• Tue, 03 February, 2026
  • EPAPER

Inquilab Logo Happiest Places to Work

عام بجٹ اور ریاست بہار کا ترقیاتی نشانہ

Updated: February 03, 2026, 2:01 PM IST | Dr. Mushtaq Ahmed | mumbai

نرملا سیتارمن نے اپنے نویں عام بجٹ میں پٹنہ کو جہازرانی کے شعبے میں اہم مقام دینے کا اعلان کیاہے۔ ان کے مطابق پٹنہ کو پانی کےجہاز کے مرمت کیلئے مرکز بنایا جائے گا اور بہار سے گزرنے والے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور و پانی جہاز کے راستوں کومستحکم کیا جائے گا۔

INN
آئی این این
ریاست بہار کو خصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ گزشتہ دو دہائیوں  سے ہو رہاہے اوربالخصوص پارلیمانی اور اسمبلی انتخابات کے وقت یہ مطالبہ ریاست کی سیاست کا محور ومرکز بن جاتاہے ۔حال میں  اسمبلی انتخاب کے نتائج کے بعد نتیش کمار کی قیادت والی نئی کابینہ تشکیل پائی ہے اور بہار میں  ان دنوں  وزیر اعلیٰ کی سمردھی یاترا کا دوسرا مرحلہ بھی شروع ہوگیاہے۔ واضح ہو کہ یاترا کا پہلا مرحلہ ۱۹؍ سے ۲۴؍ جنوری تک تھا اس کے بعد دوسرا مرحلہ پھر ۲۸؍جنوری سے جاری ہے۔وزیر اعلیٰ اس یاترا کے دوران بہار میں  چلنے والی مختلف سرکاری ترقیاتی اسکیموں  کا جائزہ بھی لے رہے ہیں  اور نئے ترقیاتی نشانوں  کو پورا کرنے کے لئے سنگ بنیاد بھی رکھ رہے ہیں ۔ بہار کے عوام کو یہ امید تھی کہ شاید اب بہار کوخصوصی ریاست کا درجہ مل جائے لیکن ایسا نہیں  ہوا ۔  البتہ وزیر خزانہ نرملا سیتارمن نے اپنے نویں  عام بجٹ میں  پٹنہ کو جہازرانی کے شعبے میں  اہم مقام دینے کا اعلان کیاہے۔ ان کے مطابق پٹنہ کو پانی کےجہاز کے مرمت کے لئے مرکز بنایا جائے گا اور  بہار سے گزرنے والے ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور و پانی جہاز کے راستوں  کو مستحکم کیا جائے گا۔وزیر خزانہ کے مطابق ان دونوں  فیصلے سے بہار میں  روزگار کے مواقع پیدا ہوں  گے اور اس سے یہاں  کی معیشت کو بھی استحکام حاصل ہوگا۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ بہار کو جو امید تھی وہ پوری نہیں  ہوئی ہے کیوں  کہ حکومت بہار نے مرکزی حکومت سے باضابطہ یہ مطالبہ کیا تھا کہ جی ڈی پی کے مطابق پانچ فیصد لون لینے اور جی ایس ٹی پر سرچارج اور کئی معاملے پر سیش لینے کا حق حاصل ہونا چاہئے لیکن ایسا نہیں  ہو سکا۔ بلکہ حزب اختلاف کا موقف تو یہ ہے کہ عام بجٹ کے ایک گھنٹے کی تقریر میں  بہار کا ذکر بھی نہیں  ہے ۔البتہ پٹنہ کا نام دو بار آیا ہے جب کہ گزشتہ عام بجٹ میں  بہار پر بہت فوکس تھا ۔ اس عام بجٹ میں  سرکاری ملازمین کو کوئی بڑا فائدہ نہیں  ہو اہے کہ ٹیکس میں  کسی طرح کی رعایت نہیں  دی گئی ہے جب کہ بازار میں  بڑھتی مہنگائی نے سرکاری تنخواہ پر زندگی بسر کرنے والوں  کے لئے طرح طرح کے مسائل پیدا کئے ہیں  ۔ایسی صور ت میں  یہ امید کی جا رہی تھی کہ جب تک سرکاری ملازمین کیلئے آٹھواں  پے کمیشن نافذ نہیں  ہوتا ہے اس وقت تک ٹیکس میں  تھوڑی راحت ملتی تو متوسط طبقے کے سرکاری ملازمین کی پریشانیاں  کم ہوتیں ۔
بہر کیف! بہار کو اس بجٹ میں  ایک فائدہ ضرور ہواہے کہ سی ٹی اکنامک ریزنس (CIR)کے تحت آئندہ پانچ سال کے لئے پانچ سو کروڑ کے بجٹ کا اہتمام کیا گیاہے اور اس اسکیم میں  بھوپال، جئے پور کے ساتھ ساتھ ساتھ پٹنہ کو بھی شامل کیا گیاہے ۔ ظاہر ہے کہ اس کی وجہ سے پٹنہ میں  بنیادی ڈھانچوں  کے استحکام کے راستے آسان ہوں  گے اور اس کی وجہ سے مفادِ عامہ کی سہولیات حاصل ہوں  گی اور جب ترقیاتی کام ہوں  گے تو روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوں  گے۔ اس لئے مرکزی حکومت کا موقف ہے کہ اس میں  بہار کو نظر انداز نہیں  کیا گیاہے ۔ صحت اور صنعت کے شعبے میں  بھی دیگر ریاستوں  کے ساتھ بہار کو بھی سہولیات میسر ہوں  گی ۔ اس لئے وزیر اعلیٰ نتیش کمار نے پانی جہاز اور ہائی اسپیڈ ریل کوریڈور کے لئے فنڈ مختص کرنے کے لئے مرکزی بجٹ پیش کرنے والی محترمہ سیتا رمن کے تئیں  اظہار تشکر پیش کیا ہے کہ اس سے بہار کو فائدہ ملے گا اور روزگار کے مواقع بھی ملیں  گے۔اس عام بجٹ میں  کھادی اور دست کاری کو بڑھاوا دینے کے لئے مہاتما گاندھی گرام سوراج پہل کا اعلان کیا گیاہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دیہی علاقوں  میں  چھوٹے چھوٹے گھریلو صنعت کے لئے سہولیات حاصل ہوں  گی اور اس سے گائوں  میں  غریب طبقے کے بیروزگاروں  کو روزگار مل سکے گا ۔اسی طرح وراثتوں  کے ڈیجٹلائزیشن کے لئے بھی خصوصی پیکج کا اعلان ہوا ہے جس سے یہ امیدہے کہ بہار میں  جو تاریخی ، تہذیبی وثقافتی مراکز ہیں  اس کا ڈوکومنٹیشن ہوگا جس سے تحقیقی شعبے میں  بہار کو نمایاں  جگہ مل سکے گی۔
اب سوال یہ اٹھتا ہے کہ بہار کو خصوصی پیکج دینے کے معاملے میں  مرکزی حکومت دو دہائیوں  سے ٹال مٹول کا راستہ کیوں  اپنا رہی ہے۔وزیر اعلیٰ نتیش کمار بھی بارہا بہار کوخصوصی ریاست کا درجہ دینے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں  تاکہ یہاں  کے بنیادی ڈھانچوں  کے ساتھ ساتھ صنعت کو فروغ دینے کے مواقع حاصل ہوں  تاکہ یہاں  کے نوجوانوں  کو روزگار مل سکے۔چوں  کہ ابھی عام بجٹ پر بحث ہونا باقی ہے اور حتمی طورپر بجٹ کو قبولیت ملنی باقی ہے اس لئے حسب معمول ہر ایک ریاست عام بجٹ کو اپنے اپنے طورپر دیکھنے کی کوشش کرتی ہے اور ریاست کے لئے مطالبہ بھی کرتی رہتی ہے۔ بہار کے عوام بھی اس بجٹ کو اسی روایتی نظریے سے دیکھ رہے ہیں  اور بر سراقتدار جماعت کو یہ امید ہے کہ آنے والے دنوں  میں  بہار کو ترقیاتی شعبے میں  مزید فنڈ ملے گا جس سے تعلیم، صحت ، صنعت اور تجارت کے شعبے مستحکم ہوں  گے جس کی وجہ سے روزگار کے مواقع میں  اضافہ ہوگا اور ریاست میں  بیروزگاری کی شرح میں  کمی واقع ہوگی ۔ظاہر ہے کہ بہار میں  صنعتی مراکز کے فقدان کی وجہ سے یہاں  کے مزدور اور پڑھے لکھے نوجوانوں  کو نقلِ مکانی پر مجبور ہونا پڑتا ہے اور بیروزگار ی کا مسئلہ سیاسی موضوع بھی بنتا رہاہے اس لئے اس بار نتیش کمار بھی تعلیم اور صحت کے ساتھ ساتھ صنعت پر قدرے زیادہ زور دے رہے ہیں  تاکہ نقل مکانی کی شرح میں  کمی واقع ہو سکے۔اس وقت نتیش کمار اپنے سمردھی یاترا کے دوسرے مرحلے میں  بھی خواتین کے لئے خصوصی مراعات کی وکالت کر رہے ہیں  اور مقامی انتظامیہ کو ہدایت بھی دے رہے ہیں  کہ خواتین کو خود مختار بنانے کے لئے تمام تر سرکاری اسکیموں  میں  اولیت دی جانی چاہئے تاکہ گائوں  دیہات کی خواتین معاشی اعتبار سے مستحکم ہو سکیں ۔اب دیکھنا یہ ہے کہ اس عام بجٹ کے بعد ریاست بہار میں  کس طرح چھوٹے بڑے صنعتوں  کو فروغ دینے کے اقدامات کئے جاتے ہیں  یا صرف اعلانات تک ہی محدود رہیں  گے۔کیوں  کہ بہارمیں  سب سے بڑی ضرورت بند چینی ملوں  کو شروع کرنا ہے کہ اس سے زراعت پر مبنی روزگار کے شعبے میں  نئے مواقع پیدا ہوں  گے اوربہار سے جو لاکھوں  مزدور دوسری ریاستوں  کا رخ کرتے ہیں  ان کی نقل مکانی بھی کم ہوگی ساتھ ہی ساتھ متوسط طبقے کے پڑھے لکھے بیروزگاروں  کو روزگار ملنے کے راستے ہموار ہوں  گے کہ بہار میں  اس وقت بیروزگاری کے مسائل کو دور کرنا ایک بڑا چیلنج ہے ۔
bihar Tags

متعلقہ خبریں

This website uses cookie or similar technologies, to enhance your browsing experience and provide personalised recommendations. By continuing to use our website, you agree to our Privacy Policy and Cookie Policy. OK