Updated: February 19, 2026, 11:08 AM IST
| New York
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کے روز (ہندوستانی وقت) صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دیرینہ موقف کو دُہرایا کہ ایران کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سفارت کاری ہمیشہ ان کا پہلا اختیار ہے اور تہران پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائے۔
کیرولین لیویٹ- تصویر:ایکس
وائٹ ہاؤس کی پریس سکریٹری کیرولین لیویٹ نے جمعرات کے روز (ہندوستانی وقت) صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے دیرینہ موقف کو دُہرایا کہ ایران کے ساتھ معاملہ کرتے وقت سفارت کاری ہمیشہ ان کا پہلا اختیار ہے اور تہران پر زور دیا کہ وہ انتظامیہ کے ساتھ ایک نئے معاہدے پر بات چیت کے موقع سے فائدہ اٹھائے۔لیویٹ نے ایک پریس بریفنگ کے دوران کہا کہ صدر ہمیشہ سے اس بات پر کافی متفق رہے ہیں کہ ایران ہو یا دنیا کا کوئی بھی ملک، سفارت کاری ہی ان کا پہلا انتخاب ہوتا ہے اور ایران کے لیے یہ دانشمندی ہوگی کہ وہ صدر ٹرمپ اور اس انتظامیہ کے ساتھ معاہدہ کر لے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب امریکہ اور ایران کے درمیان بالواسطہ جوہری مذاکرات جنیوا میں دوبارہ شروع ہوئے ہیں، جہاں امریکی نمائندے اسٹیو وِٹکوف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس اراغچی عمانی ثالثی کے تحت ملاقات کر رہے ہیں۔ اگرچہ فریقین نے کچھ پیش رفت کی اطلاع دی ہے، لیکن افسران خبردار کرتے ہیں کہ اب بھی اہم اختلافات ہیں اور خلیج فارس میں امریکی فوجی موجودگی میں اضافہ ان مذاکرات کی سنگینی کو ظاہر کرتا ہے۔تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ ٹرمپ کی زیادہ سے زیادہ دباؤ مہم، جو ۲۰۲۵ء کے اوائل میں دوبارہ نافذ کی گئی، ایران کی معیشت کو دباؤ میں ڈال دیا ہے، جسے امریکی حکام ایک سفارتی پیش رفت کے لیےنایاب موقع قرار دیتے ہیں۔ اس کے باوجود تہران پابندیوں میں نرمی کا مطالبہ جاری رکھے ہوئے ہے اور خبردار کیا ہے کہ کسی بھی امریکی حملے کی صورت میں خطے میں موجود امریکی افواج کے خلاف جوابی کارروائی کی جائے گی۔
یہ بھی پڑھئے:ساجد نڈیاڈوالا صرف پروڈیوسر نہیں کامیاب ہدایتکار بھی ہیں
لیویٹ کا بیان حالیہ دنوں میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے تبصروں سے مطابقت رکھتا ہے، جنہوں نے ایک نیوز چینل کو بتایا کہ انتظامیہ سفارتی حل کو `بہت زیادہ ترجیح دیتی ہے، لیکن اگر مذاکرات ناکام ہو جائیں تو فوجی کارروائی کا اختیار بھی برقرار رکھتی ہے۔
یہ بھی پڑھئے:انڈیا اے آئی امپیکٹ سمٹ: ہائی سیکوریٹی زون میں چوری سے ہلچل
جب تک سفارتی مواقع موجود ہیں، مبصرین اس بات پر نظر رکھے ہوئے ہیں کہ کیا ایران ایسا معاہدہ قبول کرے گا، جو پابندیوں میں نرمی اور ممکنہ تصادم کو ٹالنے کا سبب بن سکتا ہے، یا بڑھتی ہوئی فوجی موجودگی دونوں ممالک کو محاذ آرائی کی طرف دھکیل دے گی۔