شام کے صدر احمد الشرع نے اسرائیلی اشیاء پر پابندی والے کسٹم قانون کو تقویت دینے والے فرمان جاری کئے ، ساتھ ہی اسرائیلی اشیاء کی درآمد پر پابندی والے بشارالاسد دور سے جاری اسرائیل مخالف اقتصادی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے۔
EPAPER
Updated: May 20, 2026, 10:10 PM IST | Damascus
شام کے صدر احمد الشرع نے اسرائیلی اشیاء پر پابندی والے کسٹم قانون کو تقویت دینے والے فرمان جاری کئے ، ساتھ ہی اسرائیلی اشیاء کی درآمد پر پابندی والے بشارالاسد دور سے جاری اسرائیل مخالف اقتصادی پالیسیوں کو برقرار رکھا ہے۔
شام کے صدر احمد الشرع نے ملک کے کسٹمز قانون میں ترمیم کرتے ہوئے ایک فرمان جاری کیا ہے جس کے تحت شام میں اسرائیلی اشیاء کی درآمد پر پابندی کو مزید تقویت دی گئی ہے اور اسد دور سے جاری اسرائیل مخالف اقتصادی پالیسیوں کو برقرار رکھا گیا ہے۔ ایک شامی ذرائع نے آئی ۲۴؍ نیوزکے سینئر مشرق وسطیٰ نمائندے ایریل اوسیران کو بتایا کہ الشرع یہ اقدام داخلی حمایت حاصل کرنے کے لیے کر رہے ہیں۔ ذرائع نے کہا، ’’الشرع مستقبل میں اسرائیل کے ساتھ معاہدے پر دستخط کرنے کے لیے اس مضبوط داخلی پوزیشن کو استعمال کرنا چاہتے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: ’’تیل کے تجارتی ذخائر کسی بھی وقت ختم ہو سکتے ہیں‘‘
واضح رہے کہ یہ فرمان نمبر۱۰۹؍ برائے۲۰۲۶ء نیا شامی کسٹمز قانون ہے، جوگزشتہ قانون سازی کی جگہ لے گا۔ اس کی دفعہ۱۱۲؍ ان اشیاء کی داخلے اور درآمد پر پابندی عائد کرتی ہے جو بائیکاٹ قوانین (جیسے اسرائیل کا بائیکاٹ) کی خلاف ورزی کریں یا عوامی امن کو نقصان پہنچائیں۔ نیز یہ شام میں اسرائیلی شہریوں کی آمد پر بھی پابندی عائد کرتی ہے۔بعد ازاں یہ اقدام دمشق اور یروشلم کے درمیان معمول کے مذاکرات کے تعطل کا شکار ہونے کے دوران سامنے آیا ہے۔ جبکہ الشرع نے اپریل میں کہا تھا کہ مذاکرات تعطل کا شکار نہیں ہوئے لیکن اسرائیل کی شامی سرزمین پر اپنی موجودگی برقرار رکھنے کے اصرار کی وجہ سے بڑی مشکل سے آگے بڑھ رہے ہیں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: تائیوان: مقامی الیکشن کے امیدوار کے بل بورڈ پر ہند مخالف پیغام کے بعد تنازع
دریں اثناء مذاکرات اس وقت۱۹۷۴ء کے اقوام متحدہ کے بفر زون کی بحالی پر مرکوز ہیں، جبکہ گولان کا مستقبل بعد کے مرحلے میں طے کیا جائے گا۔مارچ میں چیتھم ہاؤس کی ایک تقریب میں الشرع نے اسرائیل کے ساتھ مذاکرات کی رفتار کو سخت الفاظ میں بیان کیا۔ انہوں نے کہا: ’’ہم نے مکالمے اور گفتگو کے ذریعے کوشش کی۔ بالواسطہ مذاکرات شروع ہوئے اور پھر براہ راست مذاکرات کی طرف بڑھے۔ ہم اچھے نکات پر پہنچ گئے، لیکن آخری لمحات میں ہمیں ہمیشہ اسرائیلی موقف میں تبدیلی نظر آتی ہے۔‘‘اس کے علاوہ شام کے وزیر خارجہ اسعد الشیبانی نے اس ماہ کے شروع میں ان مایوسیوں کی بازگشت سناتے ہوئے کہا،’’پچھلے ڈیڑھ سال سے ہمیں اسرائیل کی طرف سے خطرات اور ہمارے ملک میں عدم استحکام کا سامنا ہے۔ امریکی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔ ابھی تک ہمیں کوئی نتیجہ نہیں ملا، لیکن ہم امید رکھتے ہیں کہ ہم اسرائیل کے ساتھ پرسکون اور مستحکم تعلقات قائم کر سکیں گے۔‘‘