Inquilab Logo Happiest Places to Work

شام پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد ۱۵؍ لاکھ مہاجرین وطن لوٹے، ۱۸۰۰۰؍ کمپنیاں مندرج

Updated: May 22, 2026, 10:02 PM IST | Damascus

امریکی سفارتخانے نے کہا کہ شام پر پابندیوں کے خاتمے کے بعد ۱۵؍ لاکھ مہاجرین وطن لوٹے، اس کے علاوہ ۱۸۰۰۰؍ کمپنیوں کا اندراج کیا گیا۔

Photo: X
تصویر: ایکس

امریکہ نے جمعہ کو کہا کہ واشنگٹن کی طرف سے ایک سال قبل شام پر پابندیاں ختم کرنے کے بعد دمشق میں ۱۸۰۰۰؍سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ ہوئی ہیں اور۱۵؍ لاکھ مہاجر لوٹ آئے ہیں۔امریکی سفارت خانے نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری بیان میں کہا کہ’’ امریکہ نے پابندیاں ختم کرکے اور سرمایہ کاری کے دروازے کھول کر شام کو عظمت کا موقع دینے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘سفارت خانے نے کہا، ’’نتائج خود بول رہے ہیں،دمشق میں۱۸۰۰۰؍ سے زائد کمپنیاں رجسٹرڈ،جبکہ ۱۵؍ لاکھ مہاجر لوٹے، اور اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کی منصوبہ بندی کی گئی۔‘‘

یہ بھی پڑھئے: صمود فلوٹیلا کے کارکنان نے اسرائیلی حراست میں مار پیٹ، تذلیل اور تشدد کے لرزہ خیز واقعات بیان کئے

سفارت خانے نے’’ جامع شام سرمایہ کار رہنما خطوط‘‘کے اجراء کا بھی اعلان کیا، جسے انہوں نے شام کے لیے عوامی سطح پر دستیاب سب سے تفصیلی مارکیٹ انٹیلی جنس رپورٹ قرار دیا۔بیان کے مطابق، سرمایہ کاری کے مواقع بجلی، تیل و گیس، ٹیکنالوجی، ٹیلی کمیونیکیشن، رئیل اسٹیٹ اور بینکنگ سمیت مختلف شعبوں میں موجود ہیں۔سفارت خانے نے مزید کہا، ’’امریکی کمپنیاں اپنی تکنیکی قیادت، مہارت اور معیارات کے ساتھ ان میں سے بہت سے خلا کو پُر کرنے کے لیے منفرد حیثیت رکھتی ہیں جن کی شام کو فوری ضرورت ہے۔‘‘ 

یہ بھی پڑھئے: اعلان کر دیں کہ فلسطینی دوسرے درجے کے شہری ہیں: فلسطینی سفیر یو این میں برہم

واضح رہے کہ۲۳؍ مئی۲۰۲۴ء کو امریکہ نے شام کے لیے پابندیوں میں فوری ریلیف فراہم کرنے والا جنرل لائسنس جاری کیا تھا۔اس امریکی فیصلے سے قبل معزول شامی حکومت کے اقدامات کے سبب  کئی سال تک پابندیاں عائد تھیں۔شام کےصدر بشار الاسد ۲۵؍ سالہ اقتدار کے بعد دسمبر ۲۰۲۴ء میں دمشق پر قبضے کے بعد روس فرار ہو گئے تھے، جس کے بعد بعث پارٹی کی کئی دہائیوں پر محیط حکومت ختم ہوگئی۔ بعد ازاں احمد الشرع کی قیادت میں جنوری۲۰۲۵ء میں  عبوری انتظامیہ تشکیل دی گئی۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK