زیر نظر مضمون میں بہار مدارس کی جانچ کو موضوعِ بحث بنایا گیا ہے۔ یہ بات بھی کہی گئی ہے کہ جانچ کا معیار شفاف اور غیر جانبدار ہونا چاہئے مگر مدارس کو بھی اپنا جائزہ لینا چاہئے۔
بہار کا مدرسہ۔ تصویر:آئی این این
بہار میں ان دنوں مدارس کی جانچ اور معائنہ ایک اہم عوامی اور سیاسی موضوع بن چکا ہے۔ حکومت ِ بہار، محکمۂ تعلیم اور خصوصاً بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کے چیئرمین سلیم پرویز کا موقف ہے کہ ریاست کے متعدد مدارس میں مالی بے ضابطگیوں، انتظامی کمزوریوں، جعلی اندراج، اساتذہ کی غیر حاضری اور دیگر بدعنوانیوں کی مسلسل شکایات موصول ہو رہی تھیں، اس لئے ریاست گیر جانچ ناگزیر ہوگئی ہے۔ دوسری جانب حزبِ اختلاف کی جماعتیں، مسلم تنظیمیں اور مدارس سے وابستہ حلقے اس کارروائی کو شک کی نگاہ سے دیکھ رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جانچ کے نام پر مدارس کو غیر ضروری طور پر ہراساں کیا جا رہا ہے اور اس پورے عمل کو مخصوص مذہبی اداروں تک محدود کر دیا گیا ہے۔ سوال یہ ہے کہ حقیقت کیا ہے؟ کیا واقعی مدارس میں اصلاح کی ضرورت ہے یا پھر یہ محض سیاسی ماحول کا نتیجہ ہے؟ اس مسئلے کا سنجیدہ جائزہ لینے کی ضرورت ہے۔ واضح ہو کہ محکمۂ تعلیم نے ریاست کے تمام ایسے مدارس جو حکومت سے مالی امداد حاصل کرتے ہیں اس کی ضلعی سطح کی جانچ کمیٹی تشکیل دی گئی ہے جس میں ضلع ایجوکیشن افسر کی قیادت میں تین ممبر سرکاری عہدیدار جس میں ایک ممبر اقلیت مسلم طبقے کا بھی شامل ہے۔
واضح ہو کہ مدارس برصغیر کی علمی، دینی اور تہذیبی تاریخ کا ایک اہم حصہ رہے ہیں۔ بہار کے مدارس نے نہ صرف دینی علوم کی اشاعت میں نمایاں کردار ادا کیا بلکہ اردو زبان و ادب، عربی تعلیم، اخلاقی تربیت اور سماجی شعور کی آبیاری بھی کی ہے۔ دیہی علاقوں میں جہاں تعلیمی سہولیات محدود تھیں، وہاں مدارس نے ہزاروں غریب بچوں کو تعلیم فراہم کی۔ آج بھی بہت سے مدارس ایسے ہیں جو انتہائی محدود وسائل کے باوجود اپنی خدمات انجام دے رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ ہندوستان کے آئین کے آرٹیکل ۲۹؍اور ۳۰؍میں مذہبی اور لسانی اقلیت کو یہ خصوصی مراعات دی گئی ہے کہ وہ اپنے تعلیمی ادارے قائم کریں لیکن ایک تلخ سچائی یہ بھی ہے کہ ہم آئینی اختیارات کے تحت ادارے تو قائم کرتے ہیں لیکن اس کے تقاضوں کو پورا نہیں کرتے۔ نتیجہ ہے کہ اس پر طرح طرح کے شک و شبہات پیدا کئے جاتے ہیں اور سرکاری عملے کی نگاہ میں یہ ادارے مشکوک ہونے کے ساتھ ساتھ جانچ کے دائرے میں بھی آجاتے ہیں۔ اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ جہاں سیکڑوں ادارے شفافیت کے ساتھ کام کرتے ہیں، وہیں کچھ اداروں میں انتظامی خامیاں، مالی بے ضابطگیاں اور قواعد کی خلاف ورزیاں بھی موجود ہوسکتی ہیں۔ یہ صورتحال صرف مدارس تک محدود نہیں بلکہ سرکاری اسکولوں، کالجوں، یونیورسٹیوں، پنچایتوں اور دیگر سرکاری اداروں میں بھی وقتاً فوقتاً سامنے آتی رہی ہے۔ اس لئے اگر حکومت کسی بھی ادارے کی جانچ کرتی ہے تو اصولی طور پر اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہئے، بشرطیکہ جانچ کا معیار شفاف، غیر جانبدار اور قانون کے مطابق ہو۔
حکومت ِ بہار کا استدلال ہے کہ جن مدارس کو سرکاری امداد ملتی ہے یا جو بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ سے منسلک ہیں، ان کے مالی اور انتظامی معاملات کی نگرانی حکومت کی ذمہ داری ہے۔ عوامی خزانے سے خرچ ہونے والی رقم کا حساب لینا حکومت کا آئینی اور قانونی فرض بھی ہے۔ اگر کہیں فرضی طلبہ کے نام پر گرانٹ حاصل کی جا رہی ہو، یا اساتذہ کی تقرری میں بے ضابطگی ہو، یا تعلیمی معیار متاثر ہو رہا ہو، تو اس کی جانچ ہونی ہی چاہئے۔ دوسری طرف مسلم تنظیموں اور اپوزیشن جماعتوں کے خدشات بھی یکسر نظرانداز نہیں کئے جاسکتے۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر حکومت واقعی بدعنوانی کے خلاف مہم چلا رہی ہے تو پھر یہی معیار تمام تعلیمی اداروں پر یکساں طور پر نافذ ہونا چاہئے۔ صرف مدارس کو نشانہ بنانے سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ معاملہ محض انتظامی نہیں بلکہ سیاسی اور مذہبی بھی ہے۔ ایسے تاثر سے سماجی ہم آہنگی متاثر ہوتی ہے اور اقلیتی طبقے میں بے اعتمادی جنم لیتی ہے۔ جیسا کہ حالیہ دنوں میں اتر پردیش اور اترانچل میں مدارس کو نشانہ بنایا گیا ہے اور عدالت ِ عظمیٰ تک کو مداخلت کرنی پڑی ہے۔
ہاں! اس حقیقت کو بھی تسلیم کرنا ہوگا کہ گزشتہ چند برسوں میں مدارس سے متعلق قومی سطح پر مختلف قسم کی بحثیں ہوتی رہی ہیں۔ بعض اوقات چند انفرادی واقعات کی بنیاد پر پورے مدرسہ نظام کو مشکوک بنا کر پیش کیا جاتا ہے، جبکہ حقیقت یہ ہے کہ لاکھوں طلبہ انہی مدارس سے تعلیم حاصل کرکے مختلف شعبہ ہائے زندگی میں خدمات انجام دے رہے ہیں۔ چند افراد کی غلطیوں کا بوجھ پورے نظام پر ڈال دینا انصاف کے تقاضوں کے خلاف ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ جانچ کا مقصد کوئی سازش نہیں بلکہ اصلاح ہونا چاہئے۔ یہ بھی وقت کی ضرورت ہے کہ مدارس خود بھی احتساب کے عمل کو قبول کریں۔ جدید دور میں شفاف انتظام، آڈٹ، ڈیجیٹل ریکارڈ، طلبہ کی درست معلومات، اساتذہ کی حاضری اور تعلیمی معیار کی مسلسل نگرانی ہر ادارے کیلئے ضروری ہے۔ اگر مدارس اپنی انتظامی صلاحیت کو مزید بہتر بنائیں گے تو نہ صرف ان کی ساکھ مضبوط ہوگی بلکہ حکومت اور سماج کے سامنے بھی ایک مثبت مثال قائم ہوگی۔
بہار مدرسہ ایجوکیشن بورڈ کی ذمہ داری بھی صرف جانچ تک محدود نہیں ہونی چاہئے بلکہ اسے مدارس کی تعلیمی ترقی، اساتذہ کی تربیت، نصاب کی بہتری، جدید علوم کی شمولیت اور بنیادی سہولیات کی فراہمی پر بھی یکساں توجہ دینی چاہئے۔ صرف خامیاں تلاش کرنا کسی بھی تعلیمی نظام کی ترقی کا راستہ نہیں بن سکتا۔ اصلاح اور تعاون ایک ساتھ چلیں تو بہتر نتائج سامنے آتے ہیں۔ سیاسی جماعتوں کو بھی اس معاملے میں ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا چاہئے۔ اگر حکومت کی کارروائی واقعی قانون کے مطابق ہے تو بلاوجہ مخالفت مناسب نہیں، اور اگر کہیں اختیارات کا غلط استعمال ہو رہا ہے تو اس کے خلاف آئینی اور قانونی طریقے سے آواز اٹھانی چاہئے۔ مدارس کو سیاسی کشمکش کا میدان بنانا نہ تعلیم کے حق میں ہے اور نہ ہی ریاست کے مفاد میں۔ مسلم سماج کو بھی جذبات سے زیادہ تدبر سے کام لینے کی ضرورت ہے۔ اگر کوئی مدرسہ واقعی ضابطوں کی خلاف ورزی کر رہا ہے تو اس کی اصلاح خود سماج کے مفاد میں ہے۔ دینی اداروں کی عزت اسی وقت برقرار رہ سکتی ہے جب ان کا نظم و نسق ہر قسم کے شبہات سے بالاتر ہو۔
اگر حکومت تمام تعلیمی اداروں کیلئے یکساں معیار اختیار کرے، کارروائی قانون کے مطابق ہو، کسی مخصوص طبقے کو نشانہ نہ بنایا جائے اور اصلاح اولین مقصد ہو تو اس سے تعلیمی نظام مضبوط ہوگا۔ مدارس تعلیمی ڈھانچے کا اہم حصہ ہیں۔ لیکن افسوس یہ ہے کہ یہ جس مقصد سے قائم کئے گئے ہیں اس کا احتسابی جائزہ وہاں کے اساتذہ اور ذمہ داران کو خود لینا چاہئے کہ کیا وہ مقاصد پورے ہو رہے ہیں یا نہیں؟