گاندھی جی کو دیکھنے والے لوگ ابھی موجود ہیں مگر شاید ہی کوئی اب ایسی شخصیت ہو جو گاندھی جی کی تحریک میں نہ صرف شریک ہوا ہو بلکہ جیل کی سزا بھی کاٹی ہو۔ اس لحاظ سے بھی جی جی پاریکھ کا رخصت ہو جانا گاندھی جی کی تحریک کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کا رخصت ہو جانا بھی ہے۔
جی جی پاریکھ کا پورا نام گنوونت رائے گنپت لال ہے۔ وہ ۲۰؍ دسمبر ۱۹۲۴ءکو سورج نگر گجرات میں پیدا ہوئے اور ۲؍ اکتوبر ۲۰۲۵ء کو ممبئی میں ان کا انتقال ہوا۔ جی جی پاریکھ گاندھی جی کی فکر سے تمام عمر وابستہ رہے۔ یہ فکر ان کے لئے صرف نظریاتی بحث کا وسیلہ نہیں تھی بلکہ انہوں نے عملی زندگی میں اسے شامل کیا تھا۔ یہ کہنا زیادہ مناسب ہوگا کہ جسے ہم گاندھیائی فکر کہتے ہیں وہ ان کی زندگی بھی تھی اور ان کا نظریہ بھی۔گاندھی جی کے یوم پیدائش پر انہوں نے زندگی کی آخری سانس لی یہ بھی ایک واقعہ ہے۔ گاندھی جی کی پیدائش کی تاریخ کا جی جی پاریکھ کے انتقال کی تاریخ سے مل جانا دراصل ایک نئی زندگی کا آغاز ہے۔ قدرت بھی کچھ ایسے فیصلے کرتی ہے کہ انسانی ذہن منطقی طور پر سوچنے کے باوجود کچھ مختلف انداز سے بھی غور کرنے لگتا ہے۔ کچھ یہی صورت ۲؍ اکتوبر کے تعلق سے پیدا ہو گئی ہے۔ گاندھی جی کو دیکھنے والے لوگ ابھی موجود ہیں مگر شاید ہی کوئی اب ایسی شخصیت ہو جو گاندھی جی کی تحریک میں نہ صرف شریک ہوا ہو بلکہ جیل کی سزا بھی کاٹی ہو۔ اس لحاظ سے بھی جی جی پاریکھ کا رخصت ہو جانا گاندھی جی کی تحریک کے ساتھ گزارے ہوئے وقت کا رخصت ہو جانا بھی ہے۔ یہ اور بات ہے کہ وہ وقت کتابوں اور تحریروں میں موجود ہے لیکن جو وقت جی جی پاریکھ کے ساتھ رخصت ہوا ہے وہ واپس تو نہیں آسکتا۔

جی جی پاریکھ نے زندگی کے سو سال مکمل کر لئے تو اس موقع پر کئی اہم تحریریں منظر عام پر آئیں۔ ان میں ایک تحریر ڈاکٹر سریش خینار کی ہے۔ انہوں نے جی جی پاریکھ سے گفتگو بھی کی اور اسے انہی کی زبان میں پیش کرنے کی کوشش بھی کی۔ جی جی پاریکھ نے خود ہی بتایا ہے کہ وہ اپنے چچا کی انگلی پکڑ کر گاندھی جی سے ملنے گئے تھے اس وقت ان کی عمر ۷؍ سال تھی ۔ ۶؍ اگست ۱۹۴۲ءکی تاریخ بہت اہم تھی۔ گاندھی جی نے ممبئی کے گووالیہ ٹینک میدان میں جلسہ کیا (اب یہ میدان اگست کرانتی کے نام سے جانا جاتا ہے) اس جلسے میں جی جی پاریکھ شریک تھے۔ سامنے بیٹھ کر بہت قریب سے انہوں نے گاندھی جی کو سنا اور دیکھا۔ یہ اس لئے بھی تاریخی موقع تھا کہ ان کے دوست یوسف مہر علی (جو ان سے عمر میں بہت چھوٹے تھے) نے ’’انگریزو بھارت چھوڑو‘‘کا نعرہ تجویز کیا جو تحریک کا عنوان بن گیا۔ یوسف مہر علی ۱۹۵۰ء میں رخصت ہو گئے، اس وقت ان کی صرف ۴۷؍ سال تھی۔ جی جی پاریکھ نے یوسف مہر علی سینٹر قائم کر کے انہیں خراج عقیدت پیش کیا۔ سینٹر کے قیام کا مقصد سماج کے کمزور طبقوں کو ان کی سطح سے بلند کرنا تھا۔ ممبئی کے مضافات ہی نہیں بلکہ ملک کے دور دراز علاقوں میں بھی اس کے اثرات مرتب ہوئے۔ یہ سنٹر اتنا اہم ہے کہ الگ سے اسے موضوع بنانے کی ضرورت ہے۔ جی جی پاریکھ ۱۹؍سال کی عمر میں جیل گئے۔ ’’بھارت چھوڑو‘‘کا نعرہ ایک نئے جوش و جذبے کے ساتھ زندگیوں میں داخل ہو گیا۔ اس موقع پر جی جی پاریکھ کی اہلیہ منگلا پاریکھ کا ذکر ضروری ہے جن کے بارے میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ مجھ سے زیادہ جیل کی سزا کاٹ چکی ہیں۔ وہ اپنے شوہر کی سماجی اور تعمیری سرگرمیوں کے ساتھ شریک رہیں۔ممبئی میں عورتوں نے مہنگائی کے خلاف جو تحریک چلائی تھی وہ اس میں پیش پیش تھیں۔ وہ مہاراشٹر ودھان سبھا کی ممبر بھی تھیں۔ ۲۰۰۹ء میں منگلہ پاریکھ کا انتقال ہوا۔
جی جی پاریکھ کو گاندھی جی سے جو نسبت ہے اس سے بڑی نسبت اور کیا ہو سکتی ہے۔ گاندھی جی کی فکر سے کسی کا سماجی بن جانا کوئی حیرت کی بات نہیں۔ لہٰذاجی جی پاریکھ کا جے پرکاش نارائن کے سیاسی نظریے سے متاثر ہونا فطری ہے ۔ ۱۹۷۴ء میں پاریکھ جیل بھی گئے۔ یہ وقت سیاسی اعتبار سے بہت انتشار کا تھا۔ بنیادی طور پر جی جی پاریکھ کی فکری وابستگی خود اپنا ایک جواز بھی ہے اور تعارف بھی۔ ملک کی قومی اور تہذیبی زندگی جن اقدار سے پہچانی جا سکتی ہے، ان کے بارے میں سوچنا اور عملی سطح پر اقدام کرنا، ایک ایسا نظریہ ہے جو کسی مخصوص جماعت سے وابستگی کے باوجود اس سے بلند بھی کر دیتا ہے۔
جی جی پاریکھ کی زندگی سماجی انصاف کی بات کرنے والوں کو ہمیشہ آئینہ دکھاتی رہے گی۔ کسی کا سماجی یا سماجیاتی فکر کا ہو جانا کوئی معمولی بات نہیں ہے۔ اس حقیقت کو سمجھنے کے لیے یہاں ۲۵؍ جولائی ۲۰۲۵ء کو انگریزی میں دیئے گئے انٹرویو کے ابتدائی چند جملوں کا ترجمہ پیش کیا جا رہا ہے:
’’میں جب انٹرویو دیتا ہوں تو یہ بتانے کی کوشش کرتا ہوں کہ میری کہانی ان تمام لوگوں کی کہانی ہے جنہوں نے تحریک آزادی میں حصہ لیا۔ میرے لیے کچھ الگ نہیں ہے۔ تو اس ملک میں جنگ آزادی کی یہ کہانی ہے۔ میں اس وقت پیدا ہوا جب ہر طرف کچھ ہو رہا تھا، اور وہ چیزیں متاثر کر رہی تھیں۔‘‘
’’جنتا ویکلی‘‘ ایک مخصوص نظریے کا ترجمان رہا ہے۔وہ ۲۰۱۰ء میں اس کے ایڈیٹر ہوئے مگر ابتدا ہی سے’’ جنتا ویکلی ‘‘کو ان کا تعاون حاصل تھا۔ ۱۹۴۶ء سے لے کر موجودہ وقت تک پابندی کے ساتھ اس کا شائع ہونا ایک واقعہ ہے۔ جی جی پاریکھ نے جنتا ویکلی کو جمہوری اور سماجی قدروں کا ترجمان بنانے کی کوشش کی۔ یہ کوشش ایک ایسی شخصیت کی طرف سے جاری رہی جس نے کسی عہدے کو قبول نہیں کیا۔ سماجی اور سیاسی تاریخ میں جی جی پاریکھ کو اس لیے بھی یاد رکھا جائے گا کہ سرکار دربار سے الگ ہو کر کس طرح اور کیوں کر انسانی اور سماجی زندگی کو بہتر بنانے کا نہ صرف منصوبہ بنایا جا سکتا ہے بلکہ اسے عمل میں بھی لایا جا سکتا ہے۔ بقول کلیم عاجز
زمانہ دنگ ہے عاجز کہ اس زمانے میں
جو کہہ رہے تھے وہی کر کے ہم دکھا بھی گئے
جی جی پاریکھ نے احتجاج کی زمینی صورت کو کبھی فراموش نہیں کیا ۔یہی وجہ ہے کہ انہیں ڈرائنگ روم کا دانشور نہیں سمجھا گیا۔ کانگرس کی وہ وراثت جس کا تعلق قربانی اور احتجاج سے ہے،ایک سوشلسٹ نظریے کو وضع کیا جس میں عالمی آگہی شامل تھی۔