اِس وقت جنگ کا دھواں پھیلا ہوا ہے جو دور دراز کے ملکوں سے بھلے ہی نظر نہ آتا ہو مگر اس کے نیچے جو آگ ہے اس کی تپش دور دور تک محسوس کی جارہی ہے۔ جنگ کا دھواں آنکھوں میں بُری طرح چبھ رہا ہے۔
دھواں انسانی زندگی کے ساتھ سفر کرتا رہا ہے۔ یہ تہذیبی زندگی کا ایک ایسا حوالہ ہے جسے دیکھا تو جا سکتا ہے مگر چھوا نہیں جا سکتا۔ ہمارے شاعروں نے دل سے اٹھنے والے دھوئیں کا ذکر کیا ہے جو صرف ایک کیفیت کا اظہار ہے۔ احساس کا دوسرا نام کیفیت بھی ہے جو اندر کی دنیا کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ باہر کی دنیا کا دھواں اندر کے دھوئیں سے کوئی تعلق نہیں رکھتا مگر ہم ہیں کہ اندر کے دھوئیں کا ذکر کچھ اس طرح کرتے ہیں جیسے اس کا کوئی حقیقی وجود ہو۔ مگر اس غیر حقیقی وجود کو میر، یگانہ اور ناصر کاظمی نے کچھ اس طرح دیکھا اور محسوس کیا ہے کہ جیسے اندر کا دھواں ہی سب سے بڑی حقیقت ہے۔
ادھر کئی ہفتوں سے ہم نے دھوئیں کی تصویر کو دیکھا ہے۔ دھواں تصویر میں دھواں ہی معلوم ہوتا ہے، یا کچھ اور؟ سچ یہ ہے کہ کاغذ پر ٹھہرا ہوا دھواں زندگی کے ٹھہراؤ کا پتہ دیتا ہے، اٹھتا ہوا دھواں صرف عمارتوں سے اٹھنے والا دھواں نہیں ہے بلکہ اس میں بہت سی زندگیاں بھی شامل ہیں ۔ دنیا کے مختلف علاقوں اور شہروں سے اٹھنے والا دھواں زندگی کی جس صورتحال کو پیش کرتا ہے اسے دیکھتے ہوئے کئی ہفتے اور مہینے ہو گئے۔ کبھی تو محسوس ہوتا ہے کہ جیسے نگاہوں کے نیچے سیاہی آگئی ہو۔ یہ سیاہی ان آنکھوں کا سرمہ ہو سکتی ہے جنہیں اس صورتحال کو دیکھنے اور دکھانے کی آرزو تھی۔ یہ آرزو کتنی لمبی یا مختصر ہے ابھی اس کا فیصلہ ہونا باقی ہے۔ بہت سی آنکھیں اٹھنے والے اس دھوئیں کے ساتھ بہت روشن دکھائی دیتی ہیں گویا دھواں اندھیرا اور اندھیری زندگی کا استعارہ ہونے کے باوجود روشنی کا سبب بھی ہے۔ یہ دھوئیں سے اٹھنے والی کیسی روشنی ہے؟ اس سوال کا جواب دھوئیں کے پاس ہے اور دھوئیں سے لپٹی ہوئی زندگی کے پاس۔ جواب ان کے پاس بھی ہے جن کی نگاہوں نے اس دھوئیں کی آرزو کی تھی۔ دھوئیں میں کتنا کچھ چھپ گیا ہے، اس کی خبر دھوئیں کو بھی نہیں ہے۔ زہریلی گیس کا تجربہ بھی کتنا خطرناک تجربہ تھا۔ دھوئیں کو ہر شخص نے نزدیک اور دور سے دیکھا ہے۔ ایک وہ دھواں بھی تھا جو چراغ اور دیے سے اٹھتا تھا اور گھر روشن ہو جاتا تھا۔ دیے کی روشنی اپنے ساتھ سیاہی بھی لاتی تھی مگر یہ سیاہی روشنی کیلئے تھی۔ شمع کے سر کے اوپر جو دھواں ہے،اس کا ذکر بھی شاعری میں موجود ہے لیکن جنگ کے نتیجے میں جو دھواں تاریخ میں اٹھتا رہا ہے، اس کی معنویت کا رشتہ انسانی زندگی اور تہذیبی زندگی کے دشمنوں سے ہے۔ ایک چراغ اگر بجھا دیا جائے، تو دوسرا چراغ جلایا جا سکتا ہے مگر جب انسانی زندگی اور انسانی تہذیب دھواں دھواں ہو جائے تو پھر اسے بحال کرنے میں کتنا وقت درکار ہوگا۔ ملبے میں دبی ہوئی چیخیں اور کراہیں ، دھوئیں کے چھٹ جانے کے بعد بھی سنائی دے رہی ہیں ۔ ابھی ان چیخوں کی طرف لوگ متوجہ ہی ہوئے تھے کہ دوبارہ دھوئیں نے اپنی چادر پھیلا دی۔ اس صورتحال میں دل کے نگر سے اٹھنے والے دھوئیں کا ذکر کیا کیا جائے۔
دھوئیں کا رخ بلندی کی طرف ہونے کے باوجود وہ انسان کے داخل کی طرف ہو جاتا ہے۔ دھواں آگ سے وابستہ ہے۔ آگ سے اٹھنے والا دھواں ، اس دھوئیں سے کوئی علاقہ نہیں رکھتا جو بمباری کے نتیجے میں جلتے ہوئے مکانوں سے اٹھتا ہے۔ دھوئیں کا رنگ سیاہ ہوتا ہے، اور یہ سیاہی دل کی سیاہی سے بھی علاقہ رکھتی ہے مگر اب دل کی سیاہی کا ذکر گئے دنوں کا قصہ ہے۔ زندگی دھواں دھواں ہے اور اس سے نکلنے کی کوئی صورت دکھائی نہیں دیتی۔ کبھی دھوئیں کے بارے میں اس طرح بھی سوچا جاتا تھا کہ دھواں زندگی کی حرکت اور بلندی کا پتہ دیتا ہے۔ وہ بغیر کسی بنیاد کے فضا میں بھٹکتا رہتا ہے۔ اسے اپنی منزل کی تلاش ہوتی ہے، مگر اسے معلوم ہے کہ بہت مشکل ہے کسی منزل تک پہنچنا۔ دھواں بھٹکتا رہتا ہے، ٹھہرنے کی کوشش کرتا ہے اور جیسے ہی اسے کوئی سطح ملتی ہے وہ رک جاتا ہے۔ دھوئیں کی آوارگی میں زندگی کی تلاش کا عمل اس دھوئیں سے کوئی نسبت نہیں رکھتا جو جنگ کے نتیجے میں جلتے ہوئے مکانوں سے اٹھتا ہے۔ اسے بھی اوپر کی طرف جانا ہے اور یہ دھواں اتنا گھنا اور گھنیرا ہے کہ اس کے خیال ہی سے وحشت ہوتی ہے۔ دھواں دھوپ میں اپنی سیاہی کے ساتھ کچھ شرمندہ بھی ہوتا ہوگا۔ یہ شرمندگی دھویں کی نہیں بلکہ دھوئیں کو اٹھانے والوں کی ہے۔ لیکن سفاک ،بے درد اور بے سمت ضدی معاشرے میں شرمندگی بہت دور جا چکی ہے۔ بے شرمی زندگی کو آسان بنا دیتی ہے۔ رام دھاری سنگھ دنکر کی ایک نظم ’’دھوپ اور دھواں ‘‘ ہے۔ آزادی کے بعد کی صورتحال کے پیش نظر اس نظم کی ایک خاص معنویت ہے۔ انہوں نے خود بھی اپنی اس نظم اور مجموعے کے بارے میں اظہار خیال کیا تھا۔ دھوپ زندگی کی علامت ہے اور دھواں بے اطمینانی اور تاریکی کی علامت۔ ایک ملی جلی مجموعی صورتحال کا بیان اس نظم میں ہوا ہے۔ ان کی ایک نظم ’’سپنوں کا دھواں ‘‘ بھی ہے۔ دھواں ایک لفظ ہی نہیں زندگی کی ایک بڑی حقیقت ہے جس کے روشن اور تاریک پہلو کا انحصار صورتحال پر ہے مگر اس وقت ہر طرف دھواں دھواں جو دکھائی دے رہا ہے اس نے تمام حساس افراد کو دھوئیں کے بارے میں نئے سرے سے سوچنے پر آمادہ کر دیا ہے۔ دھوئیں کو جنگ کی تباہی کا دستاویز بھی کہا جا سکتا ہے۔ لیکن یہ کیسا دستاویز ہے جس پر کوئی تحریر درج نہیں ۔ دھوئیں پر لکھی گئی تحریر کو کس نے دیکھا اور پڑھا ہے۔ پھر بھی گھنا اور گھنیرا دھواں بظاہر ایک دستاویز ہی تو ہے۔ ماحولیات کا مسئلہ اپنی جگہ ہے مگر اس وقت جو دھواں اٹھ رہا ہے اسے ماحولیات سے جوڑ کر دیکھنے کا مطلب انسانی زندگی کی تباہ کاریوں سے نگاہیں پھیر لینا ہے۔ مگر کیا کیا جائے کہ ماحولیات ماحولیات کہنے کا سلسلہ جاری ہے۔ میرؔ نے کیا سوچا تھا اور کیا ہو رہا ہے۔؎
محبت نے شاید کہ دی دل کو آگ / دھواں سا ہے کچھ اس نگر کی طرف
دھواں اگر دستاویز ہے تو پھر آنے والا وقت،ان لوگوں سے حساب ضرور مانگے گا،جنہوں نے دھوئیں کو وقت کی سب سے بڑی ضرورت بتایا ہے۔اخبار کے تراشے جن کی پیشانیاں دھوئیں سے سیاہ ہیں ،انہیں سنبھال کر رکھا تو جا سکتا ہے،ان سے مکانوں اور چہروں کی تصویر تو نہیں بنائی جا سکتی۔