ابتدا میں خوشگوار حیرت ہوئی کہ جماعت جیسی بااصول اور مظلوم جماعت جیت رہی ہے۔ یہ بھی خیال تھا کہ حسینہ کے دور میں اس پر بہت مظالم ڈھائے گئے ہیں اس لئے ممکن ہے ہمدردی کی لہر اس کے حق میں پیدا ہوئی ہو مگر جلد یقین ہوگیا کہ ہمدردی کی لہر خالدہ ضیاء کی پارٹی کے حق میں پیدا ہوئی ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ پڑوسی ملک بنگلہ دیش کی یونس حکومت اس کوشش میں تھی کہ اس پر پُرتشدد پولنگ کرانے یا جانبداری کا الزام نہ آئے اس لئے اس نے بڑی تعداد میں سیکوریٹی فورسیز اور عالمی مبصرین تعینات کر رکھے تھے اس کے باوجود وہ الزامات سے بچ نہیں پائی۔ سابق وزیراعظم شیخ حسینہ نے تو ان انتخابات کو فرضی اور غیر قانونی تک قرار دیدیا۔ امریکہ نے بھی دھمکی دی۔ دعویٰ یہ کیا جاتا رہا کہ زبردست پولنگ ہوئی ہے مگر یہ شرح ۵۰؍ فیصد بھی نہیں پہنچی۔ انتخابات کے دوران بھی اقلیتوں خاص طور سے ہندو اقلیت کو نشانہ بنایا جاتا رہا۔ ابتداء میں خبر آئی کہ بی این پی اور جماعت اسلامی محاذ میں زبردست ٹکر ہے مگر پھر بی این پی کی فتح کی خبریں آنے لگیں ۔ ابتدا میں خوشگوار حیرت ہوئی کہ جماعت جیسی بااصول اور مظلوم جماعت جیت رہی ہے۔ یہ بھی خیال تھا کہ حسینہ کے دور میں اس پر بہت مظالم ڈھائے گئے ہیں اس لئے ممکن ہے ہمدردی کی لہر اس کے حق میں پیدا ہوئی ہو مگر جلد یقین ہوگیا کہ ہمدردی کی لہر خالدہ ضیاء کی پارٹی کے حق میں پیدا ہوئی ہے۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ حسینہ کی پارٹی نے خالدہ کی پارٹی کو ہرانے کے لئے جماعت کے محاذ کو ووٹ دیا۔ حقیقت جو بھی ہو بہرحال یہ تو سب نے محسوس کیا کہ:
l بنگلہ دیش کی ۸؍ فیصد اقلیتوں نے بی این پی کو ووٹ دیئے۔
l جماعت کی خواتین سے متعلق پالیسی کو یہاں کے ووٹرز نے مسترد کر دیا چاہے وہ اقلیتوں میں شمار کئے جاتے ہوں یا اکثریت میں ۔
یہاں بہرحال وہ نہیں ہوسکا جو ہندوستان میں ہو رہا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ آئندہ یہاں کیا ہوتا ہے یا بنگلہ دیش کی سیاست کا ہندوستان کی سیاست پر کیا اثر مرتب ہوتا ہے؟ پرانی باتیں ذہن میں تازہ کریں تو شیخ مجیب الرحمٰن اور پھر شیخ حسینہ کی عوامی لیگ ہندوستان نواز پارٹی سمجھی جاتی تھی اور بی این پی پر الزام تھا کہ وہ پاکستان کے لئے نرم گوشہ رکھتی ہے۔ جماعت اسلامی پر تو قیام بنگلہ دیش کا مخالف ہونے کا شروع سے ہی الزام ہے مگر اس مرتبہ دونوں پارٹیوں نے ہندوستان سے اچھے تعلقات رکھنے کی بات کہی اور اس طرح ہند پاک کی نفرت بھری سیاست میں محبت کی دکان کھولنے کا وعدہ کیا البتہ ان وعدوں میں بنگلہ دیش کے عوام خصوصاً اقلیتوں نے بی این پی کا وعدہ قابل اعتماد سمجھا اور جماعت اسلامی کی شدت پسندی کو مسترد کر دیا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے نام پر قائم کئے جانے والے پاکستان یا اس سے ٹوٹ کر الگ راہ بنانے والے بنگلہ دیش میں سب سے مظلوم مذہب اسلام ہے۔ اس کا ایک سبب لفظ ’سیکولرازم‘ کی غلط تشریح بھی ہوسکتی ہے۔ سیکولرازم کا مطلب لادینیت نہیں بلکہ مذہب کی بنیاد پر تفریق نہ کرنا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اقلیتیں جماعت سے دور رہیں ۔ جماعت بھی انہیں یہ یقین دلانے میں شاید کامیاب نہیں رہی کہ اس کی حکومت میں اقلیتوں کا عقیدہ اور ثقافت نیز حقوق محفوظ ہیں لہٰذا وہ ایسی پارٹی کی طرف راغب ہوئیں جو ان کے لئے پہلے قابلِ قبول نہیں تھی۔
یہاں دو باتوں کی طرف یا سوالوں پر توجہ مبذول کرانا ضروری ہے۔ کیا پہلی مرتبہ الیکشن کے سلسلے میں بدعنوانی کے الزام لگائے گئے ہیں ؟ یا اس سے پہلے بنگلہ دیش میں جو انتخابات ہوئے ان پر کوئی الزام نہیں تھا؟ اس کا جواب ’نہیں ‘ میں ہے۔ اس سے پہلے کے ۱۲؍ میں سے ۴؍ انتخابات ہی غیرجانبدار مانے گئے ہیں ۔ دوسری اہم بات یہ ہے کہ طارق رحمٰن نے ہندوستانی وزیراعظم سے بات کی ہے۔ ہندوستان بنگلہ دیش کا خالق ہے۔ اس کی تعمیر و ترقی میں بھی ہندوستان کا حصہ ہے اس کے باوجود بنگلہ دیش میں یہ تاثر کیسے پیدا ہوا اور کس نے اس تاثر کو ہوا دی کہ بنگلہ دیش ہندوستان کی کالونی ہے۔ اس سلسلے میں یہ بات بھی فراموش نہیں کی جاسکتی کہ ہندوستان کا شیخ حسینہ اور اس سے پہلے تسلیمہ نسرین کو پناہ دینا بنگلہ دیش میں پسند نہیں کیا گیا۔ کیا طارق اس تاثر کو ختم کر پائیں گے؟ جواب ہے نہیں ۔ اس قسم کے تاثر کی جڑیں بہت گہری ہیں اور کیوں گہری ہیں اس کی وجوہ ہماری نظر سے اوجھل نہیں ہیں ۔ ایک ہندوستانی جس کو اپنا ملک اور اس کا مفاد عزیز ہے اس سوال سے صرف نظر کر بھی نہیں سکتا۔ حسینہ واجد نے ہندوستان کا دوست بن کر جو کھیل کھیلا اس سے ان کی عزت کو بھی دھکا لگا اور ہند بنگلہ دیش تعلقات میں بگاڑ بھی پیدا ہوا۔ یوں بھی کہہ سکتے ہیں کہ ایک پاکستان پہلے سے موجود تھا دوسرا بھی پیدا ہوگیا۔ مگر یہ یکطرفہ معاملہ نہیں ہے۔ ہندوستان نے بھی لفظ بنگلہ دیشی کو گالی بنا دیا ہے۔ ہمارے وزیراعظم بنگلہ دیش جانے والے تھے مگر اب اوم برلا کے جانے کی خبر ہے۔ اچھا ہے لیکن یہ بھی ضروری ہے کہ وہ ایسا کرنے والوں کو روکیں ۔ اگر طارق رحمٰن کے لئے ضروری ہے کہ وہ بنگلہ دیش کو ہندوستانی کالونی کہنے والوں کو لگام دیں تو وزیراعظم مودی کے لئے بھی ضروری ہے کہ بنگلہ دیش کے خلاف جذبات بھڑکانے والے بعض عناصر کو غلط ٹھہرائیں ۔ دو طرفہ کارروائی ہوگی تو معاملہ درست ہوسکتا ہے۔
موجودہ دنیا میں لڑ جھگڑ کر یا الگ تھلگ رہنا ممکن نہیں ہے اس لئے دونوں ملکوں میں بہتر تعلقات کی بات کرنا اور طارق رحمٰن کو یہ پیغام دینا ضروری ہے کہ اگر شیخ مجیب اور شیخ حسینہ کی پالیسی کے اچھے نتائج برآمد نہیں ہوئے ہیں تو ذوالفقار علی بھٹو کی طرح ایک ہزار سال تک لڑنے کی بات کرنا بھی غلط ہے۔ پچھلے سال میں مغربی بنگال اُردو اکیڈمی کے ایک جلسے میں شرکت کے لئے کولکاتا گیا تھا۔ وہاں جس ہوٹل میں میرے قیام کا انتظام تھا وہ بنگلہ دیشیوں سے بھرا ہوا تھا۔ معلوم ہوا کہ روز یا دوسرے تیسرے دن بنگلہ دیشی خریداری یا علاج کے لئے ہندوستان لائے جاتے ہیں اور ان کے لئے فوری ویزے کا انتظام حکومت ہند کرتی ہے۔ کیا یہی فضاء دوبارہ قائم کی جاسکتی ہے۔ ایک بات اور.... شیخ حسینہ نے طارق رحمٰن پر ۸۰؍ سے زائد مقدمات دائر کئے تھے، اب طارق رحمٰن اقتدار میں آئے ہیں تو شیخ حسینہ کو تحویل میں لینے کا مطالبہ کر رہے ہیں ۔ ظاہر ہے اس میں انتقامی سیاست کا بھی عنصر ہے، یہ بنگلہ دیش کے حق میں نہیں ہے۔ محمد یونس نے عبوری حکومت کے سربراہ کی حیثیت سے کیا کیا؟ یا طارق رحمٰن کی حکومت میں ان کو کیا ملنے والا ہے یہ ان کا داخلی معاملہ ہے مگر اقلیتوں پر حملے کا معاملہ داخلی معاملہ نہیں ہے۔ ان حملوں کا ختم کیا جانا یا دُنیا کو حقیقت بتایا جانا ضروری ہے۔