وزیراعظم نریندر مودی کا طارق رحمٰن کی انتخابی کامیابی کا نہ صرف رسمی خیرمقدم کرنا بلکہ انہیں ذاتی مبارکباد بھی دینا یہ واضح کرتا ہے مودی حکومت بنگلہ دیش کے تیزی سے بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو نہ صرف قبول کرنے بلکہ ان سے ہم آہنگ ہونے کے لئے بھی تیار ہے۔ اب طارق رحمٰن کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔
انفرادی تعلقات کے مانند بین الاقوامی تعلقات بھی منجمد یا پتھر کی لکیر نہیں ہوتے ہیں ۔ حالات کے تغیرات جس طرح انسانوں کے رشتوں پر اثر انداز ہوتے ہیں اسی طرح سیاسی، جیوپولیٹیکل، اقتصادی اورسیکورٹی کی بدلتی صورتحال کا گہرا اثر دوممالک کے باہمی سفارتی رشتوں پر بھی پڑتا ہے۔ منگل کو طارق رحمٰن کی سربراہی میں بی این پی کی منتخب حکومت نے بنگلہ دیش میں اقتدار سنبھال لیا ہے۔ ڈھاکہ سے جو ابتدائی اشارے مل رہے ہیں ان سے یہ واضح ہورہا ہے کہ نئی حکومت ہندوستان کے ساتھ اپنے تعلقات اپنے طریقے سے اور اپنی شرائط کے ساتھ قائم کرنا چاہتی ہے۔ بنگلہ دیش بھارت کا بے حد اہم ہمسایہ ہے لیکن پچھلے پچپن برسوں میں بنگلہ دیش کے ساتھ بھارت کے تعلقات متعدد نشیب وفراز سے گزرے ہیں ۔ ۱۹۷۵ء میں فوجی بغاوت اورشیخ مجیب الرحمٰن کے قتل کے بعد سے ڈھاکہ اورنئی دہلی کے تعلقات بگڑتے چلے گئے اور تین دہائیوں تک خراب رہے۔ ہمارے باہمی تعلقات میں ٹھوس سدھار ۲۰۰۹ء میں آیا جب ڈھاکہ میں شیخ حسینہ کی اقتدار میں واپسی ہوئی۔
ہندوستان کی شمال مشرقی ریاستوں میں سرگرم علیحدگی پسند تنظیموں کے لیڈر طویل عرصے سے ہندوستان میں تشدد اورتخریب کاری کی سنگین وارداتیں انجام دے کر بنگلہ دیش کے محفوظ ٹھکانوں میں چھپ جاتے تھے۔ شیخ حسینہ نے ان پناہ گاہوں پر کریک ڈاؤن کرکے شمال مشرق ریاستوں میں طویل عرصے سے جاری علیحدگی پسندی اور انتہاپسندی کی کمر توڑ کر رکھ دی۔حسینہ حکومت اور منموہن سنگھ حکومت کے مابین ہونے والے متعدد معاہدوں کے ذریعہ دونوں نے اپنے تعلقات کا ایک نیا باب تحریر کیا۔
۲۰۱۴ء میں نریندر مودی جی کے وزیر اعظم کے عہدے پر فائز ہونےکے بعدہمارے اقتصادی، تجارتی، ثقافتی اور اسٹریٹیجک تعلقات نئی بلندیوں پر جاپہنچے۔ لیکن حسینہ کی معزولی کے بعد محمد یونس کی قیادت میں قائم ہونے والی عبوری حکومت کے اٹھارہ ماہ میں دونوں ممالک کے رشتے مسلسل بگڑتے چلے گئے۔حسینہ کے غیر جمہوری طرز حکومت اور عوام مخالف پالیسیوں کی وجہ سے ان کے خلاف عوامی جذبات کافی عرصے سے مشتعل ہورہے تھے۔ بنگلہ دیش میں عمومی تاثر یہ تھا کہ حسینہ کی تاناشاہی ہندوستان کی سرپرستی اور حمایت کی وجہ سے ٹکی ہوئی تھی ۔اسی لئے اگست میں ہوئی بغاوت کے نتیجے میں شیخ حسینہ کا تختہ پلٹے جانے کے بعد بھارت نے جب انہیں بلاتاخیر اپنے یہاں پناہ دے دی تو بنگلہ دیشیوں کی بدظنی میں مزید اضافہ ہوگیا۔
ہندوستان میں کچھ سیاسی لیڈروں اور گودی میڈیا نے بنگلہ دیش کی عبوری حکومت کے سربراہ یونس اور اسٹوڈنٹ انقلاب کے صف اول کے لیڈروں کے خلاف جس طرح بیانات دیئے اس سے ڈھاکہ میں یہ پیغام گیا کہ ہم حسینہ کی اقتدار سے بےدخلی سے کتنے ناخوش ہیں ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ بنگلہ دیش میں ہندو اقلیتوں کے خلاف مظالم میں اضافہ ہوالیکن بی جے پی نے ہندوؤں کی نسل کشی اور قتل عام کا مبالغہ آمیز واویلامچا کررشتے مزید بگاڑ دیئے۔ دسمبر میں ڈھاکہ میں اسٹوڈنٹ لیڈر شریف عثمان ہادی کے قتل کے بعد جب یہ افواہ پھیلی کہ قاتل عوامی لیگ کا کارکن ہے جوجرم کرکے ہندوستان فرار ہوگیا ہے اور جب میمن سنگھ میں ایک بے گناہ ہندو دیپو داس کو جلاکر ماردیا گیا تودونوں ممالک کے تعلقات مزید خراب ہو گئے۔باہمی اعتمادکی عدم موجودگی میں بارڈر کے ایک جانب ہندوتواوادی طاقتوں اور دوسری جانب اسلامی تنظیموں نے جانبدار میڈیا اور غیر ذمہ دار سوشل میڈیا کی مدد سے دونوں ممالک کے درمیان بدگمانیاں اور فاصلے اور زیادہ بڑھادیئے۔
یہ صحیح ہے کہ اس صدی کے اوائل میں خالدہ ضیا کی سربراہی والی بی این پی حکومت کے دورمیں بنگلہ دیش کی سرزمین سے بھارت کے خلاف ہونے والی تخریبی کاروائیوں میں کافی اضافہ ہوا تھا۔لیکن یہ ضروری نہیں ہے کہ طارق رحمن بھی اپنی والدہ کی خارجہ پالیسی ہی اپنائیں ۔خالدہ ضیا کی ہند مخالفت سیاسی مجبوری کا نتیجہ تھی۔ ان کی سیاسی حریف عوامی لیگ کی رہنما شیخ حسینہ کو پوری طرح ہندوستان کی حمایت حاصل تھی۔ میرا خیال ہے کہ خالدہ کے ہند مخالف موقف کو اس تناظر میں دیکھنے کی بھی ضرورت ہے۔ علاوہ ازیں خالدہ ضیا کی حکومت میں جماعت اسلامی بھی شامل تھی جس کی ہندوستان دشمنی جگ ظاہر ہے۔دسمبر میں خالدہ ضیا کے جنازے میں شرکت کیلئے ایس جے شنکر کو ڈھاکہ بھیج کر حکومت ہند نے نہ صرف ہمسائیگی کا فرض ادا کیابلکہ وزیر خارجہ کے ہاتھ مرحومہ کے صاحبزادے طارق رحمان کیلئے وزیر اعظم نے ذاتی خط بھیج کر سفارتی سوجھ بوجھ کا مظاہرہ بھی کیاتھا۔ مودی جی نے طارق رحمن کی انتخابی کامیابی کا بھی صرف رسمی طور پر خیرمقدم ہی نہیں کیابلکہ انہیں فون کرکے بی این پی کو فیصلہ کن فتحیابی سے ہمکنار کروانے پر ذاتی مبارکباد بھی دی۔ مودی حکومت کی پیش رفت سے یہ واضح ہوگیا ہے کہ وہ بنگلہ دیش کے تیزی سے بدلتے ہوئے زمینی حقائق کو نہ صرف قبول کرنے بلکہ ان سے ہم آہنگ ہونے کیلئے بھی تیار ہے۔ اب طارق رحمٰن کو اپنا کردار ادا کرنا ہے۔ انہوں نے انتخابی مہم کے دوران جس طرح کی مثبت باتیں کہی ہیں ان سے لگتا ہے کہ وہ ہندوستان کے تئیں محتاط دوستانہ رویہ اپنائیں گے۔ انہوں نے دہشت گردی کے خلاف تعاون جاری رکھنے اور ہندو اقلیتوں کے تحفظ کا وعدہ کیا ہے۔ لیکن یہ سوچنا صحیح نہیں ہوگا کہ طارق کی بی این پی حکومت کے دور میں نئی دہلی اور ڈھاکہ کے تعلقات اس بلندی پر پہنچ جائیں گے جہاں حسینہ کے دور میں تھے۔
یہ بھی پڑھئے : جب حیوانیت معمول اور خاموشی پالیسی بن جائے
ٹرمپ کے America First کے طرز پر طارق نے Bangladesh First کے نعرے پر الیکشن لڑا ہے۔ انہوں نے یہ واضح کردیا ہے کہ ان کی حکومت متوازن خارجہ پالیسی اختیار کرے گی اور کسی بھی علاقائی یا عالمی طاقت کی اطاعت نہیں کرے گی۔بنگلہ دیش کی موجودہ آبادی میں نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد ہے۔ بنگلہ دیش کی آزادی میں ہندوستان نے ایک اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہ ایک تاریخی حقیقت ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا ۔ لیکن بنگلہ دیش کی نئی نسل کو لگتا ہے کہ بار بار یہ حقیقت دہراکر نئی دہلی انہیں اپنے احسان تلے دباکر رکھنا چاہتی ہے۔نئی نسل ہمارے سرپرستانہ رویے سے بھی شاکی ہے۔ بنگلہ دیش کی نئی حکومت اسی لئے تعلقات کی از سرنوترتیب چاہتی ہے۔ مجھے لگتا ہے کہ فاصلے دور کرنے کا اور باہمی تعلقات سنوارنے کا وقت آگیا ہے۔دونوں ممالک کے ٹوٹے پھوٹے رشتوں کی مرمت کا یہ اچھا موقع ہے۔ لیکن حقیقت پسندی کا تقاضہ یہ ہے کہ ہم یہ جان لیں کہ اس مرمت کی ذمہ داری صرف بنگلہ دیش کے نئے سربراہ کی نہیں ہے۔