Inquilab Logo Happiest Places to Work

’’باغ کا باغ لہو رنگ ہوا جاتا ہے‘‘

Updated: March 09, 2026, 1:54 PM IST | Professor Sarwar Al-Huda | mumbai

نو دس سال کے بچے محفوظ مقامات پر جب جنگ سے متاثر ہونے والوں کا ذکر کرتے ہیں تو ان کی معصومیت کچھ اور طاقتور بن جاتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگ اپنی درد مندی کے اظہار میں نہ جانے کتنے تعصبات کے ساتھ ہوتے ہیں۔ ان روتے ہوئے بچوں کو دیکھنا کتنا صبر آزما ہے جو حالیہ دنوں میں اپنے والد کو کھو بیٹھے ہیں۔

INN
آئی این این
جب بچے جنگ کے بارے میں  بات کرنے لگیں ، تو اس سے اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ حالات کتنے خراب ہیں ۔ جو عمر پڑھنے، کھیلنے اور کھانے کی ہے، اس میں  جنگ کا ذکر، ایک افسوسناک سچائی ہے۔ ویڈیوز اور اخبارات میں  جو کچھ دیکھا اور پڑھا جا رہا ہے، اس کی روداد اور تاریخ جن الفاظ میں  لکھی جائے گی، وہ کس قدر لہو لہان ہوں  گے۔ کبھی کبھی الفاظ بھی لہو لہان زندگی کا بوجھ اٹھانے سے قاصر دکھائی دیتے ہیں ۔ الفاظ کو اگر کچھ کہنے کی اجازت ہوتی تو وہ سب سے پہلے ان بچوں  کے بارے میں  کہتے، جنہیں  اپنی تھوڑی سی معصوم زندگی میں ، زندگی کھونی پڑی ہے۔ کہیں  بچے ہاسپٹل میں  ہیں  تو کہیں  اسکول میں  اور کبھی کھیل کے میدان میں ۔ اچانک شور ہوتا ہے اور شور کے ساتھ دھوئیں  سے بھرا ہوا اندھیرا۔ اس اندھیرے سے نکلنے والی چیخیں  بھی کہاں  نکل سکیں ۔ دیکھتے دیکھتے اب آنکھیں  پتھرا گئی ہیں ، یا ہم اتنے بے حس ہو گئے ہیں  کہ انسانی زندگیوں  کے اور معصوم زندگیوں  کے ختم ہو جانے کا کوئی دیرپا ملال نہیں  ہوتا۔ ہر چیز معمول کا حصہ بن گئی ہے، اس میں  جنگ بھی شامل ہے اور خاص طور پر جنگ میں  بچوں  کی ختم ہونے والی زندگی۔ نو دس سال کے بچے محفوظ مقامات پر جب جنگ سے متاثر ہونے والوں  کا ذکر کرتے ہیں  تو ان کی معصومیت کچھ اور طاقتور بن جاتی ہے۔ بڑی عمر کے لوگ اپنی درد مندی کے اظہار میں  نہ جانے کتنے تعصبات کے ساتھ ہوتے ہیں ۔ ان روتے ہوئے بچوں  کو دیکھنا کتنا صبر آزما ہے جو حالیہ دنوں  میں  اپنے والد کو کھو بیٹھے ہیں ۔ تابوت میں  رکھے اور قومی پرچم میں  لپٹے ہوئے وجود کو پکڑ کر اپنے والد کو پکارنا۔ہماری آنکھوں  کو یہ بھی دیکھنا تھا۔ مائیں  اپنی طرف کھینچتی ہیں  اور بچہ اپنی طرف کھینچتا ہے کہ جیسے زندگی لوٹ آئے گی۔
بچوں  کی معصومیت کے بارے میں  کوئی دوسری رائے نہیں  ہو سکتی۔ یہ وہ معصومیت ہے جو جغرافیائی حد بندیوں  سے بلند ہے۔ ہاسپٹل اور اسکول، یہ دو ایسے مقامات ہیں  جن کی طرف دیکھتے ہوئے انسانیت جاگ اٹھتی ہے، مگر کیا ہو رہا ہے۔ مائیکل روزن ایک برطانوی ادیب ہیں  جن کی ایک نظم ڈو ناٹ مینشن دی چلڈرن
 (Do not mention the children) 2014 میں  شائع ہوئی۔ اس نظم کا پس منظر یہ ہے کہ حکومت نے ان ریڈیو نشریات پر پابندی لگا دی تھی جن میں  مرنے والے بچوں  کا ذکر تھا۔ گارجین میں  ایک مضمون شائع ہوا جس کے جواب میں  ما ئیکل روزن نے یہ نظم لکھی تھی۔نظم ۲۶؍ مصرعوں  پر مشتمل ہے:
بچوں  کا نام نہ لو/ مرنے والے بچوں  کو نام نہ دو/ مرنے والے بچوں  کے نام لوگوں  کو معلوم نہیں  ہونے چاہئیں /مرنے والے بچوں  کو بغیر نام کے ہونا چاہئے/ بچوں  کو اس دنیا سے بغیر نام کے رخصت ہونا چاہیے/ کسی کو بھی بچوں  کے نام معلوم نہیں  ہونے چاہئے/ کوئی بھی مرنے والے بچوں  کا نام نہ لے/ کوئی یہ سوچے بھی نہیں  کہ مرنے والے بچوں  کے نام بھی ہیں / لوگ یہ سمجھ جائیں  کہ مرنے والوں  بچوں  کا نام لینا بھی خطرناک ہے/ لوگوں  کو لازماً مرنے والے بچوں  کے ناموں  سے بچایا جائے/ بچوں  کا نام لینا ایسا ہے جیسے جنگل میں  آگ لگ گئی ہو/ لوگ محفوظ نہیں  رہ سکتے اگر بچوں  کے نام معلوم ہو جائیں / مرنے والوں  بچوں  کو نام بھی مت دو/ مرنے والے بچوں  کو یاد بھی مت کرو/ مرنے والے بچوں  کے بارے میں  مت سوچو/ یہ بھی مت کہو کہ بچے مر گئے/
اس نظم کا بنیادی موضوع تو بچوں  کی بے وقت ختم ہو جانے والی زندگی ہے، مگر نام کو چھپانے کی گزارش اور سفارش، اتنی بڑی سچائی ہے کہ وہ نظم کا اصل مسئلہ معلوم ہوتی ہے۔ حالات کہتے ہیں  کہ ساری پریشانی ناموں  کی وجہ سے ہے۔ بچوں  کے نام چھپانے کا مطلب صرف اپنی بے دردانہ غیر انسانی بلکہ ظالمانہ طاقت کو چھپانا ہے۔ مائیکل روزن نے ایک ہی بات کو کس کس طرح سے بیان کیا ہے۔ تکرار ہے مگر اس تکرار میں  کتنا غم و غصہ ہے۔ تکرار پھیلاؤ کا بدل بن جاتی ہے۔ ناموں  کے بارے میں  کچھ نہ کہا جائے بلکہ سوچا بھی نہ جائے، یہ ایک ایسا جبر ہے جس کو دنیا نے شاید ابھی دیکھا نہیں ۔ جو دیکھا ہے وہ بھی گرچہ سوچا ہوا ہے، مگر کیا پتہ کہ سوچنے والوں  کو بتا دیا جائے کہ اس وقت آپ جو کچھ سوچ رہے ہیں  اس کا جواز پیش کرنا ہوگا۔ ایک ایسے وقت میں  جب کہ بچے سب سے زیادہ جنگ کا نشانہ بنے ہیں ، اس نظم کی اہمیت بہت بڑھ جاتی ہے لیکن نظم ان لوگوں  تک کہاں  پہنچتی ہے، جنہیں  ایک مرتبہ پڑھنا ضرور چاہیے۔ جو لوگ پڑھتے ہیں  ان کے اختیار میں  کیا ہے سوائے افسوس کے!
 
 
مائیکل روزن بنیادی طور پر ادیب، سیاست دان اور استاد ہیں ۔ انہوں  نے بچوں  کے بارے میں  بہت لکھا ہے لہذا یہ نظم ان کی علمی اور ادبی زندگی کے ساتھ ساتھ بچوں  کے تعلق سے سچی درد مندی کا اظہار بھی ہے۔ اس نظم کو سیاسی نظم کے طور پر دیکھا جاتا ہے لیکن یہ وہ سیاست ہے جو کسی خاص ملک کی صورتحال سے بلند ہو کر آفاقی صورت اختیار کر لیتی ہے۔ ہماری تہذیبی زندگی میں  نام دینے اور نام رکھنے کی کتنی اہمیت ہے۔ نام بھی تو الفاظ ہیں ، انہیں  کیا معلوم کہ ان کے تاریخی اور تہذیبی سیاق کو کب کہاں  کس نظر سے دیکھا جائے گا۔جنہیں  نام دے دیا گیا ہے ان بچوں  کو اگر معلوم ہو جاتا کہ نام سے بہت سے مسائل پیدا ہو جاتے ہیں  تو شاید وہ بے نام ہونے کی آرزو کرتے۔ بے نام ہونے کی آرزو میں  اپنے بزرگوں  کی بقا کا راز بھی پوشیدہ ہے اور یہ اشارہ بھی کہ حالات بہت بدل چکے ہیں ۔ نام دینا ہماری تہذیبی زندگی کی ضرورت ہے اور کبھی یہ بھی لگتا ہے کہ نام نہ دیا جائے۔ صرف محسوس کیا جائے۔ لیکن یہ وہ کیفیت ہے جس کا کوئی تعلق سیاست سے نہیں  ہے۔ کاش مائیکل روزن کو یہ بتایا جا سکتا کہ ہمارے شاعر گلزار  نے ۱۹۶۹ء میں  فلم خاموشی کے لیے ایک نغمہ لکھا تھا جسے لتا منگیشکر نے گایا: ’’صرف احساس ہے یہ روح سے محسوس کرو = پیار کو پیار ہی رہنے دو کوئی نام نہ دو‘‘
ویسے اس وقت مجھے احمد مشتاق یاد آ رہے ہیں :
باغ کا باغ لہو رنگ ہوا جاتا ہے
وقت مصروف ہے کیسی چمن آرائی میں 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK