مودی جی نے کانگریس مکت بھارت کا سپنا دیکھا تھا۔ شوبھیندو شاید ترنمول کانگریس مکت بنگال کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل انہوں نے اعلانیہ کہا تھا کہ وہ ممتا بنرجی کو عملی سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کردینگے۔ صورتحال یہ ہے کہ عین ضمنی انتخابات سے قبل ممتا کی ترنمول کا نام و نشان تک منجمد کردیا گیا ہے۔
ممتا بنرجی۔ تصویر: آائی این این
جمہوریت میں حزب اختلاف کا ایک اہم مقام ہے بلکہ یہ کہنا زیادہ درست ہوگا کہ حزب اختلاف کے بغیر جمہوریت کا تصور ہی ناممکن ہے۔اپوزیشن کا کام حکومت کے کام کاج پر نگاہ رکھنا اور اختیارکے غلط استعمال پراحتجاج کرنا ہے تاہم وزیر اعظم نریندر مودی نے اقتدار سنبھالنے کے بعد ہی ملک اور قوم کویہ اشارہ دے دیا تھا کہ حکمراں بھارتیہ جنتا پارٹی کو کسی قسم کی مخالفت پسند نہیں ہے۔ مودی جی جب ’’کانگریس مکت بھارت‘‘ بنانے کے اپنے عزم کا اظہار کرتے تھے تو وہ دراصل یہ کہنا چاہتے تھے کہ انہیں ملک کو من مانے طریقے سے چلانے کی مکمل آزادی درکار ہے۔ امیت شاہ جب یہ دعویٰ کرتے تھے کہ بی جے پی کو پچاس برسوں تک کوئی اقتدار سے نہیں ہٹاسکتا ہے تو وہ ایک ایسے سیاسی نظام کی تصویر پیش کررہے تھے جس میں نصف صدی تک سارے ملک پر بی جے پی کی حکمرانی ہوگی۔دور حاضرہ کے چانکیہ کے دماغ میں دراصل یک جماعتی حکومت کا تخیل پروان چڑھ رہا تھا۔اس طرح کے نظام میں تمام جمہوری اور آئینی اداروں پر حکمراں پارٹی کا کنٹرول قائم رہتاہے یہاں تک کہ پارٹی اور ریاست میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا ہے۔ ملک کو صرف کانگریس سے ہی نہیں ایسی تمام پارٹیوں سے ’’مکت‘‘ کرانے کا ارادہ لگتا ہے جو سیاسی اور نظریاتی طور پر بی جے پی کی مخالفت کرتی ہیںاور جو سیکولر جمہوری اقدار میں یقین رکھتی ہیں۔
یہ بھی پڑھئے: اے آئی کو’درد‘ ہوتا ہے، تکلیف سے بچنے کیلئے انسانوں کونقصان پہنچاسکتا ہے: تحقیق
مغربی بنگال میں اس وقت مختلف حربے استعمال کرکے ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو چھ اکتوبر کو ہونے والے ضمنی الیکشن میں حصہ لینے سے روکا جارہا ہے تاکہ حکمراں بی جے پی کو واک اوور مل جائے۔ مدناپور اور مرشدآباد اضلاع میں واقع نندی گرام اور ریجی نگر میں ضمنی انتخابات کا جیسے ہی اعلان ہوا بنگال میں سیاسی پارہ ایک بار پھرتیزی سے چڑھنے لگا اورممتا کے مصائب اور مسائل میں اضافہ بھی ہونے لگا۔ ممتا اقتدار مئی میں ہی گنوا چکی تھیں۔جون میں ان کی پارٹی کے تین ٹکڑے بھی ہوگئے تھے۔ پچھلے ہفتے ان کے پاس بچی کچھی پارٹی بھی ان سے چھن گئی اور ممتا کو ان کی پارٹی کے نام اور انتخابی نشان (جوڑا پھول) سے بھی محروم کردیا گیا۔لگتا ہے بی جے پی بنگال میں اقتدار پالینے کے بعد بھی مطمئن نہیں ہے۔ زعفرانی پارٹی ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کا محاورتاً ہی نہیں حقیقت میں نام و نشان مٹا دینے پر تلی ہے۔ ترنمول کانگریس کے اندر جاری خانہ جنگی کے مدنظرپاٹی کے نام اور سمبل کو منجمد کرنے کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے کیا ہے لیکن اب یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے کہ یہ آئینی ادارہ جو ماضی میں خود مختار اور غیر جانبدار ہوا کرتا تھااب کس کے اشارے پر کام کررہا ہے۔پندرہ برسوں تک بنگال میں حکومت کرنے کی وجہ سے ترنمول کانگریس کے خلاف اینٹی اسٹیبلشمنٹ کی لہر ضرور تھی اس کے باوجود الیکشن کے نتائج ممتا کے لئے اتنے تباہ کن ہرگز نہیں ہوتے اگرالیکشن کمیشن نے ایس آئی آر کے بہانے لاکھوں مستنداور حقیقی ووٹروں کو حق رائے دہندگی سے محروم نہ کیا ہوتا۔ اب ضمنی الیکشن سے دو ہفتے قبل ترنمول کانگریس کا اصلی نام اور نشان بھی چھین لینا ممتا کو سیاسی طور پر مٹادینے کی کوشش کے سوا اور کیا ہے؟
در حقیقت راج سنگھاسن پر براجمان ہونے اور ممتا بنرجی کو ان کے گھر(بھوانی پور) میں براہ راست مقابلہ میں شکست دینے کے بعد بھی شوبھیندو ادھیکاری کے انتقام کی آگ ٹھنڈی نہیں ہوئی ہے۔ شوبھیندو کو بی جے پی میں شامل ہوئے ابھی جمعہ جمعہ آٹھ دن ہی ہوئے ہیں لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس مختصر سے عرصے میں انہوں نے انتخابات جیتنے کے بعد اپوزیشن کو ٹھکانے لگانے کے تمام گر سیاسی گروؤں سے سیکھ لئے ہیں۔ شوبھیندو کو بھی اپوزیشن گوارا نہیں ہے۔ مودی جی نے کانگریس مکت بھارت کا سپنا دیکھا تھا۔ شوبھیندو شاید ترنمول کانگریس مکت بنگال کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ ایک ماہ قبل انہوں نے ا علانیہ کہا تھا کہ وہ ممتا بنرجی کو عملی سیاست سے مکمل طور پر کنارہ کشی اختیار کرنے پر مجبور کردیں گے۔اب ایسے ہتھکنڈے استعمال کئے جارہے ہیں کہ ترنمول کانگریس مجوزہ اسمبلی ضمنی انتخابات میں سرے سے حصہ ہی نہ لے سکے۔ نندی گرام کی ترنمول کانگریس امیدوار سنچیتا پردھان دے نے بالکل آخری لمحوں میں اپنی نامزدگی واپس لے کر شوبھیندو کا ارمان پورا کردیا۔سنچیتا نے نامزدگی کی واپسی کے اعلان سے قبل وزیر اعلیٰ سے ملاقات کرکے دنیا کویہ بتادیا کہ ممتا کی پیٹھ میں خنجر انہوں نے کس کے اشارے پر گھونپا ہے۔
یہ بھی پڑھئے: جیت کا شہرہ، ہار پر چپی
ان کی بے وفائی کا درد کم کرنے کی خاطر ممتا نے نندی گرام میں کانگریس امیدوار ملن پردھان کو حمایت دینے کاجیسے ہی اعلان کیا ویسے ہی پردھان کوگرفتار کرلیا گیا۔کانگریس کاالزام ہے کہ پردھان کی آنکھوں پر پٹی باندھ کر پہلے ایک ساحلی ریزارٹ میں لے جاکر زدو کوب کیا گیا تاکہ وہ بھی اپنا نام واپس لے لیں۔ جب انہوں نے انکار کردیا تو جیل بھیج دیا گیا۔ر یجی نگر کے ترنمول کانگریس امیدوار ربیع العالم چودھری پربھی دباؤ ڈال کر راستے سے ہٹانے کی ناکام کوشش کی گئی۔اپوزیشن امیدواروں پر دباؤ ڈال کر انتخابی میدان چھوڑنے پر مجبور کرنا اور نہ چھوڑنے پر گرفتار کرکے جیل بھیج دیناکسی بھی پارلیمانی جمہوری نظام کے نام پر ایک بدنما داغ ہے۔ بی جے پی نندی گرام اور ریجی نگر دونوں حلقوں میں ریکارڈ ووٹوں سے جیتنے کے لئے ہر جتن کررہی ہے تاکہ عوام کو یہ پیغام دیا جاسکے کہ چونکہ شوبھیندو ادھیکاری نے چار ماہ میں ہی بنگال کو خوشحالی اور ترقی کی بلندیوں پر پہنچادیا ہے اسی لئے ان کی مقبولیت آکاش چھورہی ہے۔
مئی میں بی جے پی نے صوبے کی ۲۹۴؍ میں سے ۲۰۸؍ سیٹیں جیت کر دوتہائی اکثریت حاصل کی تھی۔ ترنمول کانگریس نے ۸۰؍سیٹیں جیتی تھیں لیکن آج ممتا بنرجی کے پاس مشکل سے پندرہ ایم ایل ایز بچے ہیں۔ ۶۵؍ ’’غدار‘‘ ایم ایل ایز نے ممتا بنرجی کو داغ رفاقت دے کر ریتوبروتوبنرجی کی قیادت میں اپنی راہ الگ کرلی ہے۔ ان کا یہ دعویٰ ہے کہ ان کا ٹولہ ہی حقیقی ترنمول کانگریس ہے۔ قارئین کو یاد دلادوں کہ غدارو ں کے اس ٹولے کو ممتا بنرجی نے ’’بی جے پی کی بی ٹیم‘‘قرار دے دیا ہے۔ستم ظریقی دیکھئے کہ الیکشن کمیشن نے اپنے متنازع فیصلے میں ’’بی جے پی کی بی ٹیم‘‘ کو’’جمہوری ترنمول کانگریس‘‘ کا نام دیا ہے۔ ترنمول کانگریس کے غدار ایم پیز اور ایم ایل ایز کے برعکس ابھی بھی ایسے لاکھوں لیڈر اور ورکرز صوبے میں ہیں جو دیدی کے وفادار ہیں۔ ان کو کبھی کلکتہ پولیس اور کبھی بنگال پولیس، کبھی ای ڈی اور کبھی سی بی آئی کے ہاتھوں ہراساں کیا جارہا ہے۔ غنڈوں کو ان پر انڈے پھینکنے کی آزادی دے دی گئی ہے۔جنوبی کلکتہ میں ممتا کے وفاداروں کے گھروں پرحملے کرکے انہیں دہشت ذدہ کیا جارہاہے۔ بنگال میں جمہوریت کا جنازہ دھوم سے نکل رہا ہے۔