• Sun, 01 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

جمہوریت، جمہوری سماج اور قانون شکنی

Updated: February 01, 2026, 2:09 PM IST | Aakar Patel | mumbai

ایسے دور میں جب ضابطۂ فوجداری کا بے جا استعمال کیا جارہا ہو، یہ جائزہ لینا ضروری ہوجاتا ہے کہ اس طریق کار کے کون سے طویل مدتی اور قلیل مدتی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ اس مضمون میں چند مثالوں کے ساتھ موضوع سے بحث کی گئی ہے۔

INN
آئی این این
ایک جمہوری سماج کی حیثیت سے یہ اُمید کی جاتی ہے کہ ہندوستانی حکام قانون کی بالادستی کو یقینی بنائیں ۔ اس میں  یہ بھی شامل ہے کہ طرز حکمرانی آمرانہ نہیں  ہوگا بالخصوص اس وقت جب بات کریمنل لاء یعنی ضابطۂ فوجداری کی ہو۔ یہ اس لئے ضروری ہے کہ ضابطۂ فوجداری کسی کی بھی زندگی کو تباہ کرسکتا ہے۔ حال ہی میں  ایک جج نے کالج کے طلبہ کے ایک گروپ کو اس کی یاددہانی کرائی جنہوں  نے ایک احتجاجی مظاہرہ میں  شرکت کی تھی۔ 
یہ الگ بحث ہے کہ کسی احتجاجی مظاہرہ میں  شریک ہونے والوں  کے خلاف ضابطۂ فوجداری کا کیس کیوں  ہو لیکن ہمارے یہاں  ایسا ہی ہوتا آیا ہےکسی شخص پر حکام کے ذریعہ ضابطۂ فوجداری کا اطلاق اور پھراپنی گلوخلاصی کیلئے اُس شخص کی تگ و دو جو اکثر طویل وقت تک جاری رہتی ہے، کسی سے مخفی نہیں  مگر لوگ اسے معمول کی بات سمجھتے ہیں  یہ سوچ کر کہ ایسا تو سب کے ساتھ ہوتا ہے۔یہ ہمارا طرہ امتیاز ہے کہ ’’مادرِ جمہوریت‘‘ میں  یہاں  کے شہری پولیس سے خوفزدہ رہتے ہیں ، عدالتوں  اور حکومت سے بھی۔ یہ کوئی نئی بات نہیں  ہے۔ اسی لئے سنیما میں  ’’پولیس کا چکر‘‘ جیسی اصطلاح استعمال کی جاتی رہی ہے۔ 
لیکن یہ مَیں  کہاں  اُلجھ گیا۔ مَیں  جس موضوع پر اظہار خیال کرنا چاہتا ہوں  وہ ایک ایسا رجحان ہے جس نے وطن عزیز میں  اپنی جڑیں  مضبوط کرلی ہیں  اور ہندوستانی جمہوریت کا حصہ بن چکی ہے۔ میرا اشارہ کس جانب ہے اس کو ظاہر کرنے کیلئے دو مثالیں  پیش کرنا چاہتا ہوں ۔ پہلی مثال الہ آباد ہائی کورٹ کی ہے جس نے یوپی پولیس کو ملزم کے پیروں  پر گولی مارنے کے خلاف ہدف تنقید بنایا۔ جس اخبار میں  یہ سرخی شائع ہوئی ہے اس میں  ذیلی سرخی میں  عدالت کی بنچ کے حوالے سے کہا گیا کہ’’ اس طرح کی کارروائی کی قطعی اجازت نہیں  دی جاسکتی کیونکہ سزا دینے کا اختیار صرف عدالتوں  کو ہے۔‘‘دوسری خبر اس طرح ہے: ’’اُتراکھنڈ کے تبدیلیٔ مذہب قانون کے تحت ۷؍ سال میں  پانچ مقدموں  کی سماعت مکمل ہوئی اور عدالت نے ۵؍ لوگوں  کو بَری کردیا۔‘‘ 
پہلی خبر پر بات کرلیتے ہیں ۔ یوپی حکومت نے گزشتہ سال جولائی میں  اعدادوشمار ظاہر کئے جن کے مطابق ۲۰۱۷ء سے اب تک پولیس نے ۹؍ ہزار ۴؍ سو ۶۷؍ لوگوں  کے پیر میں  گولی ماری۔ اس کا معنی یہ ہے کہ نو سال میں  روزانہ تین لوگوں  کے پیر میں  گولی لگی۔ اس سلسلے میں  کورٹ نے کہا: ’’یہ (اس طرح سزا دینا) عدالتی اختیار میں  سیندھ لگانے جیسا ہے جسے قبول نہیں  کیا جاسکتا۔سماعت کے دوران عدالت نے پایا کہ پولیس سپریم کورٹ کے وضع کردہ رہنما خطوط کی پاسداری نہیں  کررہی ہے۔ عدالت کو اس بات سے بھی تشویش تھی کہ پولیس افسران، ججوں  بالخصوص چیف جیوڈیشیل مجسٹریٹ پر خاص قسم کا حکم دینے کیلئے گویا دباؤ ڈال رہے تھے۔ جج نے دوٹوک الفاظ میں  کہا کہ عدالت یوپی کو پولیس اسٹیٹ بننے کی اجازت نہیں  دے سکتی۔
دوسری خبر کا تعلق، جیسا کہ اوپر بتایا گیا، اتراکھنڈ کے اُس قانون سے تعلق رکھتا ہے جسے ’’اتراکھنڈ فریڈم آف رِلیجن ایکٹ ۲۰۱۸ء‘‘ نام دیا گیا۔ یہ قانون تب بنایا گیا جب ’’لوَ جہاد‘‘ کو موضوع بحث بنایا گیا تھا۔ بہرحال قانون بنا جس کے تحت تبدیلیٔ مذہب کے ذریعہ ہونے والی ہندو مسلم شادی کو قابل تعزیر قرار دیا گیا لیکن اس ’’سہولت‘‘ کے ساتھ کہ اگر کوئی فرد اپنے ’’آبائی مذہب‘‘ کی طرف لوَٹ کر آئے تو یہ مذہب کی تبدیلی نہیں  مانی جائے گی۔ یہ قانون تو بن گیا مگر ا سمیں  یہ وضاحت نہیں  ہے کہ’’آبائی مذہب‘‘ یعنی کیا مگر جاننے والے جانتے ہیں  کہ اس کا معنی یہ ہے کہ اگر کوئی شخص (غیر ہندو) ہندو مذہب کی طرف لوَٹ آئے تو مذہب کی یہ تبدیلی، تبدیلی نہیں  ہوگی۔ اس قانون کے تحت ہوتا یہ ہے کہ جیسے ہی کوئی شکایت درج ہوئی، ضلع مجسٹریٹ پولیس کے ذریعہ تحقیقات کرواتا ہے تاکہ یہ پتہ چلے کہ مذہب کی تبدیلی کے پس پشت اصل ارادہ، مقصد اور ہدف کیا ہے۔ جو لوگ عرضی دیئے بغیر اور اجازت حاصل کئے بغیر مذہب تبدیل کرلیتے ہیں  انہیں  ایک سال کی قید کی سزا دی جاتی ہے۔ اب اس قانون کے نافذ ہوئے سات سال کا عرصہ گزر چکا ہے۔ اس دوران پانچ مقدمات کی شنوائی مکمل ہوئی اور پانچوں  ملزمین کو عدالت نے بَری کر دیا ۔ ان سات برسوں  میں  سات کیسیز ایسے بھی تھے جنہیں  عدالت نے خارج کردیا۔
 
مذکورہ خبر میں  لکھا گیا ہے کہ ’’عدالت نے شہریوں  کے قانونی تحفظ فراہم کیا‘‘ جبکہ میرے خیال میں  یہ قانونی تحفظ نہیں  ہےکیونکہ ملزمین کو تو پریشانیوں  سے گزرنا پڑا، اسی لئے عدالت کے ذریعہ بَری کئے جانے کو تحفظ نہیں  کہا جاسکتا۔ ایسا نہیں  کہ پولیس اپنے اختیارات سے واقف نہیں  یا قانون سے نابلد ہے۔ پولیس حکام اچھی طرح جانتے ہیں  کہ اُنہیں  کیا کرنا چاہئے مگر وہ ویسا نہیں  کررہے ہیں  کیونکہ سیاسی ماحول اُنہیں  وہ کرنے کی اجازت نہیں  دے رہا ہے۔ وہ قانون کو پس پشت ڈال کر کارروائیاں  اس لئے کررہے ہیں  تاکہ حکومت کے منشاء کے مطابق اپنی کارگزاری دکھائیں ۔ اُنہیں  یہ علم ہے کہ اُن سے جوابدہی طلب نہیں  کی جائیگی بلکہ اُنہیں  انعام دیا جائیگا۔مضمون کی ابتداء میں  جو سوال قائم کیا گیا وہ یہ ہے کہ جمہوری سماج کے ارباب اختیار جان بوجھ کرقانون بالخصوص ضابطۂ فوجداری کو پس پشت ڈال دیں  تو کیا ہوتا ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسی کارروائیوں  کےطویل مدتی اور قلیل مدتی، دونوں  طرح کے نتائج برآمد ہوتے ہیں  جو کہ ناگزیر ہیں ۔ قلیل مدتی نتائج میں  وہ بھی ہے جس کی بابت ہم ْخبروں  میں  پڑھتے ہیں  کہ ملزمین کی زندگی تباہ ہوگئی۔ طویل مدتی نتائج میں  یہ ہے کہ اس کی وجہ سے سماج اور ملک متاثر ہوتا ہے۔ جب اس طرح کی قانون شکنی ہوتی ہے تو جمہوری سماج وہاں  نہیں  جا پاتا جہاں  جمہوریت اُسے لے جانا چاہتی ہے۔ 

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK