وزیر خارجہ نے دونوں ایوانوں کو بتایاکہ ہندوستان امن کا حامی ہے،کھرگے کاملک میںتوانائی اورایندھن کے ممکنہ بحران پر بحث کا مطالبہ
EPAPER
Updated: March 09, 2026, 11:13 PM IST | New Delhi
وزیر خارجہ نے دونوں ایوانوں کو بتایاکہ ہندوستان امن کا حامی ہے،کھرگے کاملک میںتوانائی اورایندھن کے ممکنہ بحران پر بحث کا مطالبہ
پیر سے شروع ہوئے پارلیمنٹ کے بجٹ اجلاس کے دوران ایوان بالا میںوزیر خارجہ ایس جے شنکرنے ایران جنگ ہندوستان کا موقف پیش کیا اورواضح کیا کہ امریکی حملوں کے دوران ایران کے ایک جہاز کوکوچی کی بندرگاہ پرلنگرانداز ہونے کی اجازت دی گئی جس کا ایران نے ہندوستان کاشکریہ بھی ادا کیا۔ ایوان کی کارروائی۱۱؍ بجے شروع ہوئی۔ اس دوران راجیہ سبھا میں مغربی ایشیا(مشرق وسطیٰ) کے بحران پر گفتگو کرتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ کئی خلیجی ممالک میں کشیدگی کا ماحول ہے۔ہم ہندوستانیوں کی حفاظت کیلئے پُر عزم ہیں اور تمام محکموں کو ضروری ہدایات جاری کر دی گئی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ خلیجی ممالک میں صورتحال کشید ہے اورہندوستان چاہتا ہے کہ مسئلے کا حل بات چیت سے نکالا جائے۔ایس جے شنکر نے فریقین سے امن و امان بنائے رکھنے کی اپیل کی۔وزیرخارجہ ایس جے شنکر نے کہا کہ مغربی ایشیا کی صورتحال پر ہندوستان کی نظر ہے۔ وزیر اعظم مودی بھی حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔اس تعلق سے وزیر اعظم نے سلامتی پرکابینی امور کی کمیٹی کی میٹنگ بھی کی تھی۔انھوں نے مزید کہا کہ، وہاں موجود ہندوستانیوں کی سلامتی کیلئے حکومت پابند عہد ہے۔انھوں نے مزید کہا کہ آرمینیا کے راستے ہندوستانیوں کووطن واپس بھی لایا گیا ہے۔تہران میں ہندوستانی سفارت خانہ کام کررہا ہے اور ہندوستان نے اپنے شہریوں کیلئے ایڈوائزی بھی جاری کی گئی تھی۔جے شنکر نے کہا ’’ ہندوستانی سفارت خانہ شہریوں سے رابطے میں ہے۔ہم نے انہیں بروقت الرٹ کیا ہے۔ ہم نے جنوری میں بھی ہی ایسا کیا تھا۔ ہندوستانی شہریوں کو بروقت اطلاع دی گئی کہ وہ ایران چھوڑ دیں۔ ہم نے ہندوستانیوں کو آرمینیا کے راستے سے نکال لیا ہے۔‘‘واضح رہےکہ ایس جے شنکر نے پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں بیان دیتے ہوئے یقین دلایا کہ خطے میں پھنسے ہوئے ہندوستانی شہریوں، مسافروں اور فوری وطن واپسی کے خواہش مند افراد کی مدد کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے۔ ان کے بیان کے دوران دونوں ایوانوں میں اپوزیشن نے احتجاجاً واک آؤٹ کیا۔
مغربی ایشیا کی صورت حال پر پارلیمنٹ میں بیان دیتے ہوئے وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے کہا ’’وزیر اعظم ہر نئی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں اور متعلقہ وزارتیں مؤثر ردعمل کے لیے ہم آہنگی کے ساتھ کام کر رہی ہیں۔ ہم امن کے حق میں ہیں۔ بھارت نے امن کی حمایت کی ہے اور مذاکرات کے ذریعہ تنازع کا حل چاہتا ہے۔ حکومت توانائی کی ضروریات کے حوالے سے بھی الرٹ ہے۔‘‘
بحر ہند میں تین ایرانی جہاز تھے، ہم نے ایک کو پناہ دی
وزیر خارجہ نے ایوان میں کہا ’’ مغربی ایشیا کے بحران پر وزیر اعظم نریندر مودی نے سعودی عرب اور قطر کی قیادت سے بات کی ہے۔ میں نے۲۸؍ فروری اور ۵؍مارچ کو ایرانی وزیر خارجہ سے بات کی۔ وزیر خارجہ نے بتایا کہ تین ایرانی بحری جہاز بحر ہند میں تھے۔ ہم نے ایران کی درخواست پر ایک جہاز کو ڈاکنگ کی اجازت دی اور اسے پناہ دی۔ ایران نے اس پر شکریہ بھی ادا کیا ۔‘‘
خلیجی ممالک میں ایک کروڑ ہندوستانی شہری
وزیر خارجہ ایس جے شنکر نے ایران جنگ پر راجیہ سبھا کو بتایا کہ ہندوستان خطے میں خودمختاری کی حمایت کرتا ہے اور اس کا ماننا ہے کہ کسی بھی مسئلے کو بات چیت کے ذریعے حل کیا جانا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی ممالک میں ایک کروڑ ہندوستانی رہتے ہیں اور سی سی ایس میٹنگ میں ان کے تحفظ پر غور و خوض کیا گیا۔جنگ میں ہلاک ہونے والوں کیلئے تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اپنے شہریوں کی حفاظت کو یقینی بنانے کیلئے پُرعزم ہے اور ان کے ساتھ رابطے میں ہے۔ وزیر خارجہ نے کہا کہ ہندوستان اپنی توانائی کی ضروریات کے بارے میں چوکنا ہے، کیونکہ اس جنگ سے سپلائی چین متاثر ہوا ہے۔
کھرگے کا راجیہ سبھا میں توانائی کے تحفظ پر بحث کا مطالبہ
وزیر خارجہ ایس جے شنکر راجیہ سبھا میں ایران جنگ پر ہندوستان کے موقف پر بیان دے رہے تھے کہ اس دوران اپوزیشن کے لیڈر ملکارجن کھرگے نےتوانائی اور ا یندھن کے تحفظ کے مسئلے پر مختصر بحث کا مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا اثر ہندوستان پر بھی پڑ رہا ہے۔ ملک اپنی توانائی کی ضروریات کا۵۵؍ فیصد مغربی ایشیا سے درآمدات کے ذریعے پورا کرتا ہے۔ اس خطے میں تقریباً ایک کروڑ ہندوستانی کام کرتے ہیں۔ حالیہ واقعات میں کچھ ہندوستانی ہلاک اور لاپتہ بھی ہوئے ہیں۔ گھریلو گیس کی قیمتوں میں۶۰؍ روپے کا اضافہ ہو گیا ہے۔ میں یہ بتانے کیلئے اپنے نکات پیش کر رہا ہوں کہ بحث کی ضرورت کیوں ہے۔ اپوزیشن کے احتجاج کے باعث لوک سبھا اور راجیہ سبھا کی کارروائی دن بھر کیلئے ملتوی کردی گئی ۔