ایران نے اقوام متحدہ میں سفارتی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ متعدد ممالک نے ایران کے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا۔
EPAPER
Updated: January 25, 2026, 4:00 PM IST | Tehran
ایران نے اقوام متحدہ میں سفارتی حمایت پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے، جبکہ متعدد ممالک نے ایران کے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا۔
پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا کہ ا یران کے اعلیٰ سفارت کار نے پاکستان کی اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے خلاف قرارداد کی مخالفت میں مضبوط حمایت کی تعریف کی ہے، جبکہ تہران نے بے چینی اور اموات کا الزام ’’شرپسندوں اور فسادیوں‘‘ پر عائد کیا ہے جنہیں جلاوطن مخالفین اور غیر ملکی دشمنوں یعنی امریکہ اور اسرائیل کی حمایت حاصل ہے۔ وزارت نے بیان میں کہاکہ پاکستان کے نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار، جو دبئی کے سرکاری دورے پر ہیں، کو سنیچر کوکو ان کے ایرانی ہم منصب عباس عراقچی سے ٹیلی فون کال موصول ہوئی اور دونوں لیڈروں نے علاقائی اور بین الاقوامی موجودہ پیش رفت پر خیالات کا تبادلہ کیا۔
یہ بھی پڑھئے: منی ایپولس میں ہنگامہ، ٹرمپ کا گورنر اور میئر پر بغاوت اکسانے کا الزام
دریں اثناء وزیر خارجہ عراقچی نے نائب وزیراعظم/وزیر خارجہ کا ان کی مضبوط حمایت اور جنیوا میں اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں پاکستان کے موقف پر شکریہ ادا کیا، جس میں ووٹنگ کی درخواست اور ایران سے متعلق قرارداد کے خلاف ووٹ دینا شامل ہے۔ واضح رہے کہ جمعہ کو، انسانی حقوق کونسل نے ایک قرارداد منظور کی جس میں ایران پر آزاد بین الاقوامی حقائق مشن کے مینڈیٹ کو مزید دو سال اور ایران میں انسانی حقوق کی صورتحال پر خصوصی نمائندہ ,کے مینڈیٹ کو ایک سال کے لیے توسیع دی گئی، جو ایک خصوصی اجلاس کے بعد منظور ہوئی۔کم از کم۵۰؍ ممالک نے جنیوا کے اس ادارے کے جمعہ کے خصوصی اجلاس کی حمایت کی جو آئس لینڈ، جرمنی اور برطانیہ سمیت ممالک نے شروع کیا تھا۔جبکہ گھانا اور فرانس سمیت کئی ممالک نے ایران کے کریک ڈاؤن پر تشویش کا اظہار کیا۔تاہم، چین، پاکستان، ہندوستان، انڈونیشیا، عراق، کیوبا اور ویتنام نے اس اقدام کی مخالفت کی اور اس کے خلاف ووٹ دیا۔قرارداد نے مشن سے مطالبہ کیا کہ وہ۲۸؍ دسمبر سے شروع ہونے والے ملک گیر احتجاج کے دبانے کی فوری تحقیقات کرے۔اس کے علاوہ مشن سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ احتجاج سے متعلق مبینہ سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں اور زیادتیوں کی فوری تحقیقات کرے، بشمول ممکنہ مستقبل کے قانونی کارروائیوں کے، اپنے مینڈیٹ کے مطابق۔