Inquilab Logo Happiest Places to Work

آشا بھوسلے: دل کے سوئے ہوئے تاروں میں کھنک جاگ اٹھی

Updated: April 20, 2026, 4:52 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

کھنک ایک لفظ ہے اور وہ لفظ نغمے سے نکل کر آشا بھوسلے کے یہاں ایک نئی کھنک سے روشناس ہوتا ہے

INN
آئی این این
ساحر نے فلم وقت(۱۹۶۵) کے لئے یہ نغمہ لکھا تھا جس کے الفاظ اس مضمون کا عنوان بن گئے۔ آشا بھوسلے کی آواز میں  اسے سنتے ہوئے وقت کے ٹھہر جانے کا احساس ہوتا ہے۔’’کون آیا کہ نگاہوں  میں  چمک جاگ اٹھی‘‘کا رشتہ دل کے تاروں  سے قائم نہیں  ہو سکتا تھا،اگر اسے آشا کی آواز نہ ملتی۔ کسی کی آمد سے نگاہوں  میں  چمک پیدا ہو سکتی ہے، اور دل کے سوئے ہوئے تار بھی جاگ سکتے ہیں ، مگر اسے صرف کاغذ پر لکھ کر پڑھا نہیں  جا سکتا تھا۔ نہ جانے کتنے ایسے نغمے اور گیت ہیں  جنہیں  آشا کی آواز نے گہرائی عطا کر دی ہے۔ کھنک ایک لفظ ہے اور وہ لفظ نغمے سے نکل کر آشا بھوسلے کے یہاں  ایک نئی کھنک سے روشناس ہوتا ہے۔’’کھنک‘‘ کی ادائیگی کے بعد جب وہ،لفظ ’’جاگ‘‘ادا کرتی ہیں ، تو محسوس ہوتا ہے کہ لفظ ’’اٹھی‘‘کے ساتھ کھنک کچھ گہری ہوتی جا رہی ہے۔ ایک ہی لے میں  لفظ ’’اٹھی‘‘سے دل کی آواز نکلنے لگتی ہے۔ کچھ یہی صورت دوسرے ٹکڑوں  کی بھی ہے۔’’کون آیا‘‘ کی ادائیگی میں  خوشی سے کہیں  زیادہ حیرت کا احساس شامل ہے۔ یوں  تو نغمے کی فضا مسرت بخش ہے مگر ایک اداسی ہے جسے آشا کی آواز دریافت کر لیتی ہے۔’’ساز بجنے لگے آنچل میں  کھنک جاگ اٹھی‘‘ سادھنا کی اداکاری نے آشا کی آواز کو فلم کی صورتحال کے ساتھ، کچھ اور دلکش بنا دیا ہے مگر اس آواز کی جو کھنک ہے، وہ اپنی گونج کے ساتھ بہت ہلکی ہے، جیسے پھوار یا ہلکی بارش ہو۔ جہاں  جہاں  الف کے ساتھ جو لفظ آیا ہے، وہ آشا کی آواز میں  اپنی سربلندی کا اتنا اعلان نہیں  کرتا۔ فلم’’وقت‘‘ کا وہ گانا بھی دلوں  کی دھڑکن بن گیا: ’’چہرے پہ خوشی چھا جاتی ہے آنکھوں  میں  سرور آ جاتا ہے، جب تم مجھے اپنا کہتے ہو اپنے پہ غرور آ جاتا ہے۔‘‘یہ وقت ساحر کی شاعری کا بھی ہے اور آشا کی آواز کا بھی ہے۔ ہماری تہذیبی زندگی میں  اس نغمے سے، محبت کی ایک فضا روشن ہوئی ہے۔ یہ فضا صرف فلم کے اندر نہیں  ہے، آشا کی آواز نے اسے دور دراز علاقوں  تک پہنچا دیا ہے۔ شاید ہی کوئی شخص ہو، جس کے سینے میں  دل دھڑکتا ہو اور اس نے آشا کی اس آواز کو اپنی آواز نہ دی ہو۔ آشا کی اس آواز میں بہت سی آوازیں  شامل ہو گئی ہیں ۔ سوال یہ ہے کہ یہ آوازیں  کہاں  ہیں ؟ اس سوال کا جواب ان آوازوں  کے پاس ہے جو خاموش ہو گئیں   اور جو موجود ہیں ، لیکن کسی کو کیا پتہ کہ کب کس نے ساحر کے اس نغمے کو آشا کی آواز میں  دہرایا اور گایا ہے۔ دو سادہ سے یہ مصرعے، زمانے کو آئینہ دکھاتے ہیں ۔ اپنا کہنے میں  کتنا وقت لگتا ہے، اور ہم کسی کو اپنا کہہ نہیں  پاتے، کہتے کہتے رہ جاتے ہیں ، بلکہ لگتا ہے کہ جیسے کوئی رکاوٹ ہے جو اپنا کہنے کی راہ میں  حائل ہے۔ آواز رندھ جاتی ہے، اور لفظ اپنا اور اپنے کو بھی، کرب سے گزرنا پڑتا ہے۔‘‘جب تم مجھے اپنا کہتے ہو، اپنے پہ غرور آ جاتا ہے‘‘ایک مرتبہ پھر ہماری زندگی اس اپنائیت کو دیکھنا چاہتی ہے۔گرچہ اپنائیت باقی ہے، پھر بھی ساحر کی شاعری آشا کی آواز میں ، اپنائیت کو نئے سرے سے دیکھنا چاہتی ہے۔آشا بھوسلے کی آواز جہاں  کسی نغمے میں  کسی اور موسیقار کے ساتھ ہے، وہاں  ان کی آواز بھی نمایاں  رہتی ہے۔ اس کی وجہ یہ نہیں  کہ ان کی آواز میں  کوئی کھنک ہے۔ بار بار سننے کے بعد اسی نتیجے پر پہنچا جا سکتا ہے کہ آواز میں  آواز ملانے کا مطلب آواز کو گم کر دینا نہیں  ہے۔ ناصر کاظمی کی غزل جس کا مطلع یہ ہے:
دیار دل کی رات میں  چراغ سا جلا گیا
ملا نہیں  تو کیا ہوا وہ شکل تو دکھا گیا
آشا بھوسلے اور غلام علی کی آواز میں  اس غزل کو سنتے ہوئے محسوس ہوتا ہے کہ آشا بھوسلے کی آواز غلام علی کی آواز پر غالب آگئی ہے۔ اس کا ایک سبب تو غلام علی کی آواز کا فطری ٹھہراؤ ہے، جو آ شا کی آواز کی تیزی اور اس کی دبی دبی کھنک کا احترام کرتی ہے۔ غلام علی بہت ڈوب جاتے ہیں ، پھر آ شا کی آواز اسی سے ابھرتی ہوئی دوپہر کی زردیوں  کو اور صبح کی سفیدیوں  کو پوری زندگی پر پھیلا دیتی ہے۔
آشا بھوسلے کے انٹرویوز کو سننا اس لئے ضروری ہے تاکہ موسیقی کی دنیا میں  ان کی ترجیحات کا علم ہو سکے۔انہوں  نے اتنے گانے گائے کہ انہیں   سننا اور ان کے بارے میں  رائے قائم کرنا آسان نہیں ۔ اُردو کی آوازیں  ان کے لئے شناسا تھیں  اور ہندی الفاظ بھی اُردو کے ساتھ مل کر یک جان ہو جاتے تھے۔ انہوں  نے ایک انٹرویو میں  پرانے نغموں  کا ذکر کرتے ہوئے، اس وقت کو یاد کیا جب لوگ گانے ایک دوسرے کو سناتے تھے اور یہ گانے بچوں  کو یاد ہو جاتے ۔ ریمکس کے بارے میں  ان کی رائے بہت حوصلہ افزا نہیں  تھی۔ پھر بھی انہوں  نے مختلف زبانوں  کے الفاظ کے ساتھ اپنی آواز کو ہم آہنگ کرنے کی کوشش کی۔ یہ ہماری تہذیبی زندگی کا ایک اہم واقعہ ہے۔
فلم’’امراؤ جان ادا‘‘کے گانے آشا بھوسلے کی آواز میں  موسیقی کے ٹھہراؤ اور گہرائی کی روشن مثال بن گئے۔خود شہریار اپنے کلام کو آشا بھوسلے کی آواز میں  سن کر کسی اور عالم میں  خود کو پاتے تھے۔کبھی میرا کالر ٹیون’’یہ کیا جگہ ہے دوستو یہ کون سا دیار ہے‘‘ہوا کرتا تھا۔شہریار صاحب کی کال آتی میں  ریسیو کر لیتا پھر وہ کہتے کہ پورا گانا تو سنا نہیں ۔کیوں  اتنی جلدی کر دی۔ابھی کچھ دیر قبل مظفر علی صاحب سے میں  نے’’ امراؤجان ادا‘‘ کے تعلق سے گفتگو  ہوئی۔ انہوں نے دو مرتبہ آشا  بھوسلے کو ناول’’امراؤ جان ادا‘‘پڑھ کر سنایا تھاتاکہ وہ اس عہد کی زندگی اور زمانے سے واقف ہو سکیں ۔‘‘یہ ایک ایسا فلمی دنیا کا تجربہ تھا جس نے نئے سرے سے فلم،کہانی،نغمہ اور موسیقیت کی تہذیب کو ہماری تہذیبی زندگی کا حوالہ بنا دیا۔
 آشا بھوسلے  نے ۱۹۸۴ء میں  بی بی سی لندن کے لئے ایک انٹرویو دیتے ہوئے جس نغمے کو گا کر سنایا اسے بھرت ویاس نے لکھا تھا۔ یہ ایک غیر فلمی نغمہ ہے ۱۹۵۲ء کی دہائی میں  ریلیز ہوا۔
گیت کتنے گا چکی ہوں  اس سکھی جگ کے لئے
آج رونے دو مجھے پل ایک اپنے بھی لئے
آ ج ان کے سننے والوں  کی آنکھیں  نم ہیں ۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK