کسی بھی حقیقی جمہوریت میں ایسی صورت حال کو قبول کرنا مشکل ہوگا ، جہاں حکومت ایک ایسے چیف الیکشن کمشنر کا دفاع کرے جس پر اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی کئی تنظیموں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہو۔
EPAPER
Updated: October 27, 2026, 3:46 PM IST | Kaleshwaram Raj | Mumbai
کسی بھی حقیقی جمہوریت میں ایسی صورت حال کو قبول کرنا مشکل ہوگا ، جہاں حکومت ایک ایسے چیف الیکشن کمشنر کا دفاع کرے جس پر اپوزیشن جماعتوں اور سول سوسائٹی کی کئی تنظیموں نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہو۔
ہندوستان آج فیصلہ کن موڑ پر ہے۔ سڑکوں پر لگنے والے نعرے تحریک آزادی کے نعروں جیسے محسوس ہورہے ہیں۔ چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے پر دہلی اور دیگر مقامات پر احتجاج اپنی نوعیت کا پہلا معاملہ ہے۔ (اس سے پہلے کبھی کسی الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج نہیں ہوا۔) کسی بھی حقیقی جمہوریت میں ایسی صورت حال کو قبول کرنا مشکل ہوگا جہاں حکومت ایسے چیف الیکشن کمشنر کا دفاع کرے جس پر اپوزیشن اور سول سوسائٹی نے عدم اعتماد کا اظہار کیا ہو۔ ایک ایسے ادارے کے ساتھ حکمراں جماعت کا کھل کر کھڑا ہونا جس سے غیر جانب داری اور منصفانہ کردار کی توقع کی جاتی ہے، انتخابی نظام کی شفافیت پر سنگین سوالات کھڑے کرتا ہے۔ عوام کے سامنے جوحقائق آچکے ہیں ان کو دیکھا جائے تو الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے استعمال، خصوصی جامع نظرثانی کے ذریعہ ووٹر فہرستوں کو حتمی شکل دینے اور انتخابی حلقوں کی نئی حدبندی کے عمل پر بھی کئی سوالات اٹھتے ہیں۔
ہندوستان کاآئین اس بات کو یقینی نہیں بناتا کہ ملک میں ’’جمہوریت کے ایمپائروں‘ ‘ کے انتخاب کیلئےکوئی آزاد ادارہ ہوگا ، جنوبی افریقہ کے آئین میں یہ ضمانت موجود ہے۔جنوبی افریقہ کے آئین کے باب۹؍ میں ان اداروں کا ذکر ہے جو ’’آئینی جمہوریت کی مددکرتے ہیں۔‘‘کوسٹا ریکا کا سپریم الیکٹورل ٹریبونل بھی اس حوالہ سے ایک چھوٹی، مگر اہم مثال ہے، جو انتخابی ادارے کو انتظامیہ کی مداخلت سے آزاد رکھنے کو یقینی بناتا ہے۔ ہندوستانی آئین میں موجود اس کمی کو عدالتی فیصلوں کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ اس سلسلے میں ۱۹۷۵ءکے اندرا نہرو گاندھی بنام راج نارائن مقدمے سے لے کر۲۰۲۳ء کے انوپ برنوال مقدمے تک کئی اہم فیصلے ہیں۔ جسٹس وی آر کرشنا ایئر نے موہندر سنگھ گل مقدمے میں۱۹۷۷ء میں کہا تھا کہ ’’ووٹ ڈالنے کیلئےپولنگ بوتھ تک پہنچنے والا عام آدمی، جب اپنے بے شمار ساتھیوں کے ساتھ ووٹ دیتا ہے تو وہ اپنی پارلیمنٹ کا سماجی محاسبہ کرتا اور اپنے نمائندہ کے انتخاب کے ذریعے سیاسی فیصلہ سناتا ہے۔‘‘اس طرح ہندوستانی جمہوریت نے عدالتی فیصلوں اور سیاسی عمل کے ذریعے سیاسی مساوات کے تصور کو عملی شکل دی۔ امبیڈکر نے ہندوستان میں موجود سماجی اور معاشی عدم مساوات پر گہری تشویش ظاہر کی تھی لیکن کچھ رکاوٹوں اور کبھی کبھار کی بے ضابطگیوں کے باوجود ہندوستان دنیا بھر کی جمہوریتوں کیلئے ایک مثال بن کر ابھرا۔ تاہم، اب عوام کا ایک بڑا طبقہ یہ محسوس کررہا ہے کہ مرکزی سطح پر منظم انداز میں لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے اور دیگر حربوں کے ذریعے ہندوستان میں انتخابات کو متاثر کیا جا رہا ہے۔ اسی احساس نے احتجاجی تحریکوں کو جنم دیا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: امریکی وسط مدتی انتخابات کا منظرنامہ
بنگلہ دیش، نیپال، انڈونیشیا، مڈغاسکر، مراکش، فرانس، اسپین اور یونان میں جنریشن زی کی تحریکوں کے برعکس، ہندوستان میں چیف الیکشن کمشنر کے خلاف مظاہرے عموماً پُرامن ہیں۔ نوجوانوں نے جمع ہونے اور اظہار رائے کے حق کابلا خوف و خطر استعمال کیا ۔ یہ بنیادی آزادیاں آئین کے تحت محفوظ ہیں اور حکومت یا پولیس کو حق نہیں کہ وہ طاقت کے زور پر انہیں چھینے۔سپریم کورٹ نے ۲۰۱۲ء کے رام لیلا میدان کیس میں خبردار کیا تھا کہ ایسی صورت میں ’’ریاست کے اقدامات نہ تو ناانصافی پر مبنی ہو ہوں اور نہ ہی غیر منصفانہ، ورنہ وہ غیر معقولیت اور من مانی کے زمرہ میں آ جائیں گے، جس سے قانون، طریقۂ کار اور اس کے تحت کی جانے والی کارروائیاں سبھی متاثر ہوں گی۔‘‘اس کے باوجود پولیس نے صرف طلبہ ہی نہیں بلکہ اراکین پارلیمان اور سول سوسائٹی کے افراد کے ساتھ بھی بدسلوکی کی، احتیاطی حراست کے قوانین کا غلط استعمال کیا ، خاتون کارکنوں کوپولیس اہلکاروں نے گھسیٹا اور حراست میںلیتے وقت مارا پیٹا گیا۔ بہت سے پولیس اہلکاروں نےنام کی پلیٹیں تک نہیں لگا رکھی تھیں۔
جس بے خوفی اور جواب دہی کے احساس کے بغیر ان کارروائیوں کو انجام دیا گیا، وہ تشویشناک ہے۔ طلبہ پر تشدد اور ان کی غیر قانونی حراست کے خلاف سپریم کورٹ کے حکم پر بھی پولیس نے عمل نہیں کیا۔ انتظامیہ کی ان کارروائیوں نے۲۰۱۶ء کے انیتا ٹھاکر مقدمے میں سپریم کورٹ کی جانب سے بیان کردہ اصول کی خلاف ورزی کی۔اس مقدمے میں عدالت نے کشمیر کی اس وقت کی کشیدہ صورتحال کا ذکر کرنے کے باوجود واضح کیا تھا کہ ’’ایسے تشدد پر قابو پانے یا غیر قانونی اجتماعات کو منتشر کرنے کے دوران پولیس کو انتہائی احتیاط، مہارت اور درستگی کے ساتھ اپنا کام انجام دینا چاہیے۔‘‘ عدالت نے یہ بھی خبردار کیا تھا کہ ’’صرف اتنی ہی طاقت استعمال کی جائے جتنی ناگزیر ہو، اس سے زیادہ نہیں۔‘‘
احتجاج کے مقامات محض زمین کے ٹکڑے یا عوامی سہولتیں نہیں ہوتے۔ وہ ہماری جمہوریت میں باقی رہ جانے والی زندگی کی دھڑکن کی ترجمانی کرتے ہیں۔۲۰۱۸ء کے مزدور کسان شکتی سنگٹھن مقدمہ میں سپریم کورٹ نے مخصوص مقامات پر عوامی جلسوں اور دھرنوں پر مسلسل پابندی عائد رکھنے کے خلاف سخت موقف اختیار کیا تھا۔ اس مقدمے میں نیشنل گرین ٹریبونل کے اس الگ حکم کا معاملہ بھی زیر بحث آیا تھا، جس میں احتجاجی مقام جنتر منتر سے رام لیلا میدان منتقل کرنے کی ہدایت دی گئی تھی۔سپریم کورٹ نے آئین کے آرٹیکل۱۹(۱)(بی) کا حوالہ دیتے ہوئے ضابطوں کی پابندی کے ساتھ جنتر منتر کو احتجاجی مقام کے طور پر برقرار رکھنے کا حکم دیا تھا۔ افسوس کہ اب جنتر منتر کو احتجاج کیلئے مختص مقامات کی فہرست سے ہی خارج کر دیا گیا ہے۔موجودہ تحریک کا دائرہ گیانیش کمار کے استعفے کے مطالبے سے کہیں آگے بڑھ سکتا ہے۔ دیہی ہندوستان میں بڑے پیمانے پر لوگوں کو حق رائے دہی سے محروم کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں۔ ایسے میں وہاں بھی عوامی تحریک کی ضرورت پیش آ سکتی ہے اور اپوزیشن کو بھی اپنے فوری سیاسی ایجنڈے میں اس مسئلے کو جگہ دینی چاہیے۔
پُرامن احتجاج کے ذریعہ غیر منصفانہ انتخابی طریقوں کو ختم کرانے میں کامیابی حاصل کی جاسکتی ہے ۔ مظاہرین نے ملک کو خوف کے ماحول سے نکال کر ایک اخلاقی کامیابی پہلے ہی حاصل کرلی ہے۔ لیکن انتشار اور آمریت کے درمیان ہندوستان کو دانش مندانہ درمیانی راستہ اختیار کرنا ہوگا، اور وہ راستہ صرف آئین کا راستہ ہے۔ مرکز کی حکومت ناقابل دفاع اقدامات کا دفاع کرکے جمہوریت کے اسی بنیادی اصول کو نظر انداز کر رہی ہے۔n
(کلیسورم راج، سپریم کورٹ میں وکیل ہیں۔)
(بشکریہ: نیو انڈین ایکسپریس)