ہمارا طرز عمل اور ایسے ہی کئی دوسرے ملکوں کا طرز اس لئے مختلف ہے کہ امریکہ کے تئیں سب بڑے پُرخلوص ہوجاتے ہیں مگر ایران کے ساتھ ایسا نہیں کرتے۔
تصور کیجئے کہ ۲۸؍ فروری کے بعد سے اب تک جو کچھ ایران میں ہوا اگر وہی امریکہ میں ہوا ہوتا تو کیا ہوتا؟ اس تصور میں ۲۸؍ فروری کے بعد سے اب تک کے تمام واقعات کو شامل کرلیجئے جس میں ایران کے سپریم لیڈر اور اُن کے اہل خانہ اور اعلیٰ افسران کا فوت ہونا بھی شامل ہے۔ اُس بھیانک واقعہ کا بھی تصور کیجئے جس میں طالبات کے ایک اسکول پر بمباری ہوئی جس کے نتیجے میں کم و بیش ۱۵۰؍ طالبات فوت ہوگئیں ۔ سوچئے اگر یہی سب امریکہ میں ہوتا تو کیا ہوتا۔ اپنے اس تصور میں اُس بحری جہاز کو بھی شامل کیجئے جس پر ہونے والے حملے کے ذریعہ ہندوستان آئے ہوئے مہمان لوٹ رہے تھے۔ ان سب تصورات کے ساتھ یہ بھی سوچئے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اتنا سب کیا مگر جنگ کا اعلان کئے بغیر، کوئی انتباہ دیئے بغیر۔ کیا عالمی قوانین اس کی اجازت دیتے ہیں ؟
نہیں دیتے مگر یہ سب کچھ ایرانیوں کے ساتھ ہوا اور امریکیوں کے ہاتھوں ہوا۔ اگر آپ کو امریکہ کے بارے میں مذکورہ باتیں تصور کرنے میں تامل اور تردد ہے، آپ پس و پیش میں ہیں تو اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم امریکیوں کے بارے میں ایسا نہ سوچنے کا مزاج رکھتے ہیں ۔ ایرانیوں کے ساتھ جو کچھ ہوا اگر وہ نہ ہوا ہوتا اور ہمیں تصور کرنے کیلئے کہا جاتا تو ہم آسانی سے تصور کرلیتے مگر جب وہی سب امریکہ کے تعلق سے تصور کرنے کی بات آئی تو ہمیں تامل اور تردد ہوا اور ہم پس و پیش میں مبتلا ہوئے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جن ملکوں کی زبان انگریزی ہے (جنہیں اینگلوفون کہا جاتا ہے) اُن کو غیر تحریری طور پر ایک طرح کی سبقت اور برتری حاصل ہے، ہم اُنہیں بہت اچھا، بہتر اور قابل تعظیم سمجھتے ہیں ۔ اُن کو ترقی کی علامت گردانتے ہیں ۔ دُنیا کے بیشتر ملکوں کا یہی طرز عمل ہے اور ہم اُن سے مختلف نہیں ہیں ۔ اسی طرز عمل کے سبب ہم امریکہ کے ساتھ تو ہمدردی کرسکتے ہیں اور اُس کے بارے میں اچھا گمان رکھ سکتے ہیں مگر ایران کے ساتھ نہ تو ہمدردی کرنا چاہتے ہیں نہ ہی اچھا گمان رکھنا چاہتے ہیں ۔
اب اپنے تصوراتی تجربے کو ایک طرف رکھئے اور شرائط کی اُن دو فہرستوں پر غور کیجئے جو دونوں فریقوں نے جنگ بندی کے لئے رکھی ہیں ۔ امریکیوں کی فہرست میں ۱۵؍ نکات ہیں جو درج ذیل ہیں : (۱) ایران اپنے جوہری پروگرام کو مکمل طور پر ختم کرے (۲) یورینیم کی افزودگی کا سلسلہ موقوف کرے (۳) کسی روک ٹوک کے بغیر جوہری پروگرام سے متعلق مقامات اور تنصیبات کے معائنے کی اجازت دے (۴) بیلسٹک میزائل بنانے کا سلسلہ ترک کردے (۵) فوجی صلاحیت کو محدود کرے (۶) فلسطین اور لبنان میں موجود گروپوں کی حمایت ختم کردے (۷) بیرونِ ملک اثر و رسوخ کو ختم کرے (۸) آبنائے ہرمز کو کھول دے (۹) بحری جہازوں کی آمد ورفت میں رکاوٹ نہ ڈالے (۱۰) خلیج میں امریکی اتحادی ملکوں پر کئے جارہے حملوں کو روک دے (۱۱) خطے میں جنگ کے خاتمے میں مددگار ہو (۱۲) امریکی قیادت میں مذاکرات کا حصہ بنے (۱۳) طویل مدت تک نگرانی اور طے شدہ اُمور کی تعمیل کی ہامی بھرے (۱۴) ہتھیاروں کی منتقلی کو محدود کرے، اور (۱۵) مستقبل میں بھی اپنا رویہ متوازن رکھے۔
غور کیجئے کتنی طویل فہرست ہے اور کون سا مطالبہ ہے جو ایران سے نہیں کیا جارہا ہے۔ اس کے برخلاف ایران کے پاس صرف پانچ شرائط کی فہرست ہے جو درج ذیل ہے:
(۱) ایرانی لیڈروں کا قتل روکا جائے (۲) آئندہ جنگ نہ ہونے کی ضمانت دی جائے (۳) اس جنگ کے نقصانات کا معاوضہ دیا جائے (۴) خطے میں جنگ پھیلانے سے اسرائیل کو روکا جائے (۵) آبنائے ہرمز پر ایران کے خود مختارانہ حقوق کو تسلیم کیا جائے۔
ایران کی لسٹ میں ایک اہم نکتہ شامل نہیں ہے۔ وہ ہے: ایران کو ہندوستان، پاکستان اور درحقیقت امریکہ اور اسرائیل کی طرح، پُرامن ایٹمی پروگرام کا حق حاصل ہے جس میں یورینیم کی افزودگی بھی شامل ہے۔ ایران نے اسے کیوں چھوڑ دیا؟ غالباً اس لئے کہ دنیا سے یہ نہیں کہا جانا چاہئے کہ ایران کو دوسروں سے مختلف نہیں ہونا چاہئے اور نہ ہی اس کے ساتھ امتیازی برتاؤ کیا جا سکتا ہے۔ غور کیجئے کہ ایران کی فہرست دفاعی نوعیت کی ہے اور وہ ان لوگوں سے کوئی مطالبہ نہیں کرتا جنہوں نے اس پر جنگ مسلط کی۔ دونوں فہرستوں کے مطالعے کے بعد آپ کس نتیجے پر پہنچے؟
غیر جانبداری کے ساتھ جائزہ لیجئے تو محسوس ہوگا کہ امریکی فہرست جارحانہ، زیادہ سے زیادہ مطالبات منوانے کی کوشش اور ایک طرح کی بے ہودگی ہے۔ یہ جارحانہ ہے کیونکہ اس میں دھمکی کا انداز ہے۔ اس کے ذریعہ زیادہ سے زیادہ مطالبات رکھے گئے ہیں جس کا معنی یہ ہے کہ بات چیت کیلئے کوئی جگہ یا گنجائش نہ رہے۔
شاید جارحانہ فہرست، دھمکی آمیز انداز اور زیادہ سے زیادہ مطالبات کے پس پشت امریکہ اور اسرائیل کا یہ مفروضہ ہو کہ جنگ اُن کی طے کردہ رفتار اورسمت میں آگے بڑھ رہی ہے۔ یہ اُن کی خام خیالی ہے۔ اسی لئے مَیں نے اسے مفروضہ کہا۔ ایران اب اس پوزیشن میں ہے کہ امریکہ و اسرائیل سے، اگر سب نہیں تو بہت سی، شرطیں منوا سکے۔ جنگ کو ایک ماہ ہورہا ہے، اب عالم یہ ہے کہ جنگ کی سمت اور رفتار ایران طے کررہا ہے۔
اب ایک آخری بات پر غور کریں جو اِس مضمون میں کہی گئی پہلی بات سے جڑی ہوئی ہے۔ آج جو ایران کے ساتھ کیا جارہا ہے اگر وہی امریکہ کے ساتھ ہوتا تو کیا ہوتا؟ اگر پوری دُنیا کی بات نہ کی جائے، صرف ہمارے یعنی ہندوستان کے ردعمل کے بارے میں سوچا جائے تو کیا تب بھی ہمارے وزیر اعظم اور وزیر خارجہ کا طرز عمل وہی ہوتا جو ۲۸؍ فروری سے اب تک جاری ہے اور کیا وہ وہی باتیں کہتے جو اب تک اُنہوں نے کی ہیں ؟ جب ہم وسودیو کٹمبکم کہتے ہیں تو کیا واقعی ہمارا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ ہندوستان دنیا کو ایک خاندان سمجھتا ہے؟ عملی طور پر اس کا جواب نفی میں ہے۔