• Sat, 21 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

ہند بنگلہ دیش رشتوں کی تجدید

Updated: February 19, 2026, 10:19 AM IST | Inquilab News Network | Mumbai

بنگلہ دیش میں نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ نئے وزیر اعظم طارق رحمان اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ ۱۷؍ سال بیرون ملک رہنے کے باوجود اُنہیں اور اُن کی پارٹی کو خاطرخواہ حمایت حاصل ہوئی۔

Muhammad Yunus Resigns And Tariq Rahman Takes Over.Photo:INN
محمد یونس نے استعفیٰ دیا اور طارق رحمان نے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی ۔ تصویر:آئی این این
بنگلہ دیش میں نئی حکومت تشکیل پا چکی ہے۔ نئے وزیر اعظم طارق رحمان اس اعتبار سے خوش نصیب ہیں کہ ۱۷؍ سال بیرون ملک رہنے کے باوجود اُنہیں اور اُن کی پارٹی کو خاطرخواہ حمایت حاصل ہوئی۔ اس دوران ایک دلچسپ واقعہ یہ ہوا کہ شیخ حسینہ حکومت کے خلاف بغاوت کرنے اور اُس کا تختہ پلٹنے والے طلبہ کی  پارٹی (نیشنل سٹیزنس پارٹی، این سی پی) کو ۳۰؍ میں سے صرف ۵؍ سیٹوں پر اکتفا کرنا پڑا۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ بنگلہ دیش کے عوام نے شیخ حسینہ کی اُس حکومت، جس پر جبرو استبداد کا الزام ہے، سے گلوخلاصی کیلئے شاید دل ہی دل میں طلبہ کا شکریہ ادا کیا، اس سے زیادہ اُن کیلئے کچھ نہیں کیا۔ 
یہ، سیاسی طور پر باشعور ہونے کی علامت ہے۔ اپنے فیصلے کے ذریعہ عوام نے سمجھا دیا کہ طلبہ ابھی نوعمری اور نوجوانی کے دور میں ہیں، اُن کے پاس نہ تو رموزِ سیاست کی آگاہی ہے نہ ہی اتنا تجربہ ہے کہ کاروبارِ حکومت سنبھال سکیں۔ جہاں تک نئے وزیر اعظم طارق رحمان کا تعلق ہے، وہ سیاست میں نئے ہونے کے باوجود نئے نہیں ہیں کیونکہ اُن کی پیدائش سیاسی گھرانے ہی میں ہوئی ہے۔ والدہ (خالدہ ضیاء) وزیر اعظم اور والد (ضیاء الرحمان) صدر رہے لہٰذا بچپن سے اُنہوں نے اُمورِ سیاست کو بہت قریب سے دیکھا اور اب اسے خود برتیں گے۔ 
یہ کہنا قبل از وقت ہوگا کہ وہ کتنے کامیاب ہونگے مگر ناکام ہونے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہے اگر وہ عوای مفاد میں فیصلے کریں، عوام کا اعتماد حاصل کریں اور گزشتہ سال بھڑکنے والے اقتدار مخالف جذبات کو اقتدار کی حمایت کے جذبے میں تبدیل کردیں۔ ظاہر ہے کہ یہ اُن کا امتحان ہے جس میں کامیابی کے بغیر وہ انتخابی کامیابی او راس کے نتیجے میں ملنے والے اقتدار کے ساتھ انصاف نہیں کرسکیں گے۔
 
 
ڈھاکہ اور نئی دہلی کے سفارتی تعلقات میں پڑنے والی گرہیں دور کرنا بھی اُن کی ترجیحات کا حصہ ہونا چاہئے۔ بنگلہ دیش، اپنی تشکیل کے حوالے سے ہمیشہ نئی دہلی کا ممنونِ کرم رہا ہے مگر حالیہ واقعات کے سبب پیدا ہونے والی تلْخی نے برسوں کی دوستی اور اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔ نئی دہلی نے شیخ حسینہ کو پناہ نہ دی ہوتی تو شاید یہ زیادہ دانشمندانہ فیصلہ ہوتا۔ بالکل اسی طرح ڈھاکہ نے ٹی ۲۰؍ ورلڈ کپ میں شرکت سے انکار نہ کیا گیا ہوتا اور بنگلہ دیش میں اقلیتوں کو تشدد کا نشانہ نہ بنایا جاتا تو یہ ڈھاکہ کیلئے دانشمندانہ ہوتا مگر ہم سمجھتے ہیں کہ اب دونوں ہی ممالک ان حالیہ واقعات کو حاشئے پر رکھ کر نئے سرے سے تعلقات کی بنیاد رکھنا چاہتے ہیں۔
 
 
لوک سبھا کے اسپیکر اوم برلا کا نئی حکومت کی حلف برداری میں شرکت کرنا، نئے وزیر اعظم سے ملاقات کرنا، اُنہیں مبارکباد پیش کرنا اور وزیر اعظم مودی کی جانب سے ہندوستان آنے کی دعوت دینا، اُدھر نئی بنگلہ دیشی حکومت کا ہندوستان سے دوستی کا خواہشمند ہونا، شیخ حسینہ کی حوالگی پر اصرار کرنا مگر اس حد تک مُصر نہ ہوجانا کہ دیگر اُمور تعطل کا شکار رہیں، یہ سب بہت اچھے اشارے ہیں۔ بنگلہ دیش ہندوستان کا اور ہندوستان بنگلہ دیش کا بہت اچھا پڑوسی، بہت اچھا تجارتی شراکت دار اور دونوں ایک دوسرے کے بہترین خیرخواہ اور بہت اچھے معاون ہوسکتے ہیں یہ سمجھ دونوں جانب جتنی مستحکم ہوگی اُتنا نئی دہلی اور ڈھاکہ کا فائدہ ہوگا۔چونکہ دونوں ملکوں میں پرانا رشتہ ہے اس لئے اس کی تجدید بالکل بھی مشکل نہیں ہے۔

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK