Inquilab Logo Happiest Places to Work

آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ریاست کے مختلف اضلاع میں احتجاج

Updated: March 04, 2026, 10:02 AM IST | Mukhtar Adeel And Sharjeel Qureshi | Malegaon

مالیگائوں میں جلوس نکالا گیا،بھساول میں اسرائیل اور امریکہ کے پرچم جلائے گئے، بیڑ میں احتجاج کے بعد ۳؍ دنوں کے سوگ کا اعلان ۔

protests in various districts of the state on the martyrdom of ayatollah Khamenei.Photo:INN
آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ریاست کے مختلف اضلاع میں احتجاج- تصویر:آئی این این
مالیگاؤں؍ بھساول؍ بیڑ: امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملہ اور سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی شہادت پر ریاست کے مختلف علاقوں میں سخت احتجاج کیا گیا۔ 
مالیگائوں میں احتجاجی جلوس 
مالیگائوں میںشیعہ اثناء عشری جماعت کی جانب سے احتجاجی جلوس حسینی مسجد سے نکالا گیا جو شیعہ قبرستان میں اختتام پذیر ہوا۔ اس میں مولانا حیدرعباس نقوی،خالد شیخ رشید،محمد مستقیم ،ظہیر ہادی ، الطاف حسین،عارف حسین سجاد سمیت سرکردہ افراد شریک ہوئے۔ مظاہرین نے امریکہ و اسرائیل مردہ باد کے نعرے لگائے۔شرکاء میں  نے اپنے ہاتھ میں ایران کے مہلوک سپریم لیڈر سیّد علی خامنہ ای کی تصویراٹھا رکھی تھی۔ شیعہ قبرستان کے داخلی گیٹ کی زمین پر اسرائیل وامریکہ کے قومی پرچم پینٹ تھے جسے مظاہرین نے پَیروں تلے روند کر اپنے غم و غصے کا اظہار کیا۔ 
 
 
بھساول میں ’خامنہ ای زندہ ہے‘ کہ نعرے
’’مرگ بر امریکہ ،مرگ بر اسرائیل ،زندہ ہے خامنہ ای، زندہ ہے ۔لبیک یا خامنہ ای ،لبیک یا حسینؑ،لبیک یا زینب  ؑ،شہادتوں کا راستہ کر بلا ‘‘ ان فلک بوس نعروں کے ساتھ بھساول شہر کے رضا چوک پر واقع مسجد انجمن سجادیہ کے پاس اہل تشیع برداران نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف احتجاج کیا۔اس دوران امریکہ اور اسرائیل کے قومی پرچم  جلائے گئے اور انہیں پیروں تلے روندا  گیا، اس موقع پر مظاہرین نے آیت اللہ علی خامنہ ای کے قتل کوغیر قانونی بتایا ۔یہ احتجاج بعد نماز مغرب کیا گیا تھا ۔مظاہرین نے ہاتھوں میں  آیت اللہ خامنہ ای تصویر اور ہاتھوں میں موم بتیاں اٹھا رکھی تھیں۔اس احتجاج میں مولانا علی رضا ،مولانا حیدر ،لیاقت علی ،غلام حسین کے علاوہ  بڑی تعداد میں مردو خواتین اور بچوں نے شرکت کی۔ اس سے قبل نماز ظہر میں مسجد انجمن سجادیہ میں دعائے فاتحہ خوانی ہوئی تھی۔
 
 
 بیڑ میں ۳؍ روزہ سوگ کا اعلان 
منگل کوضلع بیڑ میں واقع پرلی شہر میں بھی ایرانی برادری سڑکوں پر نکل آئی اورایران پر حملوں کے خلاف  ایک بڑااحتجاجی مارچ نکالا۔  اس دوران بیڑ میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا گیا ہے۔ شہر میں نکالی گئی ریلی کے دوران مظاہرین نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف شدید نعرے  لگائے اور دونوں ممالک کے پرچم بھی نذرِ آتش کئے ۔ یاد رہے کہ بیڑ میں ایرانیوں کی بستی ہے جہاں یہ لوگ کئی نسلوں سے آباد ہیں۔ مظاہرین  کا کہنا تھا کہ ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای بم حملوں میں شہید ہو گئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اس واقعے کے ردعمل میں ملک بھر میں جلوس نکالے گئے اور پرلی میں بھی اس کی تقلید کی گئی۔ انہوں نے کہا کہ ماہِ رمضان میں ہوئی شہادت کے بعد  بھی خامنہ ای کی قیادت کی دہائیوں پر محیط جدوجہد جاری رہے گی۔انہوں نے بتایا کہ وہ گز شتہ ۳۰۰؍ تا ۴۰۰؍برس سے ہندوستان میں آباد ہیں، ان کی ۷؍ نسلیں یہیں پلی بڑھی ہیں ۔ اس دوران ایرانی محلے سے چھترپتی سمبھاجی مہاراج چوک تک مارچ نکالا گیا۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK