• Mon, 23 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

مولانا ابوالکلام آزاد کی خدمات کا ایک زریں باب

Updated: February 22, 2026, 1:50 PM IST | Dr. Humayun Ahmed | mumbai

مولانا نے ملک کو متحد رکھنے کی جدوجہد کو جس نتیجہ خیز  انداز میں آگے بڑھایا تھا اُس پر بہت کم گفتگو ہوتی ہے۔ بھلے ہی کم ہو مگر جو نہیں جانتے اُنہیں جاننا چاہئے۔

INN
آئی این این
مولانا آزاد کو بھلے ہی کم کم یاد کیا جاتا ہو مگر تاریخ اُنہیں  فراموش نہیں  کرسکتی۔ ہر سال گیارہ نومبر اور بائیس فروری کو مولانا آزاد کی اعلیٰ ترین خدمات کا احاطہ عموماً بالتفصیل کیا جاتا ہے مگر میرے خیال میں  آپ کے شایان شان خراج عقیدت یہ ہوگا کہ ہم اس بات کو تسلیم کریں  کہ آزادی کے عوض ملک کی تقسیم اور ساتھ میں  ہونے والے خون خرابہ کا روکا جانا بالکل ممکن جی ہاں  بالکل ممکن تھا۔ اُس دور کے چند واقعات پر گفتگو کم ہوتی ہے۔ایسا ہی ایک واقعہ یہ ہے:
اپنی عدیم المثال قائدانہ لیاقت کی بدولت مولانا آزادبطور کانگریس صدر مکمل اتفاق رائے قائم کرکے بلاتقسیم آزادی کو ممکن بناچکے تھے۔ سب کچھ طے پاچکا تھا۔ دنیا بھر میں  مولانا کے فارمولہ  کی تعریف ہورہی تھی۔ اس تاریخی کامیابی پر مولانا کے پاس لارڈ پیتھک- لارنیس اور سراسٹفرڈ کرپس کے مبارکباد کے ٹیلی گرام بھی آچکے تھے۔ اس لئے سوچنا پڑتا ہے کہ اچانک کیا ہوگیا؟ آخر لبوں  کو چھوکے پیالہ ہاتھ سے کیسے چھوٹ گیا؟
برطانوی انتخاب میں  چرچل کی شکست کے بعد لیبر پارٹی کی آمد پر ہی مولانا کی پیش بین نظر کو بدلے ہوئے حالات کا سراغ مل چکا تھا۔ مولانا کی گہری نگاہ شروع سے لیبر کیبنٹ کا ہندوستان کے تئیں  مثبت جذبے کا مطالعہ کررہی تھی۔ لیبر پارٹی کے اقتدار سنبھالنے کے فوراً بعد ۴۶۔۱۹۴۵ ء کی سردی میں  ایک پارلیمانی وفد ہندوستان روانہ کیاگیا۔ ۱۷؍فروری ۱۹۴۶ء کی شام والی ریڈیو نشریات میں  ساڑھے نوبجے مولانا نے برٹش فیصلے کی رپورٹ سنی کہ برطانوی سرکار ہندوستان کی آزادی پر بات کرنے کیلئے ایک کیبنٹ مشن ہندوستان روانہ کرے گی۔ اس خبرکے آدھے ہی گھنٹے کے اندر ایسو سی ایٹیڈ پریس کا ایک نمائندہ اس خبر پر ہندوستان کا رد عمل جاننے کیلئے مولانا کے پاس پہنچ گیا۔ مولانا نے اسے خوش آئند پیش رفت بتلایا۔ فروری ۱۹۴۶ء میں  بطور کانگریس صدر مولانا نے عوامی نبض جاننے کیلئے ایک ملک گیر سروے کیا۔ پتہ چلا کہ مکمل آزادی کے حق میں  یکسر تبدیل ہو کر اب ایک نیاہندوستان پیدا ہو چکا ہے۔ اسی بیچ۲۳؍مارچ ۱۹۴۶ء   کو برٹش کیبنٹ مشن ہندوستان پہنچا۔ اپنے ذہن میں  مستقبل کا آئین اور آئین ساز مجلس کی تشکیل کا ایک واضح خاکہ لئے مولانا ۲؍اپریل ۱۹۴۶ء کو دہلی تشریف لائے۔ ۶؍اپریل ۱۹۴۶ ء کو مولانا اور کیبنٹ مشن کے ممبران کے مابین پہلی اہم نشست منعقد ہوئی۔ سوال جواب اور ہر زاویئے سے بحث  کے بعد بالآخر لارڈ پیتھک۔ لارنس اور سراسٹفرڈ کرپس نے مولانا کے مطالبات، مشوروں  اور منصوبوں  پر  اپنی رضامندی کااظہار کیا۔
۱۲؍ اپریل ۱۹۴۶  ء کو کانگریس ورکنگ کمیٹی کا اجلاس طلب کرکے گاندھی جی سمیت تمام اراکین کو کیبنٹ مشن کے ساتھ ہوئی گفت و شنید اور طے پائے معاملات کی مولانا نے تفصیلی احوال بتائی۔ گاندھی نہرو پٹیل جیسے صف اول کے رہنما اس وقت موجود تھے۔ مولانا نے سب کو مطمئن کیا۔ اتفاق رائے قائم ہونے کے بعد اگلے قریب دو ماہ تک کانگریس کے صدر محترم کی سربراہی اور نگرانی میں  سبھی متعلقہ فریقوں  کے درمیان اور بھی تاریخی نوعیت کی میٹنگوں  کا سلسلہ چلتا رہا ۔ اسی طرح مسلم لیگ کے خدشات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی گئی، ساتھ میں  کانگریس کے ممبران کو اعتماد میں  لینے کے بعد جب کیبنٹ مشن کے ممبران بھی مطمئن ہو چکے تو اس پورے پلان کے اقرار ومعاہدہ سے منسلک بیان کو مولانا نے ۱۵؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو پورے ملک کے سامنے جاری کردیا۔ اس کے بعد۲۴؍ اپریل ۱۹۴۶ء کو مشن نے شملہ سے دلّی آکر وائسرائے کو طے پاچکے معاملات سے آگاہ کیا۔ ۲۷؍اپریل ۱۹۴۶ ء کو مزید بات چیت کی غرض سے کانگریس اور مسلم لیگ کو ہدایت کی گئی کہ وہ اپنے اپنے نمائندہ نامزد کریں ۔ مولانانے کانگریس کی طرف سے نہرو اور پٹیل کو نامزد کیا اور کچھ ہچکچاہٹ کے بعد گاندھی جی بھی اس میں  شامل ہونے پر آمادہ ہوئے۔ ۲؍مئی ۱۹۴۶ء سے ۱۲؍مئی ۱۹۴۶ء تک شملہ میں  مولانا کی زیر سربراہی دس روزہ مذاکرات کا دور چلتا رہا۔ لوگ مفاہمت کے قریب آتے گئے۔ اس کے بعد ۱۶؍مئی ۱۹۴۶ ء کو انگلینڈ میں  مسٹر ایٹلی نے ہائوس آف کامنس میں  کیبنٹ مشن پلان کا وہائٹ پیپر (White Paper) جاری کردیا۔ یہ پیپر مولانا کے ۱۵؍اپریل ۱۹۴۶ والے بیان سے بالکل مطابقت رکھتا تھا۔ دونوں  دستاویزات ریکارڈ پر ہیں ۔ اسی اثنا جون ۱۹۴۶ء میں  مسلم لیگ کا ئونسل کا سہ روزہ اجلاس منعقد ہوا جس کے آخری دن مسٹر جناح کو یہ تسلیم کرنا پڑا کہ مسلمانوں  کے خدشات کے ازالہ کی کیبنٹ مشن پلان سے بہتر صورت نہیں  ہو سکتی۔ مولانا کی شاندار سیاسی حکمت عملی کا یہ کمال تھا کہ ایک طرف تمام کانگریس کے اراکین کو اعتماد میں  لیا جا چکا تھا تو دوسری طرف مسٹر جناح دبائو میں  آگئے تھے کیوں  کہ مشن پلان کو نہ ماننے کی صورت میں  مسلم لیگ ممبران کا پارٹی سے انحراف کرکے کانگریس میں  شامل ہوجانے کا ڈر تھا۔ ادھر مولانا کے زیر صدارت کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اس بات کی تصدیق کردی کہ کیبنٹ مشن پلان اور مولانا کی اسکیم ایک ہی ہے۔ بالآخر ۲۶؍جون ۱۹۴۶  کا وہ تاریخی دن آیا جب دیر تک چلنے والے طویل اجلاس میں  کانگریس ورکنگ کمیٹی نے اپنی قرارداد میں  کیبنٹ مشن پلان کو منظوری دے دی۔ یہ ایک شاندار موقع  تھا۔ ملک تقسیم ہونے سے بچ گیا تھا۔ ملک میں  جشن کا ماحول تھا۔ چاروں  طرف خوشی کی لہر تھی۔ پھر ۷؍جولائی ۱۹۴۶ء کو بمبئی میں  آل انڈیا کانگریس کمیٹی کااجلاس ہوا۔ سات سال (۱۹۳۹ءتا  ۱۹۴۶ء ) تک کانگریس کا صدر رہنے کے بعد مولانا نے یہ عہدہ نہرو کو سونپ دیا۔ مولانا کی تقریر نے سامعین پر فیصلہ کن اثر ڈالا اور سی ڈبلیو سی میں  جس کیبنٹ مشن پلان پر مہر لگ چکی تھی اس کو اے آئی سی سی نے بھی  منظور کرلیا۔ 
مگر ۱۰؍جولائی۱۹۴۶ ء کو بمبئی میں  نہرو کے ایک بیان سے سارا کھیل بگڑگیا۔ صدر بننے کے تین ہی دن بعد نہرو نے ایک پریس کانفرنس میں  یہ بیان دے دیا کہ انڈین نیشنل کانگریس کیبنٹ مشن پلان کی باتوں  کو ماننے کیلئے پابند نہیں  ہو گی۔ نہرو جی کا یہ بیان دونوں  ایوانوں  میں  طے پاچکی بات کی روح کے بالکل منافی تھا۔ ان کی یہ بات کانگریس ورکنگ کمیٹی اور آل انڈیا کانگریس کمیٹی کے ہائوس میں  پاس کی گئی قرارداد کی خلاف ورزی تھی۔ ۱۰؍جولائی ۱۹۴۶ ء کے سیاہ دن  والے بیان کے بعد صورت حال یک لخت بگڑ گئی اور بگڑتی چلی گئی۔ انجام کار آزادی تو ملی مگر وطن عزیز دو حصوں  میں  بٹ گیا ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK