گیت کا ذکر نہیں ہے ۔ ۱۹۷۶ء میں ۴۲؍ویں آئینی ترمیمی ایکٹ کے ذریعہ جب بنیادی فرائض کو آئین میں  شامل کیاگیا تب بھی قومی ترانے اور پرچم کا ذکر آیا لیکن گیت(وندے ماترم) کاذکر نہیں آیا۔ یہ کوئی بھول نہیں تھی،یہ سوچا سمجھا قدم تھا۔ ۱۹۷۱ء کا’’پریوینشن آف انسلٹس ٹو نیشنل آنر ایکٹ‘‘  (قومی وقار کی توہین کی ممانعت کا قانون) بھی ترانے، پرچم اور آئین کو تحفظ فراہم کرتا ہے۔ یہ بھی وندے ماترم کا احاطہ نہیں کرتا۔ اس کےنہ گانے پر ،اس کیلئے کھڑے نہ ہونے پر یا احترام نہ کرنے پر کوئی سزا نہیں ہے۔ ایسا بھول سے نہیں ، دانستہ کیاگیا۔ ہمارے آئینی نظام کا رویہ قومی ترانے کے ساتھ   الگ اور قومی گیت (جس میں مذہبی عناصر ہیں) کے ساتھ الگ ہے۔ 
 
 
جولائی ۱۹۸۵ء میں کیرالا کے تین بچے بجو ئے، بینو مول اور بندو ایمانوئل کو اسکول سے نکال دیا گیا۔ وہ یہودی تھے۔ اسکول کی اسمبلی میں جب قومی ترانہ بجتا تو یہ احتراماً کھڑے ہوتے مگر اسے گاتے نہیں تھے کیونکہ ان کا مذہب اس کی اجازت نہیں دیتا تھا۔ وہ کوئی ہنگامہ نہیں کرتے تھے۔ پھر ایک ریاستی وزیر نے مداخلت کی جس کے سبب  انہیں اسکول سے نکال دیا گیا۔ ہائی کورٹ نے اخراج کو درست قرار دیا مگر سپریم کورٹ نے اسے بنیادی حقوق کی خلاف ورزی مانا۔ اپنے فیصلے میں جسٹس   چِنّپّا ریڈی نے کہا کہ اسکول سے بچوں کا نکالا جانا آزادی ٔ اظہار رائے اور مذہبی آزادی کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے جو کچھ لکھا اسے کسی پتھر پرکندہ کرکے محفوظ کرلیا جانا چاہئے۔انہوں  نے کہا کہ ’’ قومی ترانہ کیلئے کھڑا ہوجاناکافی اور مناسب احترام ہے، پڑھنے میں  شامل نہ ہونےکو عدم احترام نہیں قرار دیا جاسکتا۔‘‘عدالت نے مزید کہا کہ(قومی ترانہ کیلئے) ’’ احتراماً کھڑے رہنا مگر خاموش رہنا قانون شکنی نہیں ہے۔‘‘ عدالت نے کہا کہ یہ خاموشی بھی  آزادی ٔاظہار کا حصہ ہے، جسے آئینی تحفظ حاصل ہے۔ 
 
 
اب ذرا یہ دیکھیں کہ وزارت داخلہ کا حکم کیا کہتا ہے۔ اس کے مطابق سرکاری اور صدارتی تقاریب میںاور پرچم کشائی کے موقع پر تمام ۶؍ بند پر مشتمل گیت کو بجانا لازمی ہے۔ سب کیلئے پوری توجہ کے ساتھ (اٹینشن ) کھڑا رہنا لازمی ہے۔ اسکولوں کو دن کی شروعات قومی گیت کو اجتماعی طور پر گا کر کرنی  ہے۔ اس میں وہ ۴؍ بند بھی شامل ہیں جنہیں آئین ساز اسمبلی نے جان بوجھ کر نہیں اپنایا تھا۔ یہ وہ بند ہیں جن میں درگا کو اس کے ہتھیاروں سمیت، لکشمی کو اس کے آشیرواد کے ساتھ اور سرسوتی کو اس کے علم کے حوالے سے پکارا گیا ہے۔  جب عدالت یہ کہہ چکی ہے کہ آپ کسی کو قومی ترانہ گانے پر بھی مجبور نہیں کرسکتےتو آپ قومی گیت کیلئےکسی کو کیسے مجبور کرسکتے ہیں؟   وندے ماترم پر وزارت داخلہ کا حکم نامہ شہریوں کو صرف کھڑا ہونے کا حکم نہیں دیتا بلکہ انہیں مذہبی اشعار کے پڑھے جانے کا حصہ بننے پر مجبور کرتا ہے۔ یہ دراصل ضمیر پر چوٹ ہے۔ یہی وہ چیز ہے جس سے آئین کا آرٹیکل ۲۵؍ تحفظ فراہم کرتا ہے۔ مجاہدین آزادی کم علم، کم فہم اور بصیرت سے عاری نہیں تھے۔ وہ ایسا غیر معمولی نظام بنارہے تھے جو ناقابلِ تصور تنوع رکھنے والی آبادی کو متحد رکھ سکے۔ وہ ان باتوں کو بھی سمجھتے تھے جنہیں ہم بھول گئے ہیںکہ ملک سے حقیقی محبت کسی ایک مذہبی طرز ِعبادت کی محتاج نہیں ہے۔ یہ کوئی نہیں کہہ رہا ہے کہ وندے ماترم قابلِ احترام نہیں ہے۔ یقیناً ہے۔ جنگ آزادی میں ہندوؤں اور مسلمانوں  نے نعرۂ آزادی   بلند کرتے ہوئے سڑکوں سے جیلوں  تک  یہ دو بندساتھ مل کرگائے۔ سوال یہ ہے کہ کیا حکومت حب الوطنی کے نام پر شہریوں کو مذہبی رسومات میں شرکت پر مجبور کر سکتی ہے؟ آئین اور سپریم کورٹ کے فیصلے میں اس کا واضح جواب ’’نہیں‘‘ ہے۔ وزارت داخلہ کا حکم  جو کسی قانون، کسی ترمیم یا عدالتی حکم کے بغیر  ایک ’انتظامی حکم‘ کے ذریعہ تھوپا جارہاہے جو  آئین ساز اسمبلی کے اتفاق رائے ، قومی وقار کے تحفظ کے قانون  اور بجوائے ایمانوئل کیس  میں سپریم کورٹ کے  فیصلے کیخلاف  ہے۔
(بشکریہ:  دی ہندو)
(مضمون نگار سپریم کورٹ  میں سینئر ایڈوکیٹ ہیں)

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK