کرناٹک ہائی کورٹ نےبنگلور میں بائیک ٹیکسیوںپر لگی پابندی ختم کردی، جس کے بعد شہر میں بائیک ٹیکسی کی واپسی ہو گئی، کورٹ نے کہا کہ ریاست اگرچاہے تو پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔
EPAPER
Updated: January 23, 2026, 6:06 PM IST | Bengaluru
کرناٹک ہائی کورٹ نےبنگلور میں بائیک ٹیکسیوںپر لگی پابندی ختم کردی، جس کے بعد شہر میں بائیک ٹیکسی کی واپسی ہو گئی، کورٹ نے کہا کہ ریاست اگرچاہے تو پابندیاں عائد کرسکتی ہے۔
کرناٹک ہائی کورٹ نے جمعے کے بائیک ٹیکسی پر عائد سابقہ پابندی منسوخ کردی ،جس کے بعد ریپڈو اور اُبَر کی گاڑیاں دوبارہ خدمات فراہم کرسکیں گی۔ چیف جسٹس وِیبھوباکھرو کی سربراہی میں بینچ نے سابقہ سنگل جج کے اُس حکم نامے کو کالعدم قرار دے دیا جس میں ریاستی حکومت کے مربوط قواعد بنانے تک ایسی تمام خدمات روک دی گئی تھیں۔ٹائمز آف انڈیا کے مطابق بینچ نے کہا، ’’ہم ریاستی حکومت کو ہدایت کرتے ہیں کہ وہ ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے طور پر رجسٹریشن کی درخواستیں غور کریں اور کنٹریکٹ کے طور پر کام کرنے کے اجازت نامے جاری کریں۔‘‘
یہ بھی پڑھئے: آئی ڈبلیو ڈی سی ۳؍اندرون ملک آبی گزرگاہوں کیلئے ایک نئی سمت فراہم کریگا
دریں اثناء عدالت نے ہدایت کی کہ بائیک مالکان ضروری لائسنسوں کے لیے درخواست دیں، اور ریاستی حکومت موجودہ قانونی دفعات کے مطابق اجازت نامے جاری کرنے کی پابند ہے۔بعد ازاں اس فیصلے سے ہزاروں بائیک ٹیکسی سواروں کو راحت ملی ہے جو جون میں ہائی کورٹ کی پابندی کو برقرار رکھنے کے بعد متاثر ہوئے تھے۔تاہم اس پابندی کے خلاف گگ ورکرنے احتجاج بھی کیا تھا،جن کا کہنا تھا کہ اس اقدام سے ان کی روزی روٹی پر شدید اثر پڑا ہے۔نَمّا بائیک ٹیکسی ایسوسی ایشن، جو پورے کرناٹک میں بائیک ٹیکسی سواروں کی نمائندگی کرتی ہے، نے حکومت سے بار بار پابندی پر نظرثانی کی اپیل کی تھی۔
یہ بھی پڑھئے: سپریم کورٹ نے پھانسی کے ذریعے موت کی سزا کے خاتمے کی عرضی پر فیصلہ محفوظ کر لیا
مزید برآں جون میں، ایسوسی ایشن نے کانگریس رکن پارلیمنٹ اور لوک سبھا میں لیڈرحزب اختلاف راہل گاندھی کو خط لکھ کر مطالبہ کیا تھا کہ وہ ریاست میں لاکھوں گگ ورکر کی روزی روٹی کے تحفظ کے لیے مداخلت کریں۔ایسوسی ایشن نے خط میں کہا، ’’بنگلور اور کرناٹک بھر میں ایک لاکھ سے زائد گگ ورکر بائیک ٹیکسی خدمات پر مکمل پابندی کی وجہ سے اپنے روزگار اور اپنے خاندانوں کی کفالت کے حق سے محروم ہو رہے ہیں۔‘‘ساتھ ہی انہوں نے پابندی کو اس شعبے پر انحصار کرنے والے سواروں کے وقار اور روزی کے لیے خطرہ قرار دیاتھا۔