Inquilab Logo Happiest Places to Work

ایوان اسمبلی میں توجہ طلب نوٹس کی یومیہ تعداد محدود کرنا کہاں تک درست ہے ؟

Updated: March 09, 2026, 11:15 PM IST | Mumbai

مہاراشٹراسمبلی اسپیکر نے فیصلہ کیا ہے کہ اب وہ ایک دن میں صرف ۵؍ توجہ طلب نوٹس ہی قبول کریں گے ، اسے اپوزیشن نے اراکین کے جمہوری حقوق پر ایک ضرب قرار دیا ہے

Is Rahul Narvekar reducing the right to speak in the House? (File)
کیا راہل نارویکر ایوان میں آواز اٹھانے کی حقوق کو کم کر رہے ہیں؟( فائل)

بی جے پی حکومت پر عام طور پر الزام لگتا تہا ہے کہ وہ اپوزیشن کے سوالوں سے بچنے یا ان کی آواز کو دبانے کیلئے ہر ممکن اقدام کرتی ہے۔ مہاراشٹر اسمبلی گزشتہ دنوں دیویندر فرنویس کی قیادت والی مہایوتی حکومت نے اپنے ایک فیصلے سے اس الزام کو مزید تقویت دی ہے۔ حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ اب ایوان اسمبلی ایک دن میں صرف ۵؍ توجہ طلب نوٹس دیئے جا سکیں گے۔ یعنی اب اراکین اسمبلی کو حکومت کی توجہ کسی مخصوص معاملے کی طرف مبذول کروانی ہو تو اس کیلئے اسے اپنی باری آنے کیلئے کئی دنوں تک انتظار کرنا ہوگا۔ اس سے قبل توجہ طلب نوٹس کے تعلق سے یومیہ کوئی تعداد مقرر نہیں تھی۔ 
  گزشتہ دنوں مہاراشٹر اسمبلی میں توجہ طلب نوٹس (لکش ویدی سوچنا) کی یومیہ تعداد محدود کرنے کے فیصلہ کیا گیا جس پر اپوزیشن ناراض ہے۔ اسپیکر راہل نارویکر کی جانب سے فرمان جاری کیا گیا ہے کہ اب ایک دن میں ایوان میں صرف ۵؍ توجہ طلب نوٹس قبول کئے جائیں گے۔ اس فیصلے کی اپوزیشن کے علاوہ حکومت میں شامل چند راکین نے بھی مخالفت کی ہے۔ 
 اطلاع کے مطابق تقریباً ۱۵۰؍ اراکین اسمبلی نے مشترکہ طور پر اسپیکر کو تحریری احتجاج پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس فیصلے سے اراکین کی فوری طور پر عوامی مسائل اٹھانے کی صلاحیت محدود ہو جائے گی۔روایتی طور پر اسمبلی کے اجلاس کے دوران روزانہ ۱۰؍ سے۲۵؍ توجہ طلب نوٹس پر بحث کی جاتی رہی ہے۔ اراکین کا کہنا ہے کہ نئی پابندی کے باعث کئی اراکین پورے اجلاس کے دوران اپنے حلقوں سے متعلق اہم مسائل ایوان میں پیش نہیں کر سکیں گے۔ 
 تاہم اسپیکر راہل نارویکر نے اس فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد ایوان کی کارروائی میں نظم و ضبط لانا، کارروائی کو ہموار بنانا اور اس نظام کے ممکنہ غلط استعمال کو روکنا ہے۔ ان کے مطابق بعض اوقات توجہ طلب نوٹس کو سیاسی حملوں یا تشہیر کیلئے استعمال کیا جاتا ہے۔ ذرائع کے مطابق وزراء اور سرکاری افسران کو بھی اچانک پیش کئے جانے والے نوٹس پر جواب دینے میں مشکلات پیش آتی  ہے۔ اگر کسی سوال کے جواب میں غلط معلومات پیش ہو جائے تو وزراء کے خلاف استحقاق کی خلاف ورزی کے نوٹس بھی آ سکتے ہیں۔ حالانکہ اراکین کا کہنا ہے کہ یہ ساری چیزیں جمہوریت کا حصہ ہیں۔ اگر کسی سسٹم کےسبب کوئی دقت پیش آ رہی ہو تو اس کا کوئی مناسب حل نکالا جانا چاہئے، اراکین کے اس حق کو محدود کردینا کہاں تک درست ہے؟ 
  اطلاع کے مطابق وزیر اعلیٰ دیویندر فرنویس سمیت چند سینئر وزراء نے بھی بار بار پیش ہونے والے توجہ طلب نوٹس اور اس سے پیدا ہونے والے انتظامی دباؤ پر تشویش ظاہر کی تھی۔ 
دوسری جانب اراکین اسمبلی کا کہنا ہے کہ توجہ طلب نوٹس پارلیمانی نظام میں وہ تیز ترین ذریعہ ہے جس کے ذریعے قدرتی آفات، بدعنوانی اور مقامی مسائل جیسے فوری معاملات پر وزراء سے جواب طلب کیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ روزانہ صرف پانچ نوٹس کی حد مقرر ہونے سے بہت سے عوامی مسائل زیر بحث ہی نہیں آ سکیں گے۔بجٹ اجلاس کے قریب آنے کے ساتھ یہ معاملہ اب ریاستی حکومت اور اسپیکر دونوں کی توجہ کا مرکز بن گیا ہے۔ ارکان اسمبلی نے اس پابندی پر نظر ثانی کا مطالبہ کیا ہے۔ 
 یاد رہے کہ عام طور پر اراکین اسمبلی اپنے حلقہ انتخاب کے مسائل کے علاوہ ریاستی سطح کے مسائل پر ایوان میں سوال کرتے ہیں۔ ان سوالات کے جواب دینا متعلقہ وزیر کیلئے لازمی ہوتا ہے۔ یہ سوالات پہلے تحریری صورت میں اسپیکر کو پیش کر دیئے جاتے ہیں۔ اس کے بعد انہیں ایوان میں پڑھا جاتا ہے۔ جواباً وزیر اپنی وضاحت پیش کرتا ہے۔ جبکہ توجہ طلب نوٹس کے ذریعے فوری طور پر کسی اہم موضوع پر نوٹس پیش کرکے حکومت کی توجہ اس جانب مبذول کروائی جاتی جو کہ نوٹس پیش کرنے والے رکن اسمبلی کی نظر میں انتہائی اہم ہے اور فوری توجہ کا متقاضی ہے۔ اب تک اس طرح کے نوٹس کی یومیہ کوئی حد مقرر نہیں تھی لیکن اب حکومت نے یومیہ ۵؍ نوٹس کی حد مقرر کر دی ہے جسے اپوزیشن نے جمہوریت پر ایک اور ضرب قرار دیا ہے اور فیصلے کو واپس لینے کامطالبہ کیا ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK